آج کی میری اس تحریر کا مقصد ایک تصویر ہے جسے دیکھ کر تمام مسلمانوں کے دل خون کے آنسو رو رہے ہو گئے۔یہ تصویر ایک مسلمان قیدی کی ہے جو بھارتی جیل میں قید تھا۔اس ہمارے مسلمان بھائی کے ساتھ اتنا ناروا سلوک کیا گیا کہ جیلر نے اس کے جسم پر گرم سلانگی سے ہندوستانی نشان اوم لکھ دیا۔بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔یہ تو آپ سب بھائی خوب جانتے ہو گے۔مثال عیدالاضحیٰ پر قربانی کرنیوالوں کی گرفتاری کا حکم دے کر بھارتی حکومت کا اصل روپ سامنے آیا ہے۔اسی طرح بھارت میں گائے جو کہ ایک جانور ہے اس کو ذبح کرنے کے جرم میں سینکڑوں مسلمانوں کی جان لے لی گئی ۔کیا ایک جانور کی جان انسان سے زیادہ ہے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما
ایک مسلمان کی جان کی حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے
اسی طرح بین الاقوامی تنظیم نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام،ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی حکومت کو ذمہ دار قراردیدیا۔بھارت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہیں ہے۔دراصل بھارتی حکومت ہی اپنے چیلوں اور چمچوں کے ذریعے یہ کام کروا رہی ہے ۔لیکن کوئی ایکشن ہی نہیں لیتا۔بھارت میں مسلمان نماز بھی ادا نہیں کر سکتے ۔مسلمانوں کی مسجد بابری کو شہید کر دیا گیا ۔
ان سب کے بعد آج ایک اور بیہودہ حرکت کی گئی کہ ہمارے ایک مسلمان بھائی کے جسم پر مذہبی لفظ اوم لکھ دیا گیا ۔یہ درحقیقت انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ہمارے پاکستان میں تو ایسا نہیں ہمارے آئین نے تو ہندو برادری سکھ برادری اور عیسائی مذہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی ہے۔لیکن بھارت جو جمہوریت کا ٹھیکیدار بنا پھرتا ہے۔وہاں مسلمانوں پر ظلم اس لیے ڈھائے جاتے ہیں کہ وہ اسلام کے پیروکار ہیں ۔اسی طرح ہماری ماؤں بہنو ں اور بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔اسی طرح کشمیر میں بچوں کی آنکھیں اڑائی جاتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں ۔ہماری کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کہ عزتیں لوٹی جاتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے ان کے دل اسلام کے لیے دھڑکتے ہیں.یہ ہی نہیں پھر بھارت کے حکمران ان پر سیاست کرتے ہیں ووٹ لیتے ہیں ۔یہ نریندر مودی جو اسلام دشمن ہے وہ اس پر ووٹ اکھٹے کرتا ہے ۔اب بھی الیکشن آ رہے ہیں انڈیا میں تو یہ ہمارے مسلمان بھائی کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ووٹ لے سکے ۔لیکن ہمارے مسلمان حکمرانوں نے کیا کردار ادا کیا کبھی نواز شریف آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اخلاقی مدد دے گئے ۔ہمارا ملک پاکستان جس کو اسلام کا قلعہ مانا جاتا ہے ۔پاکستان کے قیام کا۔مقصد کیا تھا نظریہ اسلام تھا ۔نظریہ اسلام تو ہمیں اس بات کی وضاحت کرتا ہے اگر کسی مسلمان کو تکلیف ہو تو دوسرے مسلمانوں کی اس پر مدد لازم ہے
شاعر مشرق حکیم امت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ نے کیا نظریہ کھینچا اس شعر میں:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کی ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمام دنیا کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہے
بھائیوں جسم کہ اگر ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔آج ہمارا کیا حال ہے کفار ہمارے بھائیوں کا قتل عام کر رہے ہیں کشمیر میں بھی قتل ہو رہا ہے بھارت کے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن ہم فرقہ واریت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ہم سب کو متحد ہو جانا چاہیے اور ہر سطح پر جتنا کر سکتے ہو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہو گی نہیں تو پھر دشمن ہم پر غالب آ جائے گا ۔ہمارے حکمران مدد تو کرتے ہیں لیکن مدد کے لیے اقوام متحدہ کے پاس جاتے ہیں وہ اقوام متحدہ جسے صرف دنیا کے کفار کی سمجھ آتی ہے مسلمانوں پر مظالم تو نظر ہی نہیں آتے ۔اقوام متحدہ کی نجی تنظیم سلامتی کونسل اسے بھی صرف کفار ہی نظر آتے ہیں ۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو اپنا واضح کردار ادا کرنا چاہیے ۔اور جو ہمارے اس مسلمان بھائی پر ظلم کیا گیا ہے اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے ۔اور سب پاکستانیوں کو اس کے خلاف اپنے اپنے محاذ پر آواز بلند کرنی چاہیے۔

Facebook Comments