کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم کا گزشتہ دنوں اعلان کردیا گیا اور اس کااعلان چناؤ کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق نے کیا۔ انضمام الحق نے اپنی بلے بازی سے دنیا میں صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آج چناؤ کمیٹی کہ سربراہ ہیں۔ ناقدین کا کام ہے تنقید کرنا محمد عامر کو عالمی مقابلوں کے لیے منتخب کی گئی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا لیکن انہیں عالمی مقابلوں سے قبل انگلینڈ میں ہونے والی پانچ ایک روزہ میچوں کی سریز کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے اور انہیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ماحول سے اپنی مطابقت ثابت کریں اور اپنا قیام عالمی مقابلوں میں یقینی بنائیں۔ پہلی بات یہ کہ فیصلہ کرنے والوں کو قدرت کی جانب خصوصی صلاحیتیں دی جاتی ہیں بس اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بچنا اور ہواؤں کے رخ کو سمجھنا ان کو دی گئی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے ان پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ مشکل فیصلے کرنے کی نوبت ہی کیوں آتی ہے کیوں روایتی فیصلوں سے ہی کام نہیں چلایا جاتا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا چناؤ بہترین دستیاب کھلاڑیوں پر کیا گیا ہے اب کوئی مقابلوں کے دوران اپنی کارکردگی سے دنیاکوحیران کرے گا اور کوئی پاکستان کی چناؤ کمیٹی پر سوالیہ نشان بنے گا۔ یعنی ہر فیصلے کی اہمیت وقت ثابت کرتا ہے اور فیصلہ کرنے والے کی دوراندیشی اور معاملہ فہمی کی گواہی دیتا ہے۔ خصوصی طور پر ایسے فیصلے جن پر آپ کواپنی انا قربان کرنی پڑے لازمی قابل ستائش ہوتے ہیں۔
پاکستان کے حکمرانوں نے شاید ہی کبھی مشکل فیصلے کیے ہوں ۔ بجلی کے نرخ بڑھانے تھے بڑھا دیے، پیٹرول کی مد میں پیسے بڑھانے تھے بڑھادیے، یعنی جہاں جہاں ضرورت پڑتی گئی مہنگائی ہوتی چلی گئی، قرضے لینے تھے لے لیے۔ ایک طرف تو مہنگائی کی گئی تو دوسری طرف ٹیکس بڑھادیے گئے۔ قرض لیتے رہے اور معیشت کو چلانے اور مستحکم دکھانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے۔ ہمارے حکمران عیش و عشرت کے عادی ہیں، انتخابات کی مہم کے دوران کیے جانے والے جلسوں اور جلوسوں میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد اور اگر جیت گئے تو پھر تو کون اور میں کون کے فلسفے پر گامزن ہوجاتے ہیں، کسی غریب سے ہاتھ بھی ملا لیں تو سو سو بار دھونا پڑتا ہے۔ اگر کسی نے فیصلہ لیا بھی تو اس کے اثرات عوام پر اس کے جانے کے بعد آئے اور وہ بھی منفی۔ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ جانے والی حکومت نے جو کام کیے ان میں سے اکثر ملک کے مفاد میں تھے بلکہ یہی سنتے آرہے ہیں کہ جانے والی حکومت نے ملک کو دیوالیہ کر کے چھوڑا ہے۔ جب کہ ملک کو دیوالیہ کرنے والے بھی وہیں موجود ہوتے ہیں اور بلند و بانگ دعوے کرتے سنائی دیتے رہے ہیں۔ ملک دیوالیہ ہوتا رہا ہے اور حکمران دنیا کے خوشحال ترین لوگوں کی فہرست میں اوپر سے اوپر کھسکتے دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان میں بغیر کسی وجہ کہ کسی وزیر یا مشیر کو تبدیل کرنے کی روایت نہیں ہے، جس نے ایک دفعہ مسند سنبھال لی تو وہ حکومت کے خاتمے تک اس کرسی سے ہل نہیں سکتاسوائے اسکے کہ کسی لاقانونیت کا مرتکب ہوجائے۔ یہاں تو کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے والے کھلاڑی بھی اپنی جگہ کسی کو خوشی سے دینے کو تیار نہیں ہوتے ان کی بھی خواہش یہی ہوتی ہے جب تک ممکن ہوسکے ٹیم کا حصہ بنے رہیں۔ ہمارے ملک میں اہلیت کے اگر کوئی میعار ہیں تو انہیں پوشیدہ رکھا جاتا ہے کیوں کہ وقت اور حالات اہلیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ جب اہلیت کا پیمانہ واضح نہیں ہوگا تو کس طرح سے کسی کواہل یا نااہل قرار دیا جائے گا۔ جیساکہ یہ بات پہلے بھی زیر بحث آچکی ہے کہ موجودہ حکومت پیشہ ورانہ طرز پر کام کرنا چاہ رہی ہے، یعنی تمام وزراء اپنی کارگردگی کی بنیاد پر اپنی اپنی جگہ پر قائم رہ سکتے ہیں بصورت دیگر انہیں دوسروں کے لیے اپنی جگہیں چھوڑنی پڑیں گی یعنی ملک کی جیت کے لیے اپنی کرسی کی قربانی دینی پڑے گی اور اپنے نمبر پر کسی اور کو بلے بازی یا گیند بازی کے لیے بھیجنا پڑے گا اور اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ اپنی جگہ آنے والے کی دل سے حوصلہ افزائی بھی کریں گے۔ کہنے والے موجودہ حکومت کوطنزاً تبدیلی سرکار بھی کہتے ہیں (کیونکہ تحریک انصاف نے تبدیلی کا وعدہ کررکھاہے)۔ قابل احترام اسد عمر صاحب کے وزارتِ خزانہ کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے لوگوں کو دکھ ہوا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اسد عمر صاحب کے علاوہ خان صاحب کی ٹیم میں کوئی اور ایسا حساب کتاب والا کھلاڑی نہیں دیکھا جاسکتا اور ویسے بھی یہ صاحب اپنی محنت سے ایک کامیاب زندگی گزارتے آئے ہیں۔ اسد عمر صاحب کو وزارت سے ہٹانے کو اگر ہم صرف پیشہ ورانہ اصولوں پر پرکھیں تو نہ ہمیں دکھ ہوگا اور نہ ہی ہم کسی کے بہکاوے میں آئیں گے اور ہم پر یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ کسی بھی سازش کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس سارے معاملے پر شک وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہیں موجودہ حکومت اور وزیر اعظم پاکستان کی نیک نیتی پر شک ہو۔ تنقید کرنا بری بات نہیں ہے لیکن تنقید سے اصلاح کا پہلو نکلنا چاہیے نہ کہ صرف اپنا اور حکومت کا وقت ضائع کرنے کے بہانے تلاش کیے جائیں۔
وزارتوں کی یا اپنے کھلاڑیوں کی تبدیلی اس بات کی گواہی ہے کہ اب صرف وہی اقتدار کا حصہ بنے گا جو اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے عوام کی اور ملک کی خدمت کرکے دکھائے گا، نہ کہ محلاتی سازشوں کا حصہ بنے گا۔ ٹرین اگر پٹری سے اترجائے تو اسے کرین کی مدد سے مال گاڑی میں ڈال کر لے جاتے ہیں اور اس کی جگہ دوسری ٹرین آجاتی ہے لیکن اب کی بار پٹری سے اتری ہوئی ٹرین کو واپس پٹری پر لانا ہے نہ کہ نئی ٹرین کے لیے راستہ صاف کرنا ہے۔ ایسے کاموں میں مشکلات تو آتی ہیں لیکن ان سازشیں کرنے والوں سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے جو عرصہ دراز سے پاکستان کو کھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان ورلڈ کپ بھی جیت کر آئے گا اور حکومت وقت اپنے ممکنہ احداف بھی حاصل کرے گی انشاء اللہ کیونکہ مشکل فیصلوں پر قائم رہنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑے فیصلے کرنے والے قدرت کے خاص لوگ ہوتے ہیں۔

Facebook Comments