پہلے کہا سو دن، پھر کہا چھ ماہ اور اب کہہ رہے ہیں کہ ڈیڑھ سال میں ملک کو بحران سے نکال لیں گے۔ موجودہ حکومت اور بالخصوص وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر صاحب کی ناقص اقتصادی پالیسیوںکے باعث اس وقت ملک میں جو بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان برپا ہوا ہے، پاکستان کے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسد عمر صاحب جو وزارت ملنے سے پہلے میں کہا کرتے تھے کہ میں یوں کردوں گا تے میں وہ کردوںگا، پیٹرول 44 روپے اور ڈالر 60 روپے پر لے آﺅںگا۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ مگر اقتدار میں آتے ہی وہ ساری باتیں بھول گئے۔

موجودہ وزیر خزانہ کی ناقص پالیسیوں کے وجہ سے پوری تحریک انصاف کی حکومت 22 کروڑ عوام میں اپنی سا کھ کھورہی ہے۔ اپنی ساکھ مزید گرنے سے بچانے اوربحال کرنے کے لیے یہ افواہیں زیر گشت ہیں کہ وزیراعظم عمران خان صاحب وزیر خزانہ اسد عمر کی جگہ کسی قابل و عوام دوست شخص کو وزیر خزانہ بنانے والے ہیں۔ جبکہ ماہرین کا بھی یہیںخیال ہے کہ عمران خان صاحب کو عوام کی فکر ہو یا نہ ہو، مگراپنی حکومت کی ساکھ کو بحال کرنے کی فکر ضرور ہوگی، جس کی وجہ سے وہ اقتصادی ٹیم میں ضرور تبدیلی لائیں گے۔ مگر عام خیال یہ بھی ہے کہ جہانگیر ترین اور فواد چوہدری کی طرح اسد عمر بھی عمران خان صاحب کے لاڈلے ہیں، جنہیں ملک و قوم کی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے اور خود اپنی حکومت کی ساکھ کو داﺅ پر لگا کر بھی اپنے عہدوں پر برقرار رکھا جائے گا۔

اسد عمر سمیت دیگر نااہل لاڈلوں میں عمران خان صاحب کو کیا خوبی نظر آتی ہے فی الحال راقم کی سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن جب موجودہ حکومت اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائی گی تب راقم سمیت سب کو پتا چل جائے گا کہ عمران خان حاحب کو ان کھوٹے ہیرے و موتیوں کو اپنے حکومت کے تاج میں سجانے کی کیا ضرورت اور مجبوری تھی۔ اسد عمر صاحب کی وزات خزانہ نے تحریک انصاف کی حکومت کو ملک کے 22 کروڑ عوام کے سامنے جتنا رسوا کیا وہ تو کیا، مگر عوام کو کتنی اذیت میں مبتلا کیا وہ بھی اس ملک کی تاریخ میں درج ہوگیا۔ آج ملک میں جو مہنگائی و بے روزگاری کا نیا طوفان برپا ہوا ہے اس کی وجہ سے ہر شہری موجودہ حکومت کے خلاف آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر دہائی دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی حساس و باضمیر شخص اپنی وزارت چھوڑنے میں دیر نہ کرتا اور استعفیٰ دیکر گھر بیٹھ جاتا، جس سے اس کی اپنی اور اس کی قائد کی عزت رہ جاتی۔ موجودہ حکومت میں اب تک سب سے خراب کارکردگی وزیر خزانہ اسد عمر صاحب کی رہی ہے، اس پر ان کی ڈھٹائی کہ میں ہی ملک کو بحران سے نکال باہر کروں گا۔ میرے استعفیٰ کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ایک موقع پر ایک صحافی نے اسد عمر صاحب سے سوال کیا کہ سنا ہے کہ آپ مستعفی ہورہے ہیں، جس کہ جواب میں اسد عمر صاحب نے کہا کہ عمران خان صاحب نے مجھے کہا ہے کہ ملک و قوم کو آپ اشد ضرورت ہے۔ عمران خان صاحب ملک کو جس قسم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، اس کے لیے انہیں اپنے علاوہ اسد عمر جیسے اقتصادی ماہرین کی ہی ضرورت ہے۔ اس سے قبل جب عمران خان صاحب نے دو قادیانی اقتصادی ماہرین کو درآمد کرنے کی کوشش کی تو غیور پاکستانیوں نے اسے ناکام بنادیا تھا ۔  2018ءکی عام انتخابات سے پہلے عمران خان صاحب،فواد چوہدری سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماﺅں نے یہ واضح طور پر کہا تھا کہ ہماری حکومت بنے گی تو ہم آئی ایم ایف سمیت کسی بھی غیر ملکی سودی قرضے کو اپنے لیے خود کشی سمجھیں گے۔ ہمارے پاس اسد عمر جیسا ذہین و فطین ماہراقتصادیات موجود ہے، جو حکومت سازی سے قبل ہے ملک کی تمام معاشی مشکلات کو قابو کرنے کے لیے ہوم ورک کرچکا ہے۔ بس عوام و فیصلہ کن قوتیں ایک مرتبہ عمران خان صاحب کی وزارت عظمیٰ کی خواہش پوری کردیں، تو پھردیکھیں کہ وطن عزیر یکسرتبدیل ہوکر کیسے نیا پاکستان بنتا ہے۔ جہاں مدینہ جیسا فلاحی معاشرہ ہوگا، ہر طرف امن و اماں کا دور دورہ ہوگا، عوام کو سستا انصاف ملے گا۔ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاءکی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ (کیوں کہ نئے پاکستان میں ہر طرف دودھ اور شہید کی نہریں جو بہہ رہی ہوں گی)

اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد اب تک نت نئے وعدوں اور قسموں کے بعد اب تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر خزانہ صاحب یہ کہہ ر ہے ہیں کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو خطرناک حد تک ادائیگیوں کے توازن کا بحران تھا۔ جس سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے پا س جانے کی ضرورت پیش آئی اور مہنگائی کا بحران بھی اسی کی وجہ سے ہے۔ مزید کہا کہ معیشت میں ایسے اقدام کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمرصاحب نے حکومت میں آنے سے پہلے کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا۔
ملک میں تیزی سے بڑھتی مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے سے جہاں عوام اور تاجر برادری پریشان ہے، وہیں پر وزیر خزانہ اسد عمر کی ناقص معاشی پالیسیوں اور فیصلوں سے خود حکومت اور حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر بھی خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ جس کا اظہار دبے لفظوں میں بعض وزرا اور حکومتی ذمہ دار نجی محفلوں میں کرتے رہتے ہیں۔ دومہینے قبل تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے عمران خان کی موجودگی میں وزیر خزانہ اسد عمر پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ”آپ کی ناقص اور غلط معاشی پالیسیوں اور فیصلوں کی وجہ سے عوام کا ہمارے اوپر سے اعتماد اٹھ رہا ہے“۔ مخالف سیاسی جماعتوں خصوصاً نواز لیگ و پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے ہماری پالیسیوں کے خلاف بیانیے کو تقویت مل رہی ہے۔

اس وقت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت بالخصوص عمران خان صاحب جرا¿ت مندانہ فیصلے کریں۔ ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنے کے لیے وزیرخزانہ سمیت تمام ٹیم کو تبدیل کرکے ایک قابل شخص اور قابل ٹیم کے ذمے داری لگائیں۔ ورنہ موجودہ وزیر خزانہ اگر مزید چند ماہ رہے تو آج ڈالر 141 کا ہے پھر ڈیڑھ سو سے بھی تجاوزکر جائے گا اور ملک مزید معاشی بحران میںڈوب جائے گا۔ ملک پاکستان کو مزید اقتصادی و معاشی بحران سے بچانے کے لیے ”وزیر خزانہ کی تبدیلی ناگزیر ہے“۔

Facebook Comments