قلم کا قرض چکانا ہے (عمر الطاف کے تاثرات)

رائٹرز کلب پاکستان” کےپلیٹ فارم سے “قلم کا قرض” بحسن و خوبی ادا کرنے کے لیے سالنامے کے طور پہ ایک بک پبلش کی گئی۔۔۔ جو اب تک کی اپنی نوعیت کی ایک بہترین اور منفرد کتاب کے طور پہ سامنے آئی۔۔۔ اس کی انفرادیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ۔۔۔ اس میں تقریباً 50 سے زائد بہترین اور قابل رائٹرز کو 5، 5 رائٹ اپ لکھنے کا موقع دیا گیا۔۔۔ جنہوں نے اپنی اپنی ترجیحات، معاشرے کو درپیش مسائل، ان کے حل اور زندگی کے تمام لمحات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی آراء کو پیش کیا۔۔۔ یعنی کہ کوئی بھی قاری اس ایک ہی بک میں 73 رائٹرز کے آرٹیکلز اور تجاویز کو پڑھ سکتا ہے۔۔!

یہ کتاب بہت ہی دیدہ زیب پرنٹنگ اور خوبصورت کوالٹی کے ساتھ تقریباً 500 صفحات پہ مشتمل ہے۔۔۔ ہر آرٹیکل، ہر صفحہ اور ہر سطر پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔ سب رائٹرز نے بہت ہی دل و جان اور محبت کے ساتھ بہترین آرٹیکلز لکھے۔۔۔ اور رائٹرز کلب ٹیم نے خوش اسلوبی کے ساتھ اس کو سنوارنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔ اس کتاب میں بندہ کے بھی 5 رائٹ اپ شامل ہیں۔۔۔ جو سال میں لکھے گئے آرٹیکلز میں سے منتخب کیے گئے ہیں۔۔۔ آپ بھی ضرور پڑھئے۔۔!

میں برادر عارف رمضان جتوئی، مریم صدیقی اور رائٹرز کلب کی ٹیم کو سالنامے کے طور پہ اتنی بہترین کتاب پبلش کرنے پہ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔۔ یقیناً یہ ان کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ کہ 50 سے زائد نگینوں کو ایک لڑی میں پرویا ۔۔۔ اور اپنی محبتوں اور کوششوں سے ان کی خوبصورتی میں اضافہ کر کے ہمارے سامنے پیش کیا۔۔۔ اللہ پاک آپ کو اور ہم سب کو علم نافع عطا فرمائے ۔۔۔ قلم کا تقدس، حرمت اور اس کا قرض احسن انداز میں پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔ دین و دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران فرمائیں ۔۔۔ آمین ثم آمین۔۔۔ جزاکم اللہ خیر۔۔!

Facebook Comments