ایڈز ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اور جسم میں جا کر متاثرہ شخص کے دفاعی نظام کو ختم کر دیتی ہے۔ ایڈز کی بیماری متاثرہ انسان سے دوسرے فرد کو غیر محفوظ جنسی تعلقات، انجکشن کا ایک سے زیادہ یا بار بار استعمال یا انفیکشن والے خون کے جسم میں داخل ہو نے سے ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق ایڈز کا مرض دنیا بھر میں صحت کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے اب تک تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ 1980 ءکی دہائی میں منظر عام پر آنے والی اس مہلک بیماری سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کے لحاظ سے عالمی ادارہ صحت کے مطابق چار میں سے ایک شخص ایڈز میں مبتلا ہوتا ہے اور اسے اپنی بیماری کا علم تک نہیں ہوتا ہے،کہ وہ اس مہلک مرض کا شکار ہو چکا ہے اور وہ دوسرے افراد میں یہ مہلک وائرس منتقل کر سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی بہت سارے افراد ایڈز کی بیماری کے ساتھ معاشرے میں گھوم رہے ہیں جو اپنے ارد گرد صحت مند لوگوں تک اس مرض کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو ابھی حمل میں ہیں۔
نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام( این اے سی پی) کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب ایچ آئی وی پا زیٹو کے مریض موجود ہیں جبکہ ان میں سے25 ہزار این اے سی پی میں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے پندرہ ہزار سے زائد کا اینٹی ریٹرو وائرل علاج کیاجا رہا ہے۔
کے پی کے ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے میں ایڈز کے شکار افراد کی تعداد4266 ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد پانچ ہزار سے زائد اور صوبہ سندھ میں56 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً20,000 اضافی لوگ ایڈز کے موذی مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ جس کوخطے کے تمام مما لک کے مقابلے میں بیماری کا تیز ترین اضافہ قرار دیا جارہا ہے۔
ایچ آئی وی اس وائرس کو کہتے ہیں جو ایڈز کا ذمہ دار ہوتا ہے جبکہ ایڈز ایچ آئی وی انفکیشن کی وہ آخری اسٹیج ہوتی ہے ،جس مرحلے پر ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثرہ فرد کی قوت مدافعت بے حد کمزور ہو جاتی ہے اور اس میں کینسر یا دیگر جان لیوا بیماریوں سے لڑنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے اور پھر مریض کو اگر مناسب اور بر وقت علاج نہ مل سکے تو ایچ آئی وی سے متاثرہ فرد چند سالوں میں ہی انفیکشن کی آخری اسٹیج جسے ایڈز کہتے ہیں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ لازمی نہیں ہے کہ ہر ایچ آئی وی پازیٹو فرد کو ایڈز کا مرض ہو جائے۔ اس انفیکشن کے شروع ہوتے ہی مناسب علاج اور دیکھ بھال سے ایڈز کے ممکنہ خطرات اور کسی دوسرے شخص میں اس کے جراثیم کی منتقلی کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ایک طویل عرصے تک ایک غلط تصور یہ تھا کہ ایڈز تھوک اور متاثرہ مریض کی جلد سے یعنی انہیں چھو لینے سے بھی پھیل جاتا ہے مگر در حقیقت ایچ آئی وی وائرس عام میل جول سے، کسی متاثرہ شخص کے قریب ہونے ، بات کرنے، چھونے یا اس کی استعمال کردہ چیزوں کو ہاتھ لگانے سے دوسرے فرد کے جسم میں داخل نہیں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی ہوا میں سانس لینے، معانقہ کرنے، بوسہ لینے یا ہاتھ ملانے سے ، ایک دوسرے کے کھانے کے برتن استعمال کرنے یا ایک ساتھ کھانا کھانے سے ، ایک ہی بیت الخلا اور نہانے کے لئے ایک ہی شاور استعمال کرنے، مچھر کے کاٹنے سے، تیمارداری کرنے سے یہ وائرس متاثرہ فرد سے دوسرے انسان کے جسم میں منتقل نہیں ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً47 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے جسم میں موجود خون میں ایچ آئی وی اتنی کم مقدار میں موجود ہوتا ہے کہ اس کی خون کی جانچ میں تشخیص بھی نہیں ہو پاتی ہے ۔ اور اس صورتحال میں جب یہ لوگ صحت مند لوگوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرتے ہیں تو ان میں بھی یہ وائرس منتقل نہیں ہوتا ہے مگر اگر یہ مریض اپنا علاج بند کر دیں تو پھر دوبارہ سے ان میں ایچ آئی وی کا لیول بڑھ جاتا ہے۔
