ولید لاہور اپنے دوست کے گھر ٹھہرا تھا۔ شہیر اس کا کلاس فیلو اور اکلوتا دوست ہے، شہیر کا تعلق ایک اچھے امیر گھرانے سے ہے گھر کے ماحول اور ماں باپ کی اچھی تربیت کی وجہ سے وہ کلاس کے باقی بگڑے امیر زادوں جیسا نہیں تھا اور یہی وجہ تھی کہ کلاس میں اس کی دوستی صرف شہیر سے ہوئی تھی۔ وہ کالج یونیورسٹی کے دنوں میں اکثر شہیر کے ساتھ اس کے گھر آتا تھا لیکن رات کبھی نہیں رکا۔ اس بار بھی اگر اس کی جیب میں اتنے پیسے ہوتے تو وہ ضرور کسی ہوٹل میں رک جاتا۔ انٹرویو ہوئے دو دن ہو گئے تھے لیکن مسلسل برستی بارش کی وجہ سے ابھی تک گھر نہیں جا سکا تھا بارش تھمنے کے ابھی بھی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے اور یہی سوچ کر وہ پریشان تھا۔

باہر طوفانی بارش تھی لان میں کھلنے والی کھڑکی کے شیشوں پہ بارش کی گرتی بوندوں نے باہر کے منظر کو دھندلا کر دیا تھا۔ اس نے اٹھ کر کھڑکی کے سارے پردے پیچھے کر کے اسے کھول دیا بہت خوبصورت منظر تھا۔ تیز بارش میں ہوا کے ساتھ جھومتے پودے دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ آج سے پہلے بارش کبھی اتنی خوبصورت نہیں لگی تھی۔ بھلا لگتی بھی کیسے؟ اچانک اس کے کانوں میں اماں کی آواز گونجی ولید کے ابا اٹھ جا اگر تھوڑی دیر اور نہ اٹھے تو بھوکے بیٹھے رہنا، باورچی خانے کی چھت ٹپکنی شروع ہو گئی ہے چولھا جلانے کو جگہ نہیں ملنی۔ اووو رحمے اٹھ پتر جا کوئی برتن لا کر رکھ اِدھر بھی۔ یا اللہّٰ رحمت کی بارش برسا۔

ایسے ایک ایک کر کے باورچی خانے کے سارے برتن ٹپکتی اکلوتی چھت کے نیچے اِدھر ادھر رکھ دیے جاتے۔ ایک تو آگ نہ جلنے کی وجہ سے کھانا نہیں بن پاتا تو اوپر سے برتنوں میں چھت سے ٹپ ٹپ گرتے پانی کے قطرے سر میں درد لگا دیتے۔ کتنا فرق ہے جھونپڑیوں اور محلوں کی بارش میں۔ دروازے پر ہوئی دستک نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر نکالا کون؟ آ جاؤ شہِیر کے ساتھ ملازم کھانے کی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے اندر داخل ہوا کھانے کی خوشبو سے سارا کمرہ مہک اٹھا۔

چلو یار جلدی سے آ جاؤ بھوک سے برا حال ہے۔ شہیر کھانے کے ساتھ ساتھ اپنی ماما کے قصیدے بھی پڑھ رہا تھا کہ میری ماما دنیا کی بیسٹ ماما ہیں۔ جب بھی بارش ہو سب کی الگ الگ فرمائش پوری کرتی ہیں۔ ولید کا دھیان اپنی اماں کی طرف چلا گیا جو برستی بارش میں بھی کبھی چین سے نہیں بیٹھتی تھیں۔ بڑی سی چادر لیے وہ بار بار کچن کا چکر لگانے ایسے جاتی ہیں جیسے اب کی بار گئیں تو کسی جادو کی چھڑی سے سارا کچن خشک ہو چکا ہو گا اور وہ جلدی سے بھوکے بیٹھے بچوں کے لیے کچھ پکا کر لے آئیں گی۔ وہ کیسے شہیر کو بتاتا کہ دنیا کے سارے ”ماں باپ“ ایک سے ہوتے ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کچھ بچوں کی فرمائش پوری کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور کچھ بچوں کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کرنے کا دکھ اپنے سینے میں دفن کر کے اندر ہی اندر سسکتے رہتے ہیں۔ ولید یار کدھر کھو گئے؟ جلدی سے کھاؤ پھر باہر گھومنے چلتے ہیں موسم بہت مزے کا ہے۔ ولید کے حلق سے اب بھلا کیسے کچھ اترتا جب اتنی دور بیٹھا بھی یہ جانتا ہے کہ اس برستی طوفانی بارش میں اس کے گھر کا چولھا ہمیشہ کی طرح ٹھنڈا پڑا ہو گا اور سب بھوکے بارش کے تھمنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔

