ام مومینین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا(ام کلثوم)

وہ ہستیجو پاکیزہ اخلاق کی وجہ سےطاہرہلقبسےمشہورہوئیں۔ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد ام المومنین یعنی مومنوں کی ماں کہلائیں، وہ اماں خدیجة الکبری رضی اللہ عنہا بنت خویلد ہیں۔ آپ کی کنیت ام ہند تھی۔ ان کا نسب چار آبا ءکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ حضرت خدیجة الکبری رضی اللہ عنہا عام الفیل یعنی ہاتھیوں والے سال سے 15 سال پہلے پیدا ہوئیں۔
والد اور شوہر کی وفات کے بعد ان کے ذریعہ معاش یعنی تجارت کے لیے کوئی نگران مقرر نہ تھا۔ اپنے عزیزوں کو رقم دے کر مال کی تجارت کے لیے بھیجتی تھیں۔ ایک مرتبہ مال تجارت کی روانگی کے وقت جب کسی کی ضرورت پڑی، چونکہ آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں امین کے نام سے مشہور تھے تو حضرت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کا مال لے کر جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مال لے کر گئے اور اسی سال حضرت خدیجہ رضی اللہ کے مال کا نفع گزشتہ سال کے نفع سے دوگنا تھا۔
حضرت خدیجہ نہایت شریفانہ اخلاق کی مالک تھیں، اس لیے لوگ ان سے نکاح کے خواہاں تھے لیکن اماں خدیجہ حرم نبوت ہوکر ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں۔ ان کا نکاح ہوا جس میں مہر 500 طلائی درہم مقرر ہوا۔ اس وقت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی۔ جب امت کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اور ام المومنین کو اس کی خبر دی تو سب سے پہلے وہ ایمان لے آئیں۔
نبوت سے پہلے نماز فرض نہ تھی لیکن آقائے نامدار جب نوافل ادا فرماتے تو ام المومنین ان کے ساتھ شامل ہوجاتیں۔ ام المومنین نے صرف نبوت کی تصدیق کر کے بات ختم نہ کی بلکہ انہوں نے ہر قدم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اور وہ مدد مالی بھی تھی اور جب کفار طرح طرح سے تکالیف دیتے تب بھی ایک بہترین ساتھی کی طرح دلجوئی فرماتی تھیں اور کسی وقت ان کا ساتھ نہ چھوڑتی تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ان ہی کے بطن مبارک سے ہوئی یہ اعزاز بھی ام المومنین حضرت خدیجہ کے حصے میں آیا۔ پہلی بیوی بننے کا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا اور ان کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہ فرما کر یہ اعزاز بھی اماں خدیجہ کے حصے میں ڈالا۔ ان کی وفات 11 رمضان 10 ہجری میں ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خود قبر مبارک میں اتار کر دفن فرمایا اور آپ کی قبر مبارک حجون میں ہے۔ اس سال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غم کا سال قرار دیا۔

Facebook Comments