ایڈز کا مرض ایچ آئی وی وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو ختم کر دیتا ہے اور پھر اس وائرس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری متاثرہ فرد کے جسم میں داخل ہوتی ہے وہ نہایت سنگین اور مہلک صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ ایچ آئی وی وائرس زیادہ ترخون اور جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم کی دوسری رطوبتوں مثلاً پیشاب، پاخانے، آنسو،، تھوک اور پسینے میں بھی موجود ہو سکتا ہے مگر یہ سب رطوبتیں ایڈز کے پھیلاؤں کا باعث نہیں بنتی ہیں بلکہ یہ صرف خون اور جنسی رطوبتوں کے ذریعے ہی پھیلتا ہے۔ ایچ آئی وی وائرس کسی بھی متاثرہ فرد سے اس کے جنسی ساتھی میں داخل ہو سکتا ہے مثلاً مرد سے عورت، عورت سے مرد، ہم جنس پرستوں میں ایک دوسرے سے اورایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ کسی بھی شخص کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے سے یہ منتقل ہو سکتا ہے۔ متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچوں میں منتقلی سے ، جب حاملہ عورت ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہو اور رحم مادر میں یہ وائر س بچے کو منتقل کر دے یا پیدائش کے دوران یا بچے کو ماں کا دودھ پلانے کے دوران ایسا ہو سکتا ہے ۔ وہ افراد جو جنسی امراض کا شکار ہوتے ہیں وہ ایچ آئی وی سے متاثرہ ہونے کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ چونکہ یہ وائرس مریض کے خون میں موجود رہتا ہے تو اگر کسی بیمار فرد کے جسم میں کسی ایڈز کے مرض میں مبتلا مریض کا خون داخل کیا جائے تو وہ بھی اس مہلک مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اسپتالوں میں موجود غیر تصدیق شدہ خون کی فروخت بھی اس مرض کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نشے کے وہ عادی افراد جو خود کو نشہ آور انجکشن لگانے کیلئے سرنج اور سوئیاں استعمال کرتے ہیں وہ بھی
آلودہ اور غیر محفوظ ہوتی ہیں اور ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال کرنے سے یہ مہلک وائرس ان کے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وائرس سے متاثرہ اوزار اور جلد میں چھبنے والے جیسے ناک اور کان چھیدنے کے دوران استعمال ہونے والے اوزار، جسم پر مختلف نقش و نقار بنوانے میں استعمال ہونے والی آلودہ سوئیاں، دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے جراثیم زدہ اوزار، حجام کے آلات اور ریزر اور اس کے علاوہ آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے گندے آلات سے یہ وائرس دوسرے فرد میں با آسانی منتقل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں ایک اعداد و شمار کے مطابق منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی انفیکشن کا خطرہ بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ متاثرہ سرنج کو بار بار استعمال کرتے ہیں اسی طرح غیر فطری اور غیر محفوظ جسمانی تعلقات دوسرا بڑا خطرہ ہے جبکہ آلودہ خون کی منتقلی کے عمل کے حوالے سے بھی بے حد خدشات موجود ہیں۔
ایڈز کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ایچ آئی وی وائرس انسانی جسم میں کئی مہینوں یا سالوں تک رہ سکتا ہے۔ متاثرہ شخص کے ایڈز کے جراثیم کی اینٹی باﺅڈیز اس سے متاثرہ ہونے کے چھ ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے میں بنتی ہیں۔ وائرس کے متاثرہ فرد کے جسم میں داخل ہونے کے تقریباً دو سے چھ ہفتوں کے دوران یا انفیکشن کے شروع میں زکام ہو سکتا ہے جسے اکثر اوقات معمولی زکام سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد مریض مہینوں یا سالوں تک بالکل صحت مند نظر آسکتا ہے مگرپھر بتدریج اس فرد میں مختلف جسما نی تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ متاثرہ فرد کے وزن میں تقریباً دس فیصد تک کمی ہو جاتی ہے۔ ایک مہینے سے زیادہ عرصے تک دستوں کی شکایت رہتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بخار کا ایک مہینے سے زائد عرصے تک برقرار رہنا، لمف نوڈ میں تبدیلی، سوتے میں پسینہ آنا، ، مستقل تھکاوٹ، سانس کی تکلیف ، سردرد کے ساتھ ساتھ چھاتی، کمر یا پیٹ پر سرخ رنگ کے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں۔ جن مریضوں میں یہ علامات ایک طویل عرصے تک محسوس ہوتی رہیں اور ساتھ میں، آنکھوں میں دھندلاہٹ، کھانسی اور سانس میں تنگی ،نمونیا یا جلد پھٹ جانے والی رسولیاں بننے لگیں تو وہ عام طور پر ایڈز کی بد ترین قسموں کا شکار ہوتے ہیں۔ پیٹ میں متعدد اقسام کے کیڑے، سوزش، دست، پیچش، گردوں، پھیپھڑوں اور جگر کی سوزش، خون کے سفید خلیات میں کمی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ ایڈز بن سکتا ہے اور ایڈز کے مرض کی وجہ سے یہ امراض جسم پر جلدی اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ایڈز کے مریض میں ایچ آئی و ی وائرس کی وجہ سے قوت مدافعت نہیں ہونے کی وجہ سے کوئی بھی بیماری کسی بھی وقت متاثرہ شخص پر غلبہ پا سکتی ہے جو اس کی موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