پچھلے دو گھنٹے سے شہیر ایسے ہی سڑکوں پر گاڑی دوڑا رہا تھا اور بھی بہت سے لوگ سڑکوں پر بارش کا لطف اٹھانے نکلے تھے۔ کیسے پاگل لوگ ہیں جو گھروں کا سکون چھوڑ کر ایسی سردی میں سڑکوں پہ نکلے ہیں اس برستی بارش میں۔ ولید کی نظروں کے سامنے اپنے چھوٹے سے گاؤں کی گلیاں آ گئیں جو تھوڑی سی بارش سے ہی تالاب کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ یااللہّ رحم کر اس طوفانی بارش میں زمینداروں کی تیار فصل تباہ ہو جائے گی۔ ولید یار کتنے مزے کا موسم ہے نا؟ اللہّٰ کرے کچھ دن اور رہے ایسا موسم۔ وہ اپنے ہی خیالوں میں کھویا تھا جب شہیر کی آواز پہ چونکا اور بس ہوں ہاں کر کے رہ گیا کیونکہ یہ بارشیں بھی سب کو لطف نہیں دیتیں۔

ولید کو واپس گاوں آئے ہفتہ ہو چکا تھا جب اسے نوکری کی کال آئی ۔ اماں بابا میری نوکری لگ گئی ہے لاہور میں۔ ولید خوشی سے اماں کو گھما رہا تھا۔ شام کو وہ ماں کی گود میں سر رکھے لیٹا پچھلی باتیں دہرا رہا تھا۔ اماں یہ سب میرے ماں باپ کی محنت اور دعاؤں کا پھل ہے۔ آپ نے اتنے تنگ حالات میں مجھے پڑھایا اگر آپ لوگ ہمت نہ کرتے تو میں بھی آج گاوں کے باقی لڑکوں جیسا ان پڑھ ہوتا۔ “نہ پتر نہ ایسے بول نئیں بولتے اے سب سونے رب کا کرم اور تیری محنت کا پھل اے۔ اگر رب سونا ساتھ نہ دے تے کلا بندہ کجھ نئیں کر سکدا تو صرف اپنے اماں ابا کا نہیں سارے پنڈ دا مان اے۔ قرض ہے اس مٹی کا تیرے اوپر میرا پتر تو بس سب کے خلوص اور دعاؤں کو ہمیشہ یاد رکھنا” ۔  اماں تو سو گئی پر ولید کے لیے سوچوں کا سمندر چھوڑ گئی۔ صبح بھی اس نے محسوس کیا تھا اس کے جانے کا سن کے آج اماں ابا کے چہروں پر ہمیشہ کی طرح اداسی کی بجائے ایک خوف سا تھا جیسے مجھے کھونے کا خوف ہو۔

