عمارہ کی شادی کو ابھی چھ مہینے ہی ہوئے تھے۔اس کی ساس کو فکر لگ گئی تھی کہ ابھی تک کوئی امیدکیوں نہیں لگی، ڈھکے چھپے لفظوں میں انہوں نے بیٹے اور بہو کو ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ بھی دیا۔ لیکن ان کے بیٹے اسد نے ماں کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی عمارہ نے دلچسپی دکھائی۔ ان دونوں میاں بیوی کا یقین تھا کہ اللہ کا جب بھی حکم ہوگا انہیں اولاد سے نواز دے گا۔ لیکن عمارہ کی ساس کی تشویش بڑھنے لگی اور ایک دن وہ خود بہو کو لے کر ڈاکٹر کے پاس چلی گئیں۔ سارے ٹیسٹ وغیرہ ہوئے عمارہ بالکل ٹھیک تھی اس کے اندر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ شادی کو ایک سال سے اوپر کا وقت ہوا اب ہر کسی کے لبوں پر اس کے لیے ایک ہی سوال ہوتا،”تم نے علاج کروایا؟ ابھی تک خوش خبری کیوں نہیں سنائی؟“
عمارہ اب سب کی باتیں محسوس کرنے لگی تھی۔ اس کے دل میں چبھن سی ہونے لگی تھی۔ نہ جانے اللہ مجھے اولاد دے گا بھی یا نہیں؟ایسی منفی سوچوں نے اس کے دماغ میں جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ دن رات اللہ سے دعائیں مانگتی۔ اسد کے چھوٹے بھائی کی شادی کو ابھی دو ہی ماہ گزرے تھے کہ ان کے آنگن میں نئے مہمان کا شور مچنے لگا۔ ساس بھی بہو سے بہت خوش تھیں، اس کے چونچلے پورے کیے جاتے اور کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیا جاتا۔ اب عمارہ پر دہری ذمے داریاں آن پڑیں تھی۔ اس کے دل میں کسک اٹھتی کہ میری شادی پہلے ہوئی تھی مگر میں ابھی تک اولاد سے محروم ہوں۔

ساس بھی ہر کام اسے کہتیں اور یہ کہہ کر اس کا منہ کھلنے سے پہلے ہی بند کروا دیتیں، ”ارے تم کیا جانو ماں بننا آسان تھوڑی ہے، اب تمہاری اولاد نہیں ہے تمہیں یہ سب تو کرنا پڑے گا چھوٹی بہو کو آرام کی سخت ضرورت ہے“۔ اب چھوٹی بہو ساس کی طرف داری پا کر اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی عمارہ کو آواز دیتی۔ گویا اولاد نہ ہونے میں عمارہ کی ہی غلطی ہو۔

بالآخرچھوٹی بہو کے آنگن میں ایک ننھا سا پھول مہکا۔ عمارہ ننھے ہادی کو بہت پیار کرتی اب اسے ہر بچے پر پیار آتا اس کی ممتا سسکتی۔ وہ صبر و شکر سے زندگی گزار رہی تھی، ہادی اب بڑا ہو رہا تھا وہ بہت شرارتی تھا۔ ایک دن عمارہ نے ہادی کو اس کی غلطی پر اسے سمجھانے کے لیے پیار سے مارا، ہادی رونے لگا اور ماں کے پاس جا کے لپٹ گیا عمارہ کی دیورانی دیکھ رہی تھی کہ اس نے پیار سے مارا ہے پھر بھی بیٹے کو روتے دیکھ کر اس نے عمارہ پہ طنز کیا، ”تم بچے کو مارتی ہو تب ہی تو اللہ تمہیں اولاد نہیں دیتا“۔ یہ بات سن کر عمارہ کا دل چکنا چور ہو گیا وہ نمکین آنسو چھپانے کے لیے اپنے کمرے میں آگئی اور اللہ کے آگ سجدہ ریز ہو گئی، صرف اللہ ہی تھا جو اس کی آہ وزاری سنتا تھا۔

دن ایسے ہی گزر رہے تھے عمارہ کی شادی کو چھ برس ہو گئے تھے مگر اس کی گود ابھی تک سونی تھی اس کا احساس کمتری اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اس نے لوگوں سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا۔ وہ ڈرتی کہ کوئی اس سے یہ نہ پوچھ لے کہ اتنا عرصہ ہوگیا ابھی تک اولاد کیوں نہیں ہوئی؟ نہ جانے لوگ ہر کسی کی ذات میں اتنی دلچسپی کیوں لیتے ہیں اگر کسی کی اولاد نہ ہو اسے بھی طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر کسی کو اللہ زیادہ نواز دے تو اسے بھی مذاق اور طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اولاد کا ہونا نہ ہونا یہ سب اللہ کے حکم کے بغیر ناممکن ہے اب ہم انسان کون ہوتے ہیں اللہ کے کسی امر پر سوال کرنے والے؟ عمارہ کی ساس نے اسد کے لیے دوسری لڑکی تلاش کر لی تھی۔ انہیں لگتا تھا کہ اب دوسری لڑکی ہی اسد کو اولاد دے سکتی ہے۔ عمارہ نے جب سے یہ بات سنی تھی اس کا کلیجہ پھٹ رہا تھا وہ کبھی بھی اسد کے معاملے میں شراکت برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اسد بے چارہ ماں کی ضد کے آگے مجبور تھا وہ عمارہ کو تسلی دیتا کہ وہ اس کی کبھی حق تلفی نہیں کرے گا لیکن وہ دوسری شادی کرنے پر ماں کی وجہ سے مجبور ہے۔ اس کی ساس نے ندا نامی لڑکی سے اسد کی شادی طے کر دی تھی۔ عمارہ اب ڈپریشن کا شکار ہوتی جا رہی تھی۔ بے اولادی، اسد کی دوسری شادی، لوگوں کے طنز اور گھر کے لوگوں کا اس کے ساتھ ناروا سلوک۔ بات بات پہ اسے اس کی خالی گود کا احساس دلانا اس سب کی وجہ سے عمارہ کا دماغی توازن بگڑ گیا تھا۔ وہ کسی بچے کو دیکھتی تو اسے ساتھ لپٹا لیتی اور دیوانگی سے چومنے لگتی بچہ گھبرا جاتا اب ہر کوئی اپنے بچوں کو اس سے دور رکھتا اور بچے بھی اس سے دور بھاگتے۔

اسد کی شادی کا دن بھی آگیا، لان کو برقی قمقموں سے سجایا گیا اور دھوم دھام سے دلہن کو لایا گیا۔ اوپر عمارہ بالکونی سے یہ سب دیکھ رہی تھی اسد دوسری بیوی کے ساتھ تصاویر بنوا رہا تھا عمارہ کے اندر آگ لگ گئی وہ کچن میں گئی اور تیز دھار چھری اپنے کلائی میں اتار دی۔ نبض ڈوبتی رہی اور نیچے کسی کو خبر بھی نہ ہوئی۔ نیچے خوشیاں منانے والے لوگ عمارہ کے قاتل تھے اور شادی کے دس سال بے اولادی کا دکھ جھیلنے والی عمارہ نے خود اپنی جان لے کر ہر دکھ سے نجات پالی لیکن اسے اقدام تک لانے والا یہ معاشرہ تھا جہاں اولاد نہ ہونا صرف عورت کی غلطی ہوتی ہے، جس معاشرے میں مرد اولاد کے لیے اپنے علاج کو غیرت کے خلاف سمجھتے ہوں، جہاں اولاد کے طعنے دینے والے یہ بات بھول جاتے ہوں کہ اولاد دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے جو چاہے تو بی بی مریم کو بغیر مرد کر ہاتھ لگائے اولاد عطا کردے اور ابراہیم علیہ اسلام کو بڑھاپے میں بیٹا دے دے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Facebook Comments