سوشل میڈیا دور حاضر کی ضرورت (حافظ امیر حمزہ)

دنیا میں جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ نے وجود بخشا ہے، وہ سب چیزیں حضرت انسان کے لیے ہیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے پیدا کی گئی چیزوں کو احاطہ تحریر میں لانا چاہیں تویہ ناممکن ہے کیونکہ قر آن مجیدمیں باری تعالیٰ کا فرمان ہے: ” اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کر سکتے“۔ (القرآن) یہ رب العزت کی ہم لوگوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ ہم گنہگاروں کو بے تحاشہ نافرمانیاں کرنے کے باوجوداپنی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے اور ہم عطاکی ہوئی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگ بعض نعمتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں، مثال کے طور پر مال و دولت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر کوئی اس مال و دولت کو اچھے کاموں میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہے اور اگر کوئی اس مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے دونوں جہانوں میں ندامت و شرمندگی کا باعث ہے۔

ایک چاقو ہے اگر اس سے کوئی پھل اور سبزی وغیرہ کاٹتا ہے تو یہ اس کا صحیح استعمال ہے لیکن اگر کوئی اسی چاقو سے کسی کو قتل کردیتا ہے تو یہ اس کا غلط استعمال ہے۔ اس مثال سے یہ پتا چلا کہ کوئی چیز بھی بذات خود بری نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور سے نوازا، پھر ساری مخلوق سے ممتاز بنا کر اسے اشرف المخلوقات کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا کہ انسان ہر چیز کے فوائد اور نقصانات کو مدنظر رکھ کراس دنیا میں اپنی زندگی کے شب و روزگزارے۔ جو بندہ بھی کسی چیز سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو تدبر و تفکر اور کائنات کے رمز تلاش کرنے کی دعوت دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسان کائنات کو تسخیر کر رہا ہے اور دنیا گلوبل ولیج کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی ہو یا نت نئی سائنسی ایجادات تمام اس خالق کائنات کی عطا کردہ ہیں۔

آج کے جدید دور میں ہر چیز انسان سے ایک کلک کی دوری پر ہے۔ یہ سہولت سوشل میڈیا کے مرہون منت ہے۔ ہر ملک کے ہر طبقے میں سوشل میڈیا کو کثرت سے استعمال کیا جارہا ہے اور دن بدن اس کا استعمال بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ آج سے کچھ سال پہلے لوگوں کے خیر خواہ علماءکرام اس کے استعمال کے بارے میں منع کرتے تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور انہیں اس کے فوائد کا علم ہوا توانہوں نے سوچا کہ اس کے ذریعے بھی دین اسلام کی تبلیغ و نشر و اشاعت کا کام کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے اس کو صحیح استعمال کی شرط سے جائز قرار دیا۔

اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت بڑامعلومات کا ذخیرہ موجود ہے۔ لاکھوں کروڑوں نایاب اور فائدہ مندکتب موجود ہیں۔ جس سے اگر ایک طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھانا چاہے تو یہ کوئی بعید نہیں بلکہ اس کے لیے یہ سوشل میڈیا فائدہ مند، دل کا قرار اور سکون کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر کوئی کہیں سفر کے لیے جارہا ہے اور اسے راستہ بھول گیا، وہ انٹرنیٹ پر سرچ کرکے اپنی منزل مقصود تک آسانی سے پہنچ سکتاہے۔ ایسے ہی پہلے کسی کی خیریت اور حال احوال پوچھنے کے لیے کال صرف آڈیو ہوا کرتی تھی اب سینکڑوں لاکھوں میل دور اس سوشل میڈیا کی مدد سے ویڈیو کال ہو جاتی ہے اور اپنے عزیز و اقارب کی خیر و عافیت دریافت کرنے میں آسانی ہو گئی ہے وغیرہ۔

سوشل میڈیا کو اگر ضرورت کی حد تک استعمال کیا جائے تو اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے، وگرنہ اس کا نقصان بھی بہت زیادہ ہے۔ نقصان اس طرح کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے سوشل میڈیا کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنا لیا ہے۔ چاہے دن ہو یا رات ہر وقت اسی میں مگن اور مصروف نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے قریبی رشتے نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کے پاس نہیں بیٹھتے اور نہ ہی ان کی باتوں کو دھیان سے سنتے ہیں، والدین اپنی اولاد کے ایسے رویوں کی وجہ سے پریشان ہیں کہ ہماری اولاد کو کیا ہوگیا۔ بات نہیں مانتے اور ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بے ہودہ وڈیوز اور تصاویر دیکھنا یہ بھی ایک معمول بنتا جارہا ہے اور پھر ایسی وڈیوز اور تصاویر کواپنے دوستوں میں شئیر کرنا یہ بھی عروج پر ہے۔ ایسی قبیح حرکات کی وجہ سے گھروں میں شرم و حیا ختم ہوتی جارہی ہے کہ جس حیا کے بارے میں پیارے نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے“۔ (مسنداحمد) اگر کسی میں شرم و حیا ختم ہو جائے تو گویا پھر اس انسان میں ایمان کی کمی واقع ہو جاتی ہے، اسے اپنے ایمان کی کمی کو دور کرنے کے لیے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔

غور و فکر اور ملحوظ خاطر رکھنے والی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا معاشرے میں ہر فرد کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ اب اس کے جہاں فوائد بہت زیادہ ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی اسی طرح ہیں اگر ہم دنیا و آخرت میں اللہ کریم کی رضامندی اور کامیابی چاہتے ہیں توپھر اس کے فوائد کو مدنظر رکھ کرصرف ضرورت کی حد تک استعمال کریں۔

Facebook Comments