وہ جب بھی چھٹی کے دوران گاؤں آتا تو ہمیشہ یہی کہتا اماں ابا تھوڑا مشکل وقت رہ گیا ہے۔ دیکھنا تعلیم پوری ہوتے ہی میں کوئی نوکری ڈھونڈ لوں گا ان شاءاللہّٰ اور آپ سب کو گاؤں سے شہر لے جاؤں گا۔ پھر ان کچی گلیوں اور بارش میں ٹپ ٹپ کرتی چھتوں سے جان چھوٹ جائے گئی۔ شاید تب بھی اماں کو میری باتیں پسند نہیں تھیں لیکن میری چڑچڑی عادت سے خوفزدہ تھیں یا شاید وقت سے پہلے کچھ کہنا انہیں مناسب نہیں لگا کبھی اور آج باتوں ہی باتوں میں اسے بہت کچھ سمجھا کر اس کی سوچ کو بدل گئی تھیں۔ اماں صحیح کہتی ہیں میرے گاؤں کا مجھ پر بہت قرض ہے جو مجھے چکانا ہے، گاؤں کے بزرگ میرے گاؤں آنے پہ میری پیشانی چوم کر خوش ہو کے ڈھیروں دعائیں دیتے اور لاڈ سے مجھے ”شہری بابو“ بولتے اور فخر کرتے ہیں کہ میں اس گاؤں کا بیٹا ہوں۔ میری کامیابی میں سب کی دعائیں اور محبتیں رچی بسی ہیں، دعائیں زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں اور میں ان سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔

میں ان لوگوں کی طرح نہیں بنوں گا جو پڑھ لکھ کر ملک چھوڑ جاتے ہیں یا اپنے علاقے کی آواز بننے کی بجائے اپنے گھروالوں کو لے کر شہروں کا رخ کر لیتے ہیں اور پھر کبھی مڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے۔ گاؤں کے ان گنت لوگوں کو تو میری آنکھوں نے گاؤں کے حالات ٹھیک ہونے کی امید لگائے قبر کی آغوش میں سوئے دیکھا ہے۔ اپنے ہی گاؤں کے وہ چند نوجوان جو پڑھ لکھ کے گاؤں کی آواز بننے کی بجائے گاؤں سے نکل کر شہروں میں جا کر آباد ہوتے رہیں گے تو گاؤں کے حالات کون بدلے گا؟

میرے ماں باپ نے اپنا فرض نبھا دیا مجھے اس مقام پر پہنچا کے اب میری باری ہے مجھے اپنا فرض نبھانا ہے۔ میں ان جیسا تو نہیں بن سکتا لیکن پوری کوشش کروں گا کہ اپنا ہر فرض نبھاوں۔ ان شاءاللہ بہت جلد گھر کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور گاؤں کے لیے بھی مجھے بہت کچھ کرنا ہے۔ سرکاری اسپتال اور سکول کی جو عمارت سالوں سے بند پڑی ہے اس پر آواز اٹھاؤں گا ”اب میں بنوں گا اپنے گاؤں کی آواز“ تاکہ میرے گاؤں کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے۔

 اسے شعور ہو کے تھوڑی سی محنت سے پڑھ لکھ کے وہ بھی ملک کے باعزت شہری بن سکتے ہیں۔ اس ملک پر، سہولیات پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا امیروں جاگیرداروں کا۔ جب گاؤں کے سرکاری اسپتال میں ڈاکٹرز ہوں گے تو پھر بھاگ بھاگ کے شہروں کی طرف نہیں جانا پڑے گا۔ وہ جانتا ہے یہ سب آسان نہیں ہے لیکن کسی نہ کسی نے تو پہلا قدم اٹھانا ہی ہے نا تو پھر میں ہی کیوں نہیں؟ مجھے پتا ہے میرے ماں باپ اور گاؤں والوں کے ساتھ اور دعاوں کی بدولت ہر ناممکن خواب ممکن ہو سکتا ہے بس اس کے لیے اللہ تعالٰی پہ بھروسہ اور ہمت سے پہلا قدم اٹھانے کی ضرروت ہے۔ وہ پہلا قدم اٹھانے کا فیصلہ کر چکا تھا اس لیے مطمئن، پرسکون ہو کر سو گیا۔ وہ آج لاہور آنے سے پہلے اماں ابا کو اپنا ارادہ بتا کے خوشی اور بے یقینی کی کیفیت میں چھوڑ آیا تھا اور اب خود سارا سفر اماں ابا کی آنکھوں میں آئی خوشی کی چمک پہ اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ کتنی بڑی غلطی ہونے جا رہی تھی اس سے۔ اماں ابا کو بھلے صاف ستھرے ماحول میں لے جاتا لیکن وہ اپنے گاؤں اپنی یادوں سے دور جا کر کبھی خوش نہیں ہو پاتے۔

Facebook Comments