بیٹی (طاہر محمود)

بیٹا کھانا کھانا کھا کے آپ کو میں لے جاتا ہوں بازار آپ اپنی کتابیں بھی لے لینا اور میں اپنی دوائی بھی لے لوں گا۔ ”ٹھیک ہے ابو جی! لیکن میں آئس کریم بھی لوں گی“۔ ”ٹھیک ہے بیٹی اپنے لیے بھی لے لینا اور ماں کے لیے بھی لے آنا“، شکور احمد نے مسکرا کر کہا۔ ”نہ جی میں نہ کھاتی ایسی کوئی چیز آپ کو تو بیٹی کے جہیز کی ذرا فکر نہیں اور بس فضول خرچی کی پڑی ہے۔ اب اس کی کتابیں لینے کی کیا ضرورت ہے۔ آٹھ جماعتیں تو پڑھ لی ہیں اس نے اور کتنا پیسہ ضائع کرو گے۔”او بھلیئے لو کے تجھے یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ جتنا لڑکوں کا پڑھنا ضروری ہے لڑکیوں کا پڑھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے“، شکور احمد بہت متانت سے بولے۔

بھلا لڑکی سے آپ نے نوکری کروانی ہے؟ کمائی کھائیں گے آپ بیٹی کی؟ ایسا سوچنے سے پہلے میں مر نا جاواں۔ میں تو کبھی نہ برداشت کروں گی یہ۔ عائشہ کی امی ابھی مزید کچھ کہتیں کہ عائشہ بول پڑی، ”امی یہ ہمارے نبیﷺ کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، تو پھر میں کیوں حاصل نہ کروں اور اگر میں کما کر آپ لوگوں کی خدمت کروں گی تو اس میں میری خوشی بھی ہے اور ثواب بھی۔ علم ہی تو انسان کو انسان بناتا ہے“۔

نہ بابا نہ یہ بے حیائی مجھے بالکل پسند نہیں۔ تمھارے ابا کو تو پروا نہیں اپنی عزت کی پر مجھے تو ہے اور جس کلاس تک اپنے گاوں میں اسکول تھا میں نے تجھے پڑھنے دیا اب میں نہ جانے دوں گی تجھے دوسرے گاوں“۔امی کی یہ باتیں عائشہ کی آنکھوں میں آنسو لے آئیں کہ آخر ایسا لڑکیوں کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔ امی کو میری شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ میں نوکری کیوں نہیں کر سکتی؟ میں آگے کیوں نہیں پڑھ سکتی؟ میں گاوں سے باہر کیوں نہیں جا سکتی؟ کیا لڑکی کی کمائی کھانے سے ماں باپ کی عزت میں کمی آتی ہے؟ ہر میرے ہر اچھے کام سے بھی کسی کی عزت نہیں بڑھتی تو کیا میں صرف بے عزتی کا سبب ہوں۔ یہ سوال بڑھتے جا رہے تھے اور بہنے والے آنسو بھی کہ حوا کی آج بھی کتنی مجبور اور لاچار ہے۔

Facebook Comments