عارف رمضان جتوئی کا خصوصی انٹرویو

صحافی، رائٹر اور کالم نگار عارف رمضان 29 اکتوبر 1990ءمیں پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں پیدا ہوئے، روزنامہ جنگ،روزنامہ جسارت، نیوز نیٹ ورک انٹرنیشنل(این این آئی)، ساﺅتھ ایشین براڈ کاسٹ نیوز ایجنسی اور کراچی اپ ڈیٹس میں بطور نیوز رپورٹر، نیوز ایڈیٹر اور شفٹ انچارج فرائض سر انجام دیے۔ نئے رائٹرز کے فورم رائٹرز کلب کے بانی اور سرپرست بھی ہیں۔ آئیے مزید ان کے متعلق ان سے خصوصی انٹرویو میں جانتے ہیں۔

سوال:آپ نے لکھنے کا آغاز کب اور کیسے کیانیزلکھنا کس سے سیکھا ؟
عارف رمضان جتوئی: شوق تو پڑھنے کا تھا۔۔۔ بچپن سے یہ شوق تھا۔ میں آموں کی پیٹیوں میں موجود اخبار جہاں یا کوئی بھی اخبار ملتا تو اس میں بچوں کا صفحہ ڈھونڈ کر پڑھتا تھا۔ مانیں کئی بار میں نے کچرے کے ڈھیر سے بھی اخبار اٹھا کر پڑھا۔ ہمارے محلے کے ایک وکیل صاحب تھے۔ ان کے گھر اخبار آتا تھا۔ میں نے کئی بار ان کے گھر کے باہر جو کچرا تھا وہاں سے اخبار جہاں اٹھا لاتا، اسے صاف کرتا اور پھر پڑھتا۔۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ میں ٹین ڈبے یا پلاسٹک کی جوتیاں جو کباڑ والے لیتے تھے وہ بیچ کر خود جا کر بچوں کا اسلام خرید کر پڑھتا تھا۔

اب جہاں تک سیکھنے کی بات ہے تو یہ اہم بات ہے۔ سیکھنے کے لیے میں نے جب ایک اخبار کے ایڈیٹر کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے لکھنا ہے تو انہوں نے مجھے منع کردیا کہا تم ابھی بچے ہو۔ میں چپ چاپ واپس آگیا۔ پھر کچھ روز بعد دوبارہ گیا تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے لکھ کر لائیں۔ میں نے لکھ کر دکھایا وہ بالکل بے کار تھا۔ انہوں نے میرے سامنے اس کو پھاڑا اور کہا اب نظر نہ آنا۔ میں اگلے روز پھر پہنچ گیا۔ وہ بولے کیا چاہتے ہو میں نے کہا کچھ نہیں بس یہاں مجھے بیٹھنے دیں اخبار پڑھنے دیں۔ وہ حیران ہوئے بولے اخبار پڑھ لیتے ہو میں نے کہا جی۔ تو اجازت مل گئی مگر ساتھ میں مجھے صفائی بھی کرنا پڑے گی۔ میں نے خوشی خوشی قبول کیا۔

یوں آفس میں گھس گیا اب وہاں سے آگے بڑھنا تھا۔ میں نے چھے ماہ تک صرف مراسلے لکھے۔ وہ بھی نہیں چھپے۔ میں کبھی روتا، کبھی اداس ہوتا مگر ہمت نہیں ہاری۔ ایک روز میں نے مخلوط نظام تعلیم پر مراسلہ لکھا۔ مراسلے کے چند الفاظ میرے تھے مگر آدھا چوری کیا تھا۔ وہ یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں اخبار والوں کو مجھ سے بغض تو نہیں یا میرے لکھے ہوئے میں مسئلہ ہے۔ جب وہ بھیجا تو جنگ، ایکسپریس میں چھپا۔ میری خوشی تھی ایک طرف دوسری طرف افسوس کہ چوری کیا تھا اپنا نہیں تھا۔پھر میں نے پڑھنا شروع کیا۔

اس دوران جب میرا پہلا اپنا مراسلہ چھپا تھا محشر اخبار میں تو اگلے روز اس پر اعتراضی مراسلہ آیا ہوا تھا۔ اس دن میں ڈر گیا تھا۔ مجھے لگا تھا جیسے کسی نے مجھ پر کیس کردیا ہو۔ جوابا مجھے ایک شخص نے بتایا کہ آپ کے الفاظ قابل اعتراض تھے۔ میں نے لکھا تھا معاشرے کے بگاڑ میں خواتین کا ہی کردار ہے۔ اس پر انہوں نے کہا تسلیم کریں اور اپنا معذرت نامہ لکھ کر اصلاح کردیں۔ میں نے وضاحت کی اور پھر بھیج دیا۔ اس کے بعد اس پر مجھے شکریہ کا جواب ملا۔ وہ پہلی بار تھا کہ جس سے مجھے ہمت ملی کہ جواب بھی دینا پڑ سکتا ہے اس لیے وہ لکھیں جو قابل قبول ہو۔ یوں سمجھیں کہ آپ کو ایسے مواقع پر پیچھے نہیں ہٹنا ہوتا بلکہ آپ کو ہمت ملتی ہے اور کچھ نیا ملتا ہے۔

میں نے بلاگ لکھنے کا آغاز چھ سال قبل کیا تھا۔ بلاگ میری زندگی کے وہ اہم پوائنٹ تھے جن پر دل کیا لکھاجائے کچھ۔ بلاگ حقیقت میں ہوتا بھی وہیں کہ جس سے آپ اپنے آس پاس کے حالات کو مختصر لفظوں میں جامع اور ایک واضح پیغام کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اس کا انداز کہانی والا بھی ہوسکتا ہے اور سیدھا سادھا بھی۔ میں نے بلاگ لکھنے کو ترجیح دی ہمیشہ اس کی وجہ تھی میرا معاشرے کے ساتھ ایک مضبوط تعلق۔ کہتے ہیں ایک صحافی معاشرے کی آنکھ کان جسم ہوتا ہے۔ ایسے ہی بلاگر بھی اسی معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا قلم کی بورڈ چلا رہا ہوتا ہے۔ میں نے جب جب معاشرے کے کسی زخم کو دیکھا لکھا۔ یوں کہوں کہ میرے لکھے ہوئے میں میں خود ہوں۔ میری سوچ ہے میرا کردار ہے اور میرا عمل ہے۔

سوال: ایک اچھے لکھاری بننے کے لیے کیا کیا ضروری ہے؟
عارف رمضان جتوئی: ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے ضروری ہے مطالعہ۔۔۔ اچھا مطالعہ اس کے بعد مشاہدہ اور اس کے بعد تجربہ۔
مطالعہ کیا ہے؟ مطالعہ آپ روز ہی کچھ نہ کچھ پڑھتے ہیں۔ وہ مطالعہ ہے مگر یہ مطالعہ وہ نہیں۔ جب آپ لکھنے کے لیے پڑھیں گے تو یہ مطالعہ مطالعہ کہلائے گا۔ یعنی لکھنے کے لیے پڑھنے کا مطالعہ۔ آپ کو معلوم ہے جب آپ لکھنے کے لیے پڑھتے ہیں وہ کچھ اور ہوتا ہے اور خالی مطالعہ کچھ اور ہوتا ہے۔تو اپنے لکھنے کے لیے مطالعہ کریں۔ ایک لفظ کے لیے سو لفظوں کا مطالعہ اور ایک تحریر کے لیے سو تحریروں کا مطالعہ اور پھر حاصل معلومات کو اپنے الفاظ میں اپنی تحریر میں لائیں۔

مشاہدہ۔ مشاہدہ روز ہی آپ کرتے ہیں۔ کئی طرح کے مشاہدے کرتے ہیں۔ گھر سے یونیورسٹی یا آفس تک کئی طرح کے مشاہدے ہوتے ہیں۔ کئی چیزیں اچھی اور کئی چیزیں بری لگتی ہیں۔ کچھ پر دل رو بھی دیتا ہے۔ یہ سب آپ کے مشاہدات کا حصہ ہیں۔ ان کو قلم کی نوک پر لانا فن ہے۔ ان کو قلم کے ذریعے بیان کرنا ہوتا ہے ایک بات جو بعد پریکٹکل زندگی سے تعلق رکھتی ہو اس میں جان بھی ہوتی ہے اور اثر بھی ہوتا ہے۔ معلومات اور مسائل کا حل یا مسائل کی طرف توجہ یہ آپ کی تحریر کا خاصہ ہونا چاہیے۔ فالتو لفاظی عام ہوتی ہے مگر فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔

تجربہ۔ بار بار اپنے قلم کو چلائیں۔ اماں روز دو سے تین بار کھانا بناتی ہیں میں روز دیکھتا ہوں۔ مگر مجھے آج بھی کھانا بنانا نہیں آتا۔ وجہ واضح ہے کہ میں نے کبھی کھانا بنانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اس لیے لکھنے کے لیے لکھنا ضروری ہے۔ کیا کیسے وہ بعد کی بات ہے مگر پہلی فرصت میں قلم تھامیں کچھ بھی لکھ دیں۔ کچھ نہیں آتا سمجھ تو روزانہ کی بنیاد پر ڈائری لکھیں۔ ڈائری کیا ہے جو دن بھر بیتا یا جو آج کے دن میں آپ نے کچھ خاص دیکھا سنا۔۔۔ تو جلد ہی آپ کو لکھنے کا تجربہ آنے لگے گا۔

سوال: پڑھنے کا شوق کس طرح پیدا ہوتاہے؟
عارف رمضان جتوئی: مطالعے کے لیے اہم بات ہے آپ کے ذوق کا پایا جانا۔ شوق اور ذوق دونوں باتیں مطالعے کے رجحان کو بڑھاتی ہیں۔ کتاب کا عنوان کیا ہے۔ کس پر لکھا گیا ہے۔ بور کتابوں سے آپ کا بچا کچھا شوق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اپنے ذوق کو مد نظر رکھیں۔ اس موضوع کو ڈھونڈیں پھر پڑھنا شروع کریں۔ یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ پڑھنا کیا چاہتے ہیں۔ جیسے میں جانتا ہوں مجھے تاریخ سے لگاﺅ ہے۔ تاریخ میں بھی میں ہر چیز نہیں پڑھتا بلکہ جو مجھے دل پر لگ جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس کو میں پڑھوں اور وہ بعد میں میرے کس کام آئے گی۔۔۔۔ ہمیشہ مطالعہ کی وجہ آپ کا علم بڑھانا اور اس کے بعد میں آپ اس سے کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں یہ دو باتیں ملحوظ خاطر ہونی چاہئیں۔ اردو ادب کمال کی چیز ہے مگر مجھے نہیں سمجھ آتا۔ میرا ادب اس وجہ سے کافی کمزور ہے۔ کہانیوں مین دل چسپی ہوسکتی ہے اگر اس میں لفاظی کی گئی ہو لفاظی سے مجھے پڑھتے ہوئے کئی الفاظ ملتے ہیں۔

سوال:آپ کے پسندیدہ مصنف کون سے ہیں؟
عارف رمضان جتوئی: یہ ایک مشکل سوال ہے ۔عