مایوسی گناہ ہے (انصر محمود بابر)

دنیاکے مہذب ترین، خوشحال ترین اور انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں بھی کرپشن ہوتی ہے، جرائم ہوتے ہیں۔ دنیاکاکوئی ملک یاقوم ایسی نہیں جو گناہ نہیں کرتی۔ آج کی جدید ترین سہولیات کی حامل قومیں بھی اخلاقی پستی کا شکار ہیں۔ کیا امریکا میں دہشت گردی نہیں ہوتی؟ کیا چائنہ میں غربت نہیں ہے؟ کیا روس، جرمنی، فرانس، کینیڈا اور ایسے ہی دیگر قابل ذکر ممالک کے عوام سوفیصد اپنی حکومتوں سے خوش ہیں؟ کیا دنیا میں کسیملک کی مثال ملتی ہے جہاں کے سو فیصد لوگ گورنمنٹ کے ملازم ہوں؟ کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں جہاں کے سو فیصد عوام خوشحال ہوں، جہاں کا ہر باشندہ صحت مند اور تعلیم یافتہ ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی قومی، ملی، قانونی، مذہبی یا اخلاقی برائی ہوتی ہے تو اس کی نشاندہی اور اصلاح کی جاتی ہے۔ کسی کی پگڑیاں نہیں اچھالی جاتیں۔ لوگ اپنے جرائم اور گناہ کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنی سزا ختم کرلینے کے بعد بھی مہذب ہی رہتے ہیں۔ 

تو کیا وجہ ہے کہ من حیث القوم ہم لوگ اتنی افراتفری، پسماندگی، اخلاقی انحطاط، تعلیمی پسماندگی اور بیمار ذہنیت میں گرفتار ہیں؟ ہم اپنی کوتاہیوں، غلطیوں، گناہوں اور جرائم کے جواز کیوں ڈھونڈنے لگ پڑتے ہیں؟ ہم اپنی تمام تر بشری کمزوریوں کا اعتراف کیوں نہیں کرلیتے تاکہ اصلا ح ہوسکے؟ اپنی ذات میں اعلیٰ ظرفی اور اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرنی ہو گی۔ ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے اصلاح اور ناکامیوں سے کامیابی کا پہلو نکالنا ہوگا تو یقینا ہم بھی خوشحال اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں جگہ پاسکتے ہیں۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ آپ جاپان کی بات کرلیں جنگی تباہ کاریوں کے نقصانات کا جس قدر اس قوم کو سامنا پڑا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ چائنہ میں بھی زلزلے اور سیلاب آتے ہیں۔ امریکہ میں بھی ورلڈ ٹریڈ سنٹر گرتے ہیں۔ روس بھی جنگ زدہ ملک ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ متذکرہ بالا تمام اقوام پھر سے نہ صرف اپنے پیروں پہ کھڑی ہوجاتی ہیں بلکہ اقوام ِ عالم میں معاشی، سیاسی اور ترقی کے میدان میں انقلابات برپا کردیتی ہیں۔

ترقی کی وہ چابی اور چھا جانے کا وہ ہنر بحیثیت مسلمان ہم سب میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس راز کو دنیا محنت، لگن، مستقل مزاجی، ایمانداری اور کوشش ِ پیہم کے نام سے جانتی ہے۔ ہم توان اسلاف کے وارث ہیں کہ جنہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر نئے نئے انقلابات کے باب رقم کئیے۔ ہم تو اس ہستیﷺ کے نام لیوا اور پیروکار ہیں کہ معراج کا عروج جن کی سنت ہے۔ کیا ان خاک نشینوں اور بوریا نشینوں نے دنیا کی امامت نہیں کی؟ ہمارے سامنے تو نمونوں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ تین سو تیرہ ہوکر بھی کیا وہ ہزاروں پہ بھاری نہیں تھے؟ کم خوراکی، کم لباسی اورکم آرامی کے باوجود بھی کیا وہ خوشحال نہیں تھے؟ بس ہم نے صرف اس خوبی کو اپنانا ہے جو اُن میں قدرِ مشترک تھی۔ اسلامی بھائی چارہ، اخوت، محبت، ایک دوسرے کا احساس اور اپنے مرکز پہ مرکوز رہنا ہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔ سخت ترین حالات میں بھی وہ مایوس نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مایوسی گناہ اور شیطان کا مہلک ترین ہتھیار ہے۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ کی رحمت اپنے بندوں پہ برسنے کو تیار اور بے تاب رہتی ہے۔

ہمیں بھی اٹھ کرہمت باندھنی ہوگی۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے دست و بازو بننا ہوگا۔ پھر ہماری آنکھوں کے تیور کی تاب کون لاسکتا ہے؟ ہماری پیشانی کی سلوٹوں میں آج بھی انقلابات ِ زمانہ کے زار پوشیدہ ہیں۔ ہماری قوت ِ بازو کا کوئی کیا اندازہ لگا سکتا ہے؟ ہمیں بس اتنا سا ماننا ہوگا کہ رحمت ِ خداوندی اب بھی ہمارے انتظارمیں ہے ۔ بس کاہلی،سستی،کم ہمتی،شیطانی وساوس اورمایوسی سے نکلناہوگا۔اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ مایوسی گناہ اورشیطان کا مہلک ترین ہتھیار ہے۔

Facebook Comments