پاکستان میں ایڈز کے مرض کی صورتحال بے حد تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور پاکستان میں یہ مرض اتنی تیزی سے پھیلنے کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ عوام الناس میں اس خطرناک مرض سے لا علمی اور چشم پوشی ہے۔ مغربی ممالک میں ایڈز سے متاثرہ لوگ محفوظ طریقے استعمال کرتے ہیں جس کے باعث وہ مریض دوسرے افراد میں ایڈز جیسی موت کا وائرس منتقل نہیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سکریننگ کے مکمل اور کنٹرول نظام کی وجہ سے یڈز کے مریضوں کی فوری تشخیص ہو جاتی ہے اور پھر ایچ آئی وی وائرس دوسرے افراد کو پھیلنے سے روکنے کے ممکنہ اقدامات کئے جاتے ہیں۔
ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثرہ ہونے کی تصدیق صرف مریض کے خون کے تشخیصی ٹیسٹ کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔اگر کسی شخص کے خون میں یہ وائرس موجود ہو تو اسے ایچ آئی وی پا زیٹو کہا جاتا ہے۔ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب کسی شخص کو ایچ آئی وی منتقل ہو جائے تو چھ سے بارہ ہفتے تک تشخیصی ٹیسٹ میں اس کے کوئی بھی آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ لہذٰا اگر کوئی شخص حال ہی میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا شکار ہو ا ہو تو اس کے خون، پیشاب، یا تھوک کے تشخیصی ٹیسٹ کے مطابق وہ ایچ آئی وی نیگیٹوہے، لیکن اس کے باوجود وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتا ہے اور دوسرں کو بھی منتقل کر سکتا ہے ۔
ایچ آئی وی انفیکشن کے بارے میں غیر تصدیق شدہ باتوں پر کان نہ دھرتے ہوئے اور صرف مستند اور تصدیق شدہ باتوں پر عمل کرتے ہوئے ہمیں مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے۔ ایڈز سے بچاؤ کیلئے ہمیشہ اپنے شریک حیات تک ہی محدود رہنا چاہئے اور غیر ازدواجی جنسی بے راہ روی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے اور تمام جنسی امراض کی روک تھام کے لئے علاج کروانا چاہئے ۔
غیر ضرور ی ا نجکشن سے دور رہتے ہوئے، جس حد تک ممکن ہو گولیوں اور ادویات کا استعمال کر یں اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے انجکشن لگوانا نا گزیر ہے تو ہمیشہ صاف اور نئی سرنج کا استعمال کرنا چاہئے اور خون کی منتقلی صرف اسی صورت میں کروائیں جب ضروری ہو اور اس دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ خون ایڈز اور اسی طرح مختلف انفیکشن کے وائرس سے پاک ہو۔
اگر ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے فوری بعد علاج شروع نہیں کروایا جائے تو اس سے دیگر امراض جیسے ٹی بی ، بیکٹریل انفیکشن، کینسر اور سرسام جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے لئے تقریباً33 مراکز موجود ہیں جہاں ایڈز کے مریضوں کو مفت ٹیسٹ اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایچ آئی وی پازیٹو افراد کے لئے منتظم کردہ اینٹی ورئیرو وائرس علاج جسم کے اندر موجود وائرس کے پھیلنے میں مزاحمت کرتا ہے اور مریض کو ایک عام فرد کی طرح ہی زندگی کے اس معیار اور زندہ رہنے کے متوقع عرصہ حیات کو گزارنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس سے بھرپور اور مکمل طور پر مستفید ہونے ، نئے علاج پر موزوں طریقے سے عمل کرنا اور ڈاکٹر کی نگرانی بے حد ضروری ہے اور ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد اگر اینٹی رٹیرووائرل تھراپی کا مستقل استعمال رکھیں تو یہ وائرس قابو میں رہتا ہے اور دوسروں میں منتقل ہونے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان ادویات سے متاثرہ جسم میں اس وائرس کے کا پی بننے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی جیسے سگریٹ نوشی سے پرہیز، اچھی اور متوازن غذا اور مرض کے بارے میں مکمل معلومات کا حصول ہی ایڈز کے مناسب علاج کا ایک مناسب طریقہ ہے۔

Facebook Comments