میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چلنا وہ سکھاتی ہے
اندھیروں سے ہر پل مجھے وہ بچاتی ہے
کبھی تنگ نظروں سےکبھی پست ذہنوں سے
مجھے وہ چھپاتی ہے
میری ماں کم نہیں ہے باپ سے

خود بھوکا رہ کہ مجھے وہ کھلاتی ہے
خود سب سہہ کے مجھے وہ سہلاتی ہے
میری راہنما میری راہبر وہ کہلاتی ہے
میری ماں کم نہیں ہے باپ سے

اپنی خواہشیں مٹا کے میری ہر اک خواہش
وہ پورا کرتی ہے
خود رو کہ مجھے وہ ہنساتی ہے
میری ذرا سی تکلیف پہ ہزار اشک وہ بہاتی ہے
میری ماں کم نہیں ہے باپ سے

اس کی ذرا سی ڈانٹ مجھے خفا کر دیتی ہے
میری ہزار نادانیاں وہ ہنس کہ ٹال دیتی ہے
میرا ہر اک دکھ درد کی وہ ساتھی ہے
میری ماں کم نہیں ہے باپ سے

دنیا سے ہر لمحہ وہ ڈرتی رہتی ہے
میری خاطر پر وہ زمانے بھر سے لڑ جاتی ہے
میری خوشیوں کی خاطر اپنا آپ وار دیتی ہے
میری ماں کم نہیں ہے باپ سے

میری ہر بات پہ اس کی نظر رہتی ہے
میری اسے مجھ سے زیادہ فکر جو رہتی ہے
گر روٹھ جائے وہ مجھ سے خدا بھی
روٹھ جاتا ہے
میری ماں بےشک خدا نہیں ہے پر خدا کا
عکس وہ رکھتی ہے

 

Facebook Comments