“کیسا لگتا ہے جب کسی کے منہ سے اسمیل آتی ہے؟”
عزیزه آنٹی کا سوال سب بچوں کو سوچ کے ہی پریشان کر رہا تهاکسی کے چہرے پہ تعجب،کسی کے چہرے پر ناگواری مجهے تم سب کے منہ دیکھ کہ پتہ چل گیا کیا جواب ہے تم لوگوں کا..مگر جانتے ہو بچوں!!تمہارا رب بہت زیاده قدردان ہے.جب یہی اسمیل روزےدار کے منہ سے آتی ہے تو اسکو مشک کی خوشبو سے زیاده پسند ہوتی ہے
یہ ایک بڑی بلڈنگ تهی جس میں کئی فلیٹ تهے..بلڈنگ کے بچے ناعمہ باجی سے ناظره قرآن پڑهنے آتے تهے اور پهر مدرسے کا ٹائم ختم ہونے کے بعد عزیزه آنٹی جو کہ سارے محلے کی آنٹی تهیں،بچوں سے تهوڑی باتیں کرتی تهی.روز یہی ہوتا تها اور آج انکا موضوع روزه تها
“مگر آنٹی،ہم پر تو روزے فرض ہی نہیں ہیں،ہم کیا کریں؟؟”
کسی بچے نے سوال کیا..
“ہاں!میں یہی بتانے جا رہی ہوں..روزے فرض نہیں ہیں.نماز تو فرض ہے..اللہ نفل نماز کے ثواب کو      رمضان میں فرض کے برابر کرتا ہے اور فرض کے ثواب کو ستر گنا بڑهادیتا ہے..”
“ہم رمضان میں تلاوت بهی تو کرسکتے ہیں؟”
یہ رمشا تهی جس پر ابهی نماز فرض نہیں ہوئی تهی..
“بالکل! کیوں نہیں! اسکے علاوه ہم اپنے کان،آنکھ،زبان کو بهی روزه رکهوا سکتے ہیں”
“وه کیسے؟” بچے حیران ہوئے..
“بعض بچوں کو گانے بہت پسند ہوتے ہیں،گنگنانے میں بہت مزه آتا ہے.گانے سننا تو ویسے ہی گناه ہے. رمضان میں اس گناه سے بچو بچوں..مسلمان گانے نہیں سنتے..اللہ کو نہیں پسند.کانوں کو ہر غلط بات سننے سے بچاؤ..زبان کو جهوٹ اور غلط باتوں سے بچاؤ..آنکھ کو موبائل اور ٹی وی سے دور رکهو کیونکہ یہ سب اللہ سے دور کر دیتی ہیں.اور رمضان تو اللہ سے قریب ہونے کا مہینہ ہےعزیزه آنٹی پیار سے سمجها رہی تھی اور ہاتهوں سے کیا کریں؟” رمشا پهر بولی.وه بولتی ہوئی بہت اچهی لگتی تهی”
“ہاتهوں سے مما کی خدمت کریں.ان کا ہاتھ بٹائیں.ان کو تنگ نہ کریں. چهوٹے بهائی بہن کا کوئی کام ہے تو وه بهی کردیں. یہ سوچ کر کہ روزه ابهی فرض نہیں ہوا مگر اللہ میں آپکے روزے دار بندوں کی خدمت کر رہی ہوں.مجهے اسکا اجر بڑهاکر دیجئے گا رمشا کی سمجھ میں بات آگئی اور “مما سے کوئی ضد بهی نہیں کرنی.مدرسے ٹائم پر آنا ہے اور ناعمہ باجی کو بهی تنگ نہیں کرنا”
یہ ناعمہ باجی تهیں جو کمرے میں آئیں تهیں.ان کے آتے ہی بچے مسکرا دیے اور آنے والے رمضان میں نیکیاں کرنے،برائیاں چهوڑنے اور بہت ساری دعائیں یاد کرنے کا عظم لے کر اپنے گهروں کو چل دیئے۔

 

 

Facebook Comments