آؤباہر چمن میں جا کر شیر شکاری کھیلتے ہیں۔ کاشف نے پرجوش ہو کر تجویز پیش کی، جسے فورا ہی قبول کر لیا گیا۔ میں شکاری بنوں گا۔ سلمان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ میں بھی شکاری سائرہ نے اپنی مرضی بتائی۔ میں بھی شکاری بنوں گی۔ کرن نے جلدی سے اپنا ہیٹ سر پر رکھا اور ایک چھوٹی سی لکڑی بطور بندوق اٹھا لی۔ تین بڑے بڑے شکاری اور ایک اکیلا معصوم سا  چھوٹا شیر۔۔۔ یہ تو بےایمانی ہے۔ کاشف نے منہ بناتے ہوئے بھائی بہنوں کی طرف احتجاجاً دیکھا۔ 

اچھا میں بھی شیر۔ سلمان نے جلدی سے کاشف کا ہاتھ تھاما اور چاروں بہن بھائی باہر چمن میں آگئے۔ دونوں ہاتھ اور پیر زمین پر ٹکائے کاشف اور سلمان اپنے تئیں شیر بنے ہوئے تھے۔ جبکہ چھوٹی چھوٹی لکڑیاں ہاتھ میں تھامے کرن اور سائرہ شکاری تھیں۔ کھیل شروع ہو چکا تھا۔ ہنستے کھلکھلاتے کبھی ایسے لگتا کہ شیر شکاریوں کو  کھا جائیں گے اور کبھی شیر شکاریوں کا نشانہ بنتے بنتے رہ جاتے۔ بالآخر شیر شکاریوں سے مات کھا گئے۔ گولیوں کا نشانہ بنے وہ زمین پر ڈھے چکے تھے۔ شکاری انہیں رسیوں کے ساتھ باندھنے میں مصروف تھے۔ جب شہر جا کر ہماری ان شیروں کے ساتھ اخبارات میں تصاویر آئیں گی۔ نیوز چینل پر خبریں چلیں گی تو سب مان جائیں گے کہ یہ دو لڑکیاں بہادر شکاری ہیں۔ سائرہ اپنی بہادری کے گن گا رہی تھی اور ان کی کھال اتروا کر بوٹیاں بنا کر ہم پکائیں گی قورمہ، نہاری، تکے، سیخ کباب !دو شیر ہیں آخر خوب مزے کریں گے! کرن چٹخارے لیتے ہوئے کھانے کا پروگرام مرتب کرنے لگی۔ 

بےوقوف شکاری لڑکی، شیر درندہ ہے۔ سلمان کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ تو؟   کرن نے سوالیہ نظروں سے بھائی کی جانب دیکھا ۔حدیث پاک ہے۔ درندے سب حرام ہیں،  شیر بھی درندہ ہے۔ پس حرام ہے۔ سلمان نے کرن کو سمجھایا۔ درندہ کیا ہوتا ہے؟ کاشف نے پوچھا۔ وہ اب چمن کی نرم و ملائم گھاس پر بیٹھ چکے تھے۔ وحشی جانوروں کو درندہ کہتے ہیں۔ سائرہ نے اسے بتایا۔ جیسے بھیڑیا شیر اور چیتا وغیرہ۔ اچھا۔۔۔ اس کا مطلب ہے ہر جانور نہیں کھا سکتے ہم۔۔ کرن نے کہا۔ ارے یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ اب بھلا سانپ کھاو گی تم کیا؟ سائرہ نے کرن کا مذاق اڑایا۔ ارے واہ! سانپ بھی کھائے جاتے ہیں کئی ممالک میں۔۔ سوپ بھی بنتا ہے ان کا۔ سلمان نے اپنی معلومات جھاڑی ۔ 

کیا ہو رہا ہے بچو! بابا جانی مسکراتے ہوئے بچوں کے ساتھ  آ بیٹھے۔ بابا جانی۔۔ شیر پکا کر نہیں کھا سکتے ہم؟ کاشف نے معصومیت سے بابا جانی سے سوال کیا تو وہ بےاختیار مسکرا دئیے۔۔ نہیں کھا سکتے کیونکہ شیر درندہ ہے۔ اس کے علاوہ مردار، بہایا ہوا خون، سور کا گوشت یا وہ جانور جس کو غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے نامزد کر دیا گیا ہو۔ گلا گھٹ کر مرا ہوا جانور، ضرب سے مرا ہوا، اوپر سے گر کر مرا ہوا، کسی جانور کے سینگ لگنے سے مرا ہوا یا وہ جانور جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو اور وہ جانور بھی حرام ہے جسے باطل معبودوں کی قربان گاہوں پر ذبح کیا گیا ہو۔

یہ سب آپ کو کہاں سے پتا چلا بابا جانی۔ کرن نے پوچھا۔ وہ اپنے بابا جانی کی معلومات پر بےحد متاثر تھی۔ بیٹا یہ سب قرآن پاک میں لکھا ہے۔ سورہ المائدہ کی آیت نمبر تین ترجمے کے ساتھ پڑھنی ہے آپ سب نے اب۔ بابا جانی نے بچوں سے کہا۔ جی بابا ان شاءاللہ۔ اس کے علاوہ احادیث بھی اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھا اور خچر کا گوشت، ہر کچلی دانت والا (کچلی اس دانت کو کہتے ہیں جو سامنے کے چار دانتوں کے بعد بھالے کی شکل میں نوکیلا ہوتا ہے اس دانت کو کیلا بھی کہتے ہیں) جانور اور ہر پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو حرام قرار دیا۔ (سنن الترمذي: 1478)

 جی ہاں بابا میں نے دیکھا ہے چڑیا دانہ چونچ میں اٹھاتی ہے جبکہ کوا روٹی پنجوں میں دبا کر چونچ سے توڑتا ہے۔ کاشف ایک دم جوش سے بولا۔۔ یعنی چڑیا حلال اور کوا حرام ۔بالکل ٹھیک پہچانا میرے ہونہار بیٹے نے۔ ماشاءاللہ۔۔ امی جو پانی کا پائپ ہاتھ میں لیے چمن میں پودوں کو پانی دینے کے لیے آرہی تھیں۔ کاشف کا بھولا بھالا مگر ذہین  انداز دیکھ کر خوش ہوگئیں۔ چلیں جی سب مل کر امی کے ساتھ کیاریاں بھی صاف کرواتے ہیں اور پودوں کو پانی بھی دیتے ہیں۔ بابا جانی نے بچوں کو امی کی مدد کے لیے کہا۔ لیکن میں نے ایک بات سمجھ لی ہے۔ کاشف نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ وہ کیا؟ شیر کے شکار سے  چڑیوں کا شکار اچھا ہے۔  سب اس کی اس معصومانہ سمجھ پر کھلکھلا کر ہنس دئیے۔

Facebook Comments