ماہ صیام اور ہماری غفلت (روبینہ عبد القدیر)

رمضان المبارک کی آمد پر ہم ہر سال یہ نیت کرتے ہیں کہ اس رمضان ہم نیکیاں کریں گے۔ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے، روزے رکھیں گے، تراویح پڑھیں گے۔ رمضان المبارک کے آغاز میں یہ جذبہ عروج پر نظر آتا ہے لیکن جیسے ہی ایک دو دن یا ایک ہفتہ گزرتا ہے ہم سستی کا شکار ہوکر سابقہ روٹین پر واپس آجاتے ہیں۔ پھر آخری روزے والے دن افسوس کرتے نظرآتے ہیں کہ اس رمضان المبارک میں بھی صحیح سے عبادت نہ کرسکے۔ ہم اپنی سستی کے باعث اس کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ رمضان فقط تیس دن کا مہمان ہے۔ اپنی مقررہ مدت مکمل کرکے یہ ہمارے درمیان سے رخصت ہوجائے گا اور کیا معلوم کہ آئندہ سال ہم اس کے استقبال کے لیے موجود رہیں نہ رہیں ہم اسے غفلت کی نذر کردیتے ہیں۔

رمضان شروع ہونے میں ابھی چنددن باقی ہیں۔ اس دفعہ نیت کے ساتھ عمل کی کوشش بھی کریں۔ چلیں ایک کام کرتے ہیں۔ کسی کاپی یا ڈائری پر تحریر کر لیں کہ اس رمضان میں نے نیکی کے یہ یہ کام ہر حال میں کرنے ہیں۔۔ ہم نفلی تو چھوڑیں فرض عبادت میں بھی بہت کوتاہی کرتے ہیں۔ اب سب سے پہلے آپ فرض عبادات لکھیں کہ نماز کی ہر حال میں پابندی کرنی ہے۔ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنی ہے اور نماز پڑھنے سے جان نہیں چھڑانی، اس کے بعدروزے کی نیت کریں کہ کسی بھی حال میں، سخت سے سخت ترین گرمی میں بھی روزہ نہیں چھوڑنا۔

اکثراوقات ہم ذرا سی طبیعت خراب ہوجائے تو روزہ چھوڑ دیتے ہیں کہ قضاروزہ رکھ لیں گے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ اگر ہم بغیر کسی خاص عذر کے جان بوجھ کے روزہ چھوڑ دیں پھر ہم چاہے پوری زندگی روزے رکھتے رہیں اس فرض روزے جتنا اجر نہیں ملے گا۔ پھر نیت کریں تلاوت قرآن کی۔ اس رمضان آپ ہر گز یہ نیت نہ کریں کہ آپ دس قرآن ختم کریں گے یا بیس قرآن بلکہ یہ نیت کریں کہ اس ماہِ مبارک میں آپ قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گے۔ تلاوت کا بھی الگ اجر ہے لیکن سمجھ کر پڑھنے سے جو لذت ملتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ قرآن پاک کاپیغام جب تک سمجھ نہیں آئے گا ہم اس پر عمل کیسے کریں گے؟

اس کے بعد ہے زکوٰة۔۔ اگر آپ صاحب نصاب ہیں تواپنے مال کی زکوٰة ادا کیجیے۔ اپنے مال کو پاک کجیے۔ زکوة ہمیشہ مستحق لوگوں کو دیں۔ رمضان مبارک میں اللہ تعالیٰ ہر نیکی کا اجر بڑھا دیتے ہیں۔ کوشش کریں کہ کسی کو افطاری کروا دیں، کسی یتیم بچے کو صدقہ دے دیں۔ اس مہنگائی کے دور میں ہم لوگ سوچتے ہیں کہ ہم خود پیٹ بھر کے کھا لیں یہی غنیمت ہے کسی اور کو روزہ کیسے افطار کروائیں؟ اس ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت سلمان فارسیؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! ہم میں سے ہر کوئی اتنی حیثیت والا نہیں کہ کسی کو افطار کروائیں۔ تو پیارے نبیﷺ نے ارشادفرمایا، ”اللہ تعالیٰ یہ اجر اس شخص کو بھی دے گا جو کسی کو دودھ کی لسّی سے روزہ کھلوا دے یا ایک کھجور کھلا دے، یا ایک گھونٹ پانی کا پلا دے“۔ (شعب الایمان، البہیقی ،معارف الحدیث)

اس رمضان تراویح پڑھنے کی نیت کریں۔۔ افطاری کے بعد اتنی سستی ہو جاتی ہے کہ ہم مشکل سے عشاءکی نماز پڑھ پاتے ہیں۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ افطاری کم کھائیں۔ ایک دو کھجور، ایک گلاس پانی پی کر مغرب کی نماز ادا کریں۔ اوّابین کے نوافل پڑھ لیں، تھوڑی بہت تلاوت کر لیں۔ وقت کا پتا نہیں چلتا کہ عشاءہو جاتی ہے۔ پیٹ ہلکا ہوگا تو سکون سے نماز پڑھ سکیں گے۔ تراویح پڑھنے میں بھی لطف آئے گا۔ پھر تراویح سے فارغ ہونے کے بعد سکون سے پیٹ بھر کر کھانا کھائیں۔ تراویح کے بعد ویسے بھی بہت بھوک محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ ارادہ لکھیں کہ اس رمضان ہم نے تہجد کی عادت ڈالنی ہے۔ رو رو کے اللہ سے مانگیں، رمضان میں اللہ بہت زیادہ انعامات سے نوازتا ہے جتنا ہو سکے دل سے مانگیں۔ اس دفعہ عزم کریں کہ اپنی مغفرت کروانی ہے۔ ہر گناہ بخشوانا ہے ان شاءاللہ، اس مقدس مہینے کی ہر گھڑی ہر ساعت رحمتیں برکتیں برس رہی ہوتی ہیں۔

اللہ ہمیں ایک اور قیمتی موقع دے رہا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ کون جانے کب موت کا پروانہ آجائے۔ کیا خبر یہ رمضان جس میں کچھ ہی دن باقی ہیں یہ کسے نصیب ہو؟ کم از کم نیت کر لیں کیا پتا اللہ ہماری نیت دیکھ کر ہی ہمیں بخش دے۔ یہ اعمال وہ ہیں جو بہت ضروری ہیں ان پر ہر حال میں عمل کرنا ہے اور اس رمضان کو آپ نے سستی کی نذر نہیں کرنا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ، ”یہ وہ مہینہ ہے جس کے آغاز میں”رحمت“ ہے، وسط میں ”مغفرت“ ہے اور آخر میں ”جہنم سے نجات“ ہے (شعب الایمان، البہیقی ،معارف الحدیث)۔

Facebook Comments