مزار قائد فن تعمیر کا عظیم شاہکار (عارف رمضان جتوئی)

شہرقائد میں تفریحی مقامات کی کمی نہیں۔ بیرون و اندرون ملک سے سیاحوں کی ایک کثیر تعداد شہر کی تفریح گاہوں کا نظارہ کرنے مختلف اوقات میں کراچی کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ موسم کی مناسبت اورساحل سمندر کی موجوں میں شہر کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے جو کہ ہمیشہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ مسافرکسی بھی شہر کا ہو، کسی بھی گاوں اور دیہات سے اس کا تعلق ہو، کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو جب بھی وہ شہر قائد کا سفر کرتا ہے تو اس کی سوچیں کراچی کی تفریحی گاہوں میں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی تفریحی گاہوں میں سے ایک اہم ترین تفریحی گاہ کا تذکرہ یہاں پر نہ کرنا ناانصافی ہوگا۔ ”مزار قائد “کو تفریحی گاہ اور تاریخ لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے۔ مجھے کراچی میں ایک لمبا عرصہ گزر گیا۔ کئی شاہراہوں کا پیدل اورکئی کا مختلف سواری پر سفر کیا، ان شاہراہوں میں شاہراہ قائد پر کئی بار سفر کرنے کا اتفاق ہوا جب بھی گزر ہوتا مزار قائد پر نظر پڑتی۔ سفید گنبدکا جلال و جمال اپنی جگہ ہر گزرنے والے کو اپنی طر ف متوجہ ضرور کرتا ہے۔ اگر کوئی کراچی کا محو سفر ہوا اور اس نے مزار قائد کا دیدار نہیں کیا تو گویا وہ اپنے تفریح میں کمی محسوس کر تا ہے۔مزار قائد سے مراد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ ہے جو پاکستان کے تجارتی دارالخلافہ کراچی کے وسط میں واقع ہے۔ یہ مقبرہ پوری دنیا میں کراچی کی پہچان بن چکا ہے جس کی تعمیر محتاط اندازے کے مطابق 1960ءکے عشرے میں مکمل ہوئی۔ مزار چون مربع میٹر احاطہ پر مورش طرز کی سفید سنگ مرمری کمانوں اور تانبا کی باڑوں سے بنایا گیا ہے۔

گنبد کا اندرونی حصہ چین کی عوام کی طرف سے تحفہ کے طور پر دیئے گئے فانوس کی وجہ سے یہ حصہ سبز جھلک دیتا ہے۔ مزار کے گرد ایک پارک بنایا گیا ہے جس میں نصب طاقتور ارتکازی روشنیاں رات کے وقت مزار کے سفید سنگ مرمر پر روشنی ڈالتی ہیںجس سے فضا میں عجیب سی خنکی سی محسوس ہوتی ہے اور ہر آنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ جگہ انتہائی پرسکون ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کسی اہم وجوہ کی بنا پر اس قدر پر سکون جگہ ہے جبکہ ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے بلکہ یہ زمین کراچی کی آب و ہوا کی وجہ سے اپنا مقام رکھتی ہے اور دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک کے مرکز کی عکاس ہے۔ مزار کا گنبد کئی میل دور سے شہر کے کونے کونے سے نظر آتا ہے مگر اب عمارتوں کی اونچائی اور بہتات نے دشواری پیدا کردی ہے۔ مزار میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان اور جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح بھی قائد کے ساتھ مدفون ہیں۔ خاص مواقع پر، خصوصاً 23 مارچ، 14 اگست، 11 ستمبر، 25 دسمبر، 8 جولائی اور 30 جولائی کو مزار پر خصوصی رنگا رنگ تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں ہر طبقہ زندگی کے لوگ ملی فریضہ سمجھ کر ان میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ تقاریب عسکری وسیاسی بنیادوں پر ملی محبت سے سرشار منعقد کی جاتی ہیں جہاں پر پریڈ، قومی ترانہ، ملی نغمیں و دیگر مختلف بچوںو بڑوں کے پروگرام کیے جاتے ہیں۔ مزار قائد پر کئی اہم غیر ملکی معززین اور اعلی عہدے داران آچکے ہیں اور دورہ کرتے رہے ہیں۔ مزار قائد کو اب ملک کے قومی مزار کا درجہ دیا گیا ہے۔

جہاں مزار قائد کا تذکرہ ہوا وہیں مزار میں رکھی تاثرات کی کتاب کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ مزار قائد پر رکھی مہمانوں کی کتاب میں کئی ملکی و غیر ملکی شخصیات بانی پاکستان محمد علی جناح کو خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کرچکی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ عوام کی جانب سے بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے لیکن اہم قومی تہواروں پر خواص بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں اور مزار پر رکھی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہیں۔

مزار قائد پر مہمانوں کے تاثرات لکھنے کیلئے پہلی کتاب 1978ءمیں رکھی گئی۔ ان کتابوں میں آصف علی زرداری اور فاروق لغاری سمیت تمام پاکستانی صدور کی تحریریں اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے تاثرات بھی محفوظ ہیں۔ کئی عالمی شخصیات بھی مزار کا دورہ کرچکی ہیں۔ نیلسن مینڈیلا، ایل کے ایڈوانی، قائداعظم کی صاحبزادی اور نواسے، یاسر عرفات اور ملکہ برطانیہ بھی آ چکے ہیں۔ دنیا کے ہر حصے سے جو بھی سرکاری وفد کراچی آتا ہے وہ مزار قائد آکر اپنے تاثرات ضرور قلمبند کرتا ہے۔ ’قانون کی رو سے پاکستان کا صدر ، وزیراعظم ، اسپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینیٹ، گورنر اور وزراءاعلیٰ یا ان کے مساوی عہدہ رکھنے والی غیر ملکی شخصیات اس کتاب میں تاثرات قلمبند کرتی ہیں۔ اسی لئے قائداعظم کو کئی زبانوں میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔چینی اپنی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں نہیں لکھتے۔ اس میں آپ کو عربی میں تحریر ملے گی، جاپانی میں، فارسی میں، انگریزی اور اردو میں تو ہے ہی۔

مہمانوں کے تاثرات لکھنے کی کتاب سیکورٹی پرنٹنگ پریس میں کرنسی نوٹ والے کاغذ سے تیار کی جاتی ہے تاکہ صفحات محفوظ رہیں۔ کاغذ پر خوبصورت ڈیزائن اور دائیں کونے میں مزار قائد کی تصویر چھاپی جاتی ہے۔ ایک کتاب میں سو صفحات ہوتے ہیں اور اب تک اٹھارہ کتابیں مکمل ہوچکی ہیں۔ قائداعظم کے بارے میں ملکی و عالمی رہنماوں کے ان تاثرات کو کتابی شکل دیکر نہ صرف محفوظ بنایا جاسکتا ہے بلکہ یہ دستاویز آئندہ نسل کے لئے تحقیق میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

ویسے تو اکثر شہری مزار قائد پر تفریح کی غرض سے آتے ہیں مگر وہیں پر ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے کہ جن کہناہے کہ وہ مزار کا رخ تاریخ کے مسخ ہوتے باب کو پڑھنے کے لئے یہاں آتے ہیں کیونکہ مزار قائد میں بہت سے تاریخی حقائق پنہاں ہیں۔ اگر ہم اسلامی نقطہ نظر سے اس قسم کی عظیم شخصیات پر بنائی جانے والی عمارتوں کا مطالعہ کریں تو قبروں کی زیارت کا مقصد خوف الہٰی ہوا کرتا تھا مگر آج ہمیں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آتا کہ جو آیا تو ہو مگر دل میں یہ ارمان لے کر آیا ہو کہ یہ شخصیات کبھی اس قدر اہم ترین ہوا کرتی تھیں مگر آج یہ بھی اس دنیا فانی سے آخرت کا رخت سفر باندھ کر کوچ کر گئے ہیں کل کلاں ہمیں بھی اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی بھی تاریخی یا قابل ستائش عمارت ہو یا تفریح گاہ اس میں اپنا مذہبی ،قومی اور ملی تشخص برقرار رکھنا ہوگا تاکہ دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں ایک زندہ اور پاکیزہ قوم کے نام سے دنیا میں موسوم کیا جائے اور ہمارے چلے جانے کے بعد بھی ہمیں اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہے۔

Facebook Comments