عربیکی ایک کتاب میں ایک واقعہ لکھا تھا جس کا ترجمہ پیش ہے۔ایک بڑھیا نے ایک بکری پال رکھی تھی۔وہ بکری اسے اپنی اولاد کی طرح عزیزتھی۔ ایک دن وہ بڑھیاجنگل سے لکڑی لینے گئی تووہاںطایک نومولود بھیڑیے کا بچہ ملا جوبھوک کی شدت سے بے چین تھااور قریب تھا کہ اگروہ بھوک کی شدت سے نہ بھی مرتاتوکوئی اور جنگلی جانوراسے چیر پھاڑکرکھ
جاتا۔بڑھیا کواس پر بہت ترس آیااوراسےاٹھاکرگھرلےآئیباور اپنی بکری کا دودھ پلایاپھروہ بچہ وہیں پلنے لگایہاں تک کہ جسمانی اعتبار سے اپنی مضبوطی کو پہنچ گیا۔ 

ایک دن صبح جب بڑھیااپنی بکری کوچارہ ڈالنےگئی تواسے وہاں نہ پایاپریشان ہوگئی اور ڈھونڈنےکےلئے باہرنکل گئی تو کچھ دیر تلاش کے بعدمعلوم ہواکہ جس بھیڑیےکواس نے پالا تھا وہی اسے کھا کر بھاگ گیا۔بڑھیا یہ جان کر نہایت غم کی حالت میں خود سےگویاہوئی کہ کاش میں یہ بات تمجھ لیتی کہ خصلت نہیں بدلتی اور اسی خصلت ہی کی وجہ سے بھیڑیے نے اس بکری کوبھی نہ چھوڑا جس کے دودھ پر وہ پلا تھا۔
ایسےکئی لوگ موجود ہیں جو اپنی خصلت سے اس قدر مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے فائدے کے لیے کسی کے ساتھ بھی ہاتھ کر جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اپنی بوٹی کی خاطر دوسرے کا بکرا بھی ذبح کرنے سےگریزنہیں کرتا۔ اب تو لوگ معصوم اور سادہ زندگیوں سے کھیلنے میں بھی دریغ نہیں کرتے۔ علم و شعور اور دین اسلام کی مضبوطی اور اس کے شعار کو اپنانا وہ واحد نعمت خداوندی ہے جس کے ذریعے نہ صرف ایسے بھیڑیا صفت لوگوں کا ادراک کیا جا سکتا ہے بلکہ ان سے بچاو کی تدابیر بھی اختیار کی جا سکتی ہیں۔ اللہ تبارک تعالی ہم سب کو ایسے لوگوں سے محفوظ فرمائیں اور اپنے حفظ و امان میں رکھیں، 

Facebook Comments