شُکر ادا نہ کرنا بھی ایک بیماری ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی تما م مخلوقات میں یہ بیماری سب سےزیادہانسان میں پائی جاتی ہے۔قرآن کریم میں سورۃ
العدیت میں  ہانپتے  ہوئے
گھوڑوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ ”انسا ن اپنے رب کا بڑا
ناشُکرا ہے“۔ لفظ شُکر عربی زبان کے لفظ دابة الشکور سے نکلا ہے۔ دابة الشکور اس جانور کو کہتے ہیں جو اپنے صحت مند ہونے کی و جہ سے اپنے ما لک کا شُکرگزار ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں گھوڑوں کو جنگ کے لیے استعما ل کیا جاتا تھا۔ گھوڑا اگرچہ بہت طاقت ور جانور ہے لیکن پھر بھی اﷲ کے حکم سے انسان کے تابع اور اس کا فرماں بردار ہے۔ انسان صرف اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور وہ انسان کے اس احسان کا بدلہ چکانے کی خاطر اپنی جا ن خطرے میں ڈال کر جنگ میں اپنے مالک کی حفاظت کرتا ہے۔ جب کہ انسا ن کا حال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے نعمتوں کا ایک جہان آباد کر رکھا ہے پھر بھی وہ اپنے رویے سے اﷲ کی نعمتوں کا اعتراف کرنے کی بجائے اس سے گلہ شکوہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ شکوہ، شُکر کی ضد ہے اور گلہ شکوہ چاہے خالق کا کیا جائے یا اس کی مخلوق کا، دونوں صورتوں میں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
اﷲ تعا لیٰ کا انسا ن پر سب سے بڑا احسان اور اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی ہدایت کے لیے انبیاءاور پیغمبر بھیج کر نہ صرف انسان کی رہنمائی کے لیے عملی نمونہ پیش کیا بلکہ آسمانی کتب کے ذریعے ہدایت کی اس روشنی کو کئی اُمّتوں اور نسلوں کے لیے محفوظ بھی کردیا۔ لیکن انسانوں میں سے بعض نے اﷲ کے پیغمبروں اور کتب کو جھٹلا کر اﷲ کی اس نعمت پر ناشُکری کا ارتکاب کیا۔ بنی اسرائیل کی قوم، جسے اﷲ تعالیٰ نے تما م قوموں پر فضیلت عطا فرمائی اور دنیاوی اور دینی ترقی سے نوازا، پھر بھی وہ اﷲ کی نعمتوں سے انکار اور ناشُکری کرتے ہوئے بداخلاقی اور ناسمجھی کا ثبوت دیتی رہی۔ اس کے اسی رویے کی وجہ سے اس پر مختلف آزمائشیں آئیں اور وہ زوال کا شکار ہوئی۔
آج اگر ہم مسلمانوں پر نظر ڈالی جا ئے تو ہمارا رویہ بھی بنی اسرائیل سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تمام نبیوں کے سردار حضرت محمدﷺ کا اُمّتی بنا کر بھیجا اور ہماری رہنمائی کے لیے ایک محفوظ اور مکمل کتاب بھیجی۔ اﷲکی اس نعمت پر ہم زبان سے تو شُکر ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے رویے اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اﷲکی اس نعمت کی ناشکری ہم نے یوں کی کہ ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکے۔ ہم نے اﷲکی کتاب کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے اسے محض خاص مواقع میں کھولنے والی کتاب سمجھ لیا ہے۔ ہم قرآن کی عزت وتکریم کرتے ہوئے اسے اپنے گھروں میں سب سے اونچی جگہ پر تو رکھتے ہیں لیکن نہ اسے سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس کی تعلیمات پر عمل کر پاتے ہیں۔ ہم دنیاوی تعلیم کو ترجیحی جب کہ قرآنی تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں، جو اس نعمت سے ناشکری کا ثبوت ہے۔
ناشکری کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ جس رب نے ہمیں دنیا کی نعمتوں سے نوازا ہے ہم اس سے غافل رہیں۔ اﷲ کی عطاکردہ ان گنت نعمتوں کو ہم میں سے کوئی بھی شمار نہیں کرسکتا پھر بھی ہمیں اس کے سامنے سجدہ ¿ شُکر کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ ہم لوگوں کے احسانوں اور مہربانیوں کو تو کسی حد تک یاد رکھتے ہیں لیکن اپنے رب کی مہربانیاں بھلا کر اس کی طرف سے ملنے والی آزمائشوں پر گلے شکوے کرتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں۔ نعمت، شکر کا امتحان ہوتی ہے۔ ہر نعمت اپنے ساتھ آزمائش کا پہلو ضرور رکھتی ہے۔ جب ہم اﷲ کی عطاکردہ نعمتوں پر شکر ادا نہیں کر پاتے تو بعض دفعہ نعمت پیچھے چلی جاتی ہے اور آزمائش سامنے آجا تی ہے۔ ایسے موقعوں پر ہمیں مایوسی اور اﷲ سے گلے شکوے کرنے کے بجائے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔ ایک مومن کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ نعمت پر شکر ادا کر تا ہے اور نہ ملے تو صبر کر کے جتنا اﷲنے دیا ہے، اس پر قنا عت کرتا ہے۔ جب کہ ہم شکر اس لیے نہیں ادا کر پاتے کہ ہمارا ظرف چھوٹا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹے برتن میں کم چیزیں سما سکتی ہیں، اسی طرح چھوٹے ظرف والے انسان میں بھی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ جب ہی وہ اﷲ کی تمام نعمتیں بھلا کر مشکل میں گلے شکوے کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا شکرگزار بننے کے لیے ہمیں اپنا ظرف بڑا کرنا ہوگا۔ اگر ہم مشکلات کے وقت اپنے اردگرد خود سے زیادہ مصیبت زدہ لوگوں پر نظر رکھیں تو یقیناً اﷲکی عطاکردہ نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرسکیں گے۔

Facebook Comments