پاکستان میں تعلیمی انحطاط (محمد نعیم شہزاد)

عصر حاضر کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی معراج کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ طب، کمپیوٹر اور روبوٹکس میں سائنس کی ترقی اور کمالات یقیناً انسان کو کمال تک پہنچا چکے ہیں اور بقول حضرت اقبال

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

ہر آنے والا دن پہلے سے کہیں بڑھ کر اور مزید ترقی و سربلندی کے امکان لیے طلوع ہوتا ہے۔ مگر علوم و فنون کی اس دوڑ میں ہمارا وطن عزیز کس مقام پر ہے۔ ہم نے اس انقلابی دور میں اس تبدیلی میں کیا کردار ادا کیا یا اس کو کتنا قبول کیا۔ یہ وہ المناک حقیقت ہے جسے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ مگر محض آنسو بہانے سے بھی کبھی کچھ حاصل ہوا ہے؟ کچھ لمحات کے تدبر و تفکر سے کیا حاصل جو عمل کی طرف راغب نہ کرے۔حالات کا جائزہ لیں تو وقت متقاضی ہے کہ قومی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ شرح خواندگی کا غیر تسلی بخش گراف ہے۔ آخر کیا سبب ہے کہ تعلیم و تدریس کے ان گنت جدید وسائل ہونے کے باوجود شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ جب کہ ہر حکومت نے تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پالیسی سازی کی اور کئی ایک اقدامات اٹھائے، سرکاری اسکولوں میں داخلہ، کتب مفت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں اور بالخصوص بچیوں کے وظائف بھی مقرر کیے گئے۔ علاوہ ازیں مختلف منصوبہ جات کے تحت بعض نجی اداروں میں بھی بچوں کو داخل کر کے ان کے تعلیمی اخراجات حکومت نے اپنے ذمے لیے مگر کوئی مثبت تبدیلی رونما نہ ہوئی۔ غور طلب امر یہ ہے کہ وہ کون سے بنیادی اقدامات ہیں جو قومی سطح پر شرح خواندگی کو بہتر بنا سکیں اور معیار تعلیم کو بلند کرنے میں معاون ہوں۔

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہونے کے ناتے اور ایک ذمے دار پاکستانی کی حیثیت سے یہ مسئلہ میرا مسئلہ ہے، یہ پاکستان میں بسنے والے ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جس کے دل میں پاکستان کا درد ہے اور حب وطن اسے کچھ بڑا کر گزرنے پر ابھارتی ہے۔ بہت سے محبان وطن اپنے وطن میں تعلیم کی ناگفتہ بہ حالت پر کڑھتے ہیں مگر عمل کے بغیر اس درد کا درماں نہ ہوگا۔ عمل کے لیے فقط اخلاص، نیت اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ تو اگر ارباب اختیار و اقتدار حقیقتاً قومی سطح پر تعلیمی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو پر عزم ہو کر کام شروع کریں اور اپنے لیے واضح منصوبہ بندی ترتیب دے لیں۔ موجودہ حکومت کافی باصلاحیت ہے، دھرنے کے دنوں میں خان صاحب اکثر ایک سے زائد متبادل منصوبوں کی بات کرتے تھے کہ اگر پلان اے ناکام ہوا تو پلان بی اور اگر وہ بھی ناکام ہوا تو پلان سی۔ تو محترم وزیراعظم صاحب سے التماس ہے حساس نوعیت کے اس قومی مسئلے کے حل کے لیے بھی متبادل تجاویز زیر غور رکھیں اور یکبارگی پر عزم ہو کر عملدرآمد کا آغاز کر دیں۔

یہاں میں مختصراً چند بڑے مسائل اور ان کے حل کی بات کروں گا۔ اولین مسئلہ قومی زبان میں تعلیم دینا ہے۔ فطری طور پر انسان اپنے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے، انہی سیکھی جانے والی مہارتوں میں ایک اہم مہارت زبان بھی ہے۔ انسان جب بولنا شروع کرتا ہے تو یہی زبان اس کے لیے اظہارِ رائے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس زبان میں بات کرنا یا سمجھنا اسے بالکل دشوار نہیں لگتا۔ اسی لیے بچوں کو آن کی قومی اور مقامی زبان میں تعلیم دینے کا بندوبست کیا جائے تاکہ طالب علم اپنی مطلوبہ مہارتوں پر توجہ مرکوز کر سکے نہ کہ زباندانی اور اس کی پیچیدگیوں کے بھنور میں بہہ جائے۔ فی زمانہ بہت سے طالب علم صرف زبان کی مشکل کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکتے اور یوں قومی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر پاتے۔ حال ہی میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ کہ سرکاری اسکولوں میں پرائمری تک قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔

یہ اقدام بجائے خود غلط اور بدترین احساس کمتری پیدا کرنے کا باعث ہے۔ ایسا فیصلہ ضرور لیجیے مگر جہاں ہم یہ کوشش اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے اور ہونا بھی ضروری ہے تو یکساں ذریعہ تعلیم کیوں نہیں؟ تو دو باتیں بہت اہم معلوم ہوتی ہیں قومی زبان بطور ذریعہ تعلیم اور یکساں نظام تعلیم۔ تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ معیار تعلیم بہتر بنایا جائے۔ فنی علوم میں مہارتیں بڑھائی جائیں تاکہ ہنر مند افراد میں اضافہ ہو اور نتیجتاً بجائے کلرک پیدا کرنے کے اداروں سے ایسے ہنر مند پیدا ہوں جو نہ صرف خود کفیل ہوں بلکہ بجائے ملکی معیشت پر بوجھ بننے کے زر مبادلہ بھی کما سکیں۔

Facebook Comments