تحریک انصاف کی حکومت کو آئے اب تقریباً نو ماہ ہو چکے۔ حکومت وقت کے پاس اب ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی داستان سنانے کی سہولت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ کرپشن کے مسلسل بلاثبوت بیانیے کی گردان سے اب عوام بور ہوتے جا رہے ہیں۔ اربوں، کھربوں کے غبن کی افسانوی داستانیں اب یکسانیت کا شکار ہو چکیں، لوگ سیاسی بیانیے کے علاوہ کارکردگی دیکھناچاہتے ہیں۔ عوام کوجو تبدیلی کے سہانے خواب دکھائے گئے تھے، لوگوں کی آنکھیں ان کی تعبیر کے انتظار میں ترس گئی ہیں۔ لوگ اپنی تقدیر کے تبدیل ہونے کے منتظر ہیں، مگر یہاں تماشا یہ ہے کہ تقدیر تو کیا تقریر بھی تبدیل نہیںہورہی ہے۔ عوام دن بدن بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان حکمرانوں کے ہاتھ کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ وزیر و مشیر عوام کو مسائل کے تدارک کی خوشخبری سنانے کے بجائے چیخیں نکلونے کے درپے ہیں۔ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے عوام پر پٹرول بم گرادیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سیدھا سادہ مطلب عوام الناس کی زندگی کو مزید مشکل بناناہے۔ یہ امر قابلِ افسوس ہی نہیں باعثِ تشویش بھی ہے کہ ہمارے ہاں پٹرول، گیس، پانی، بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی سروسز کے نرخوں میں جس انداز سے اچانک رد و بدل ہوتا ہے۔ اُس کے باعث کم آمدنی والے طبقوں کے لیے خاص طور پر یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ اپنے اخراجات کی مناسب منصوبہ بندی کر سکیں۔

دنیا کے بیشتر ملکوں میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حکومتیں عوام کو تمام ممکن سہولتیں مہیا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے گراں فروشی اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوسط طبقے کے لیے خاص طور پر انتہائی پریشان کن ہے، پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافہ ہو گیا ہے۔ جس سے مسافروں کے علاوہ اشیائے خور و نوش کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت کو رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر اِس فیصلے پر اعتدال کی حدوں کے اندر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی تبدیلی کی امیدیں ٹوٹنے لگی ہیں، اشرافیہ کی عیش اور غریب امتحان میں ہے۔ حکمران گزشتہ حکومتوں پر ملبہ ڈال کر عوام کو مزید قربانی دینے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں، سیاسی قیادت کا کام اقتدار کے مزے لوٹنا اور عوام کا نصیب قربانی دینا ہے۔ اسی لیے یکمشت پٹرول کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ کیا جارہاہے۔ اس اضافے سے قبل وہی گھسی پٹی کہانی دہرائی گئی کہ تیل و گیس کی قیمتوں میںکو کنٹرول کرنے والے سرکاری ادارے اوگرا نے حکومت کو 14 روپے فی لیٹر تک اضافے کی سفارش کی تھی، مگر حکومت نے عوام پر رحم کھاتے ہوئے صرف 9 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس کی حتمی منظوری وزیر اعظم دیں گے جو ممکن ہے عوام پر رحم کھاتے ہوئے دو تین روپے کم کردیں۔ ہر ماہ یہی ڈراما ہوتا ہے کہ اوگرا انتہائی زیادہ اضافے کی سفارش کرتا ہے اور حکومت عوام کی بھلائی میں اس سفارش کو مسترد کرتے ہوئے سفارش کردہ رقم کے نصف تک اضافہ کردیتی ہے۔ ایک بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی کہ اوگرا کا کردار کیا ہے۔ اس کا جو کردار اب تک سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ تیل اور گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے کی سفارش کرناہے۔ اصولی طور پر یہ سرکاری ادارہ ہے اور عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ادارے کو دیکھنا چاہیے کہ تیل فروخت کرنے والی کمپنیاں کس طرح سے عوام سے لوٹ مار کررہی ہیں۔

حکومت اسپاٹ ریٹ پر پٹرول اور گیس کی خریداری کے معاہدے نہیں کرتی بلکہ یہ طویل المدتی معاہدے ہوتے ہیں جن میں ایک معین مدت تک قیمتیں منجمد ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مدت تک قیمتیں معاہدے کے تحت منجمد ہیں، اس عرصے تک ملک میں بھی پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہونا چاہیے، چاہے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کسی بھی درجے پر جا پہنچیں۔ ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہر ماہ اور کبھی کبھی ایک ماہ میں دو مرتبہ پٹرول کی قیمت بڑھادی جاتی ہے اور اس کا جواز بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے بڑھتے نرخ کو پیش کیا جاتا ہے۔ عوامی نمائندہ کوئی سوال نہیں کرتا کہ حکومت سیاہ و سفید میں بتائے کہ اس نے کس قیمت پر پٹرول، گیس خریدنے کا معاہدہ کیا اور یہ معاہدہ کتنے عرصے تک کے لیے ہے۔ یہ معاہدہ جتنے عرصے تک قابل عمل ہے، اتنے عرصے تک تیل و گیس کی قیمتوں میں ردو بدل قانونی طور پر جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں روز اضافہ کردیا جاتا ہے مگر حقائق کوئی عوام کو بتانے پر راضی نہیں ہے۔ اس سب کے بارے میں دریافت کیا جائے توکہا جاتا ہے کہ کاروباری معاہدے میں رازداری کی شرط ہے۔رازداری کی یہ کون سی ایسی شرط ہے کہ جس کے تحت عوام سے جتنی چاہے قیمت وصول کی جائے ۔ پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے سیلز ٹیکس کی چوری کی خبریں عام سی بات ہیں، مگر حکومت کی اس جانب کوئی توجہ نہیں۔ کبھی کبھار کوئی خبر چھپ جاتی ہے، اس کے بعد بات کو دبا دیا جاتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اجلاس میں روبوٹ کی طرح وزراءشریک ہوتے ہیں، وزارت کی جانب سے ایک پریزنٹیشن دی جاتی ہے اور سب اس پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے رضامندی کا اظہارکرتے ہیں۔ عمران خان شروع سے اپنے آپ کو عوامی نمائندہ کہتے رہے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ حکومتوں میں عوامی مفادات کے خلاف فیصلے کیے گئے۔

عوام ان سے درخواست کریں گے کہ ایک مرتبہ وہ پٹرول کی قیمت متعین کرنے کا فارمولا عوام کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے صراحت سے بیان کردیں کہ فی لیٹر کیا اخراجات آتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتادیں کہ طویل مدتی معاہدے کے باوجود کیوں ہر ماہ پٹرول کی قیمت بڑھائی جاتی ہے اور اس کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے۔ اگر عمران خان ایسا کرگئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ انہوں نے عوامی نمائندگی کے جو بھی دعوے کیے تھے وہ درست تھے اور وہ سات پردوں میں چھپی ایک مافیا کو بے نقاب کرگئے۔ اس کے ساتھ ہی اوگرا کے کردار پر بھی نظر ثانی کی جائے اور اوگرا میں ایسے افسران کا تقرر کیا جائے جو پٹرولیم کمپنی کی نمائندگی کے بجائے اپنے آپ کو پاکستانی عوام کے مفادات کا نگہبان سمجھیں۔ اوگرا کے

افسران کے ساتھ ساتھ وزارت پٹرولیم کے سیکریٹری اور دیگر افسران کے ملک میں اور بیرون ملک اثاثے بھی منظر عام پر لائے جائیں۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ نو ماہ گزر جانے کے باوجود ملکی معیشت میں کسی بہتری کے بجائے مسلسل ابتری رونما ہوئی ہے۔ مہنگائی میں دن دونا رات چوگنا اضافہ جاری ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ ہولناک رفتار سے بڑھ رہا ہے، دوست ممالک سے ملنے والی مالی معاونت کے کوئی مثبت اثرات معاشی صورت حال پر مرتب نہیں ہو سکے ہیں۔ پاکستانی کرنسی کی بے قدری تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے جبکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے اقدامات بے نتیجہ نظر آتے ہیں۔

اس عرصے میں معاشی اصلاحات کے دعوے تو برابر کیے جاتے رہے، قوم کو صبر کے ساتھ ان کے میٹھے پھل کا انتظار کرنے کی تلقین بھی جاری رہی اور معاشی ابتری کا واحد سبب پچھلی حکومتوں کی بدعنوانیوں اور ناقص پالیسیوں کو قرار دیا جاتا رہا لیکن پچھلے دو ہفتوں کے اندر پہلے وزیر خزانہ پھر گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کی برطرفی سے واضح ہے کہ وزیراعظم بذاتِ خود سمجھتے ہیں کہ نو ماہ کے دوران کام کرنے والی ان کی معاشی ٹیم ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے میں قطعی ناکام رہی ہے، لہٰذا اس کے تمام ستونوں کا بدلا جانا ضروری ہے۔ امید ہے کہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے سربراہوں سمیت معاشی ٹیم میں اب ایسے افراد کو شامل کیا جائے گا جن کی ماضی کی کارکردگی واضح طور پر تسلی بخش ہو۔ جو نئی سوچ کے ساتھ بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے اہل اور زبوں حال معیشت کو تیزی سے بہتر بنانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہوں تاکہ ملک وعوام کو جلد از جلد مشکل حالات سے باہر نکالا جا سکے۔

Facebook Comments