ہماری دم توڑتی تہذیب (انصر محمود بابر)

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب دولت کی ریل پیل نہیں تھی۔ جب مکان کچے اور رشتے پکے ہواکرتے تھے۔ سفرکا سب سے بڑا ذریعہ تانگہ یا محض گھوڑا ہوا کرتا تھا۔ یہ سواریاں بھی سب کو میسر نہیں تھیں۔ عام طور پہ سفر پیدل کیے جاتے۔ کچے پکے راستوں پہ کہیں کہیں مکان ہوتے جن میں عام طورپرسادہ، غریب مگر مخلص لوگوں کا بسیرا ہوتا۔ مسافر راستے میں آنے والے کسی بھی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور صاحب ِ خانہ کا مہمان قرار پاتا۔ حقہ، پانی، سادہ سا کھانا اور ساتھ میں اگر کوئی بچہ ہوتا تو اس کے لیے دودھ بھی پیش کیا جاتا۔

گھروں میں سرسوں کا ساگ اور مکئی یا باجرے کی روٹیاں پکتیں تو پورا ماحول مہک اٹھتا۔ آس پاس کے کئی گھرمل جل کر کھاتے۔ چاٹی کی لسی اور مکھن، دیسی گھی کی پنیاں اور جلیبیاں تو ہماری نہایت شاندار روایات رہی ہیں۔ سردی کی راتوں میں جب گھر کے بزرگ آگ کی انگیٹھی کے گرد بیٹھ کر بے فکری سے حقہ گڑگڑاتے تو زندگی کھل کر سانس لیتی محسوس ہوتی۔ خالص خوراک اور خالص رشتوں کی تاثیر زندگی میں رنگ اور خوشیاں بکھیرتی توکسی کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا تھا اور زیادہ تر لوگ لمبی عمر پاتے اور طبعی موت مرتے۔ سوائے ماچس اور نمک کے کوئی چیز خریدنی نہیں پڑتی تھی۔ جوتی، کپڑا اور دیگر ضروریات ِ زندگی کی تیاری مختلف پیشہ ور لوگ کرتے اور سارا معاشرہ استعمال کرتا۔

ابھی کل کی بات ہے کہ گھرمیں جب مہمان آجاتا تو پورے محلے کو خوشی ہوتی۔ ایک گھر کا مہمان گویا سارے محلے کا مہمان ہوا کرتا۔ گھر کے بڑے بتاتے ہیں کہ دیسی مرغی، دیسی انڈے، گڑ، شکر، دودھ اور چاول ایک دوسرے کے گھر سے تحفتاً مل جاتے تھے۔ کتنے بلند کردار تھے ہمارے اسلاف کہ جس کو بھائی بول دیا تو دنیا نے دیکھا کہ انھوں نے بھائی ہونے کا حق ادا کردیا۔ اگر کسی کے ساتھ چادر یا پگڑی کا تبادلہ کرلیتے تو حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر بھائی چارہ ہوتا۔ ہمارے گاﺅں دیہات میں آج بھی کہیں نہ کہیں ”ونگار“ ڈالی جاتی ہے۔ مثلاً ابھی چند دن بعد گندم کی کٹائی شروع ہونے والی ہے توسب لوگ مل کراپنی اپنی درانتی لے کر پہلے کسی ایک کے کھیتوں میں چلے جا تے ہیں اور کٹائی شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک ایک کرکے سب کی کٹائی بھی ہو جاتی ہے اور مزدوری بھی بچ جاتی ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کی آپ بیتیاں ہیں۔ یہ ساری روایات انہی کے ساتھ مخصوص تھیں اورانہی کے ساتھ چلی گئیں۔

ہمارا حال یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے ایک دوسرے کے حال سے ناواقف ہیں۔ اب اگرچہ دولت کی ریل پیل ہے مگر بے سکونی بھی انتہا کی ہے۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ جیسے جیسے دلوں میں دوریاں آرہی ہیں اسی طرح گھر کے آنگن میں دیواریں بن رہی ہیں۔ گھر میں کسی کا ایک باتھ روم، ایک ٹیلی ویژن یا ایک بیٹھک پہ گزارا نہیں ہوتا۔ سرِ شام ہر کوئی اپنے اپنے کمرے میں جا گھستا ہے اور جیسے جیسے رات ڈھلتی ہے ویسے ویسے سازشیں پروان چڑھتی ہیں۔

اپنی روایات سے دوری کا یہ عالم ہے کہ آج آپ کو ہر گھر میں کولڈ ڈرنکس تو مل جائیں گی لیکن شکنجبین، کچی لسی یا دودھ سوڈا شاید نہیں ملے گا۔ آپ کو چائے کے ساتھ سنیکس اور سموسہ تو مل جائے گا لیکن دیسی گھی کی پنجیری، چاولوں کے آٹے کی پنیاں اورخالص گڑ نہیں ملےگا۔ جوں جوں مکان پکے ہورے ہیں ویسے ویسے دلوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ آج ہم اپنی چیزوں کو تو سنبھال کر رکھتے ہیں اور رشتوں اور جذبات و احساسات کو استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ چیزیں استعمال کے لیے اور رشتے سنبھالنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اتفاق و اتحاد، اخوت و یکجہتی، ایثار و محبت، خلوص اور بے غرضی بھی ہماری دیگر روایات کی طرح دیمک زدہ کتابوں میں الماریوں کی زینت بن کر رہ جائیں گی۔ ہماری نفس پرستی کا اگر یہی عالم رہا تو آنے والی نسلیں محض کاروباری اور پیسہ کمانے کی مشینیں بن کر رہ جائیں گی۔ تو پھر لمبی عمر اور طبعی موت کوئی نہیں پائے گا۔ شوگر، ہارٹ اٹیک، برین ہیمرج اور حادثات ہمارا مقدر بن جائیں گے۔

Facebook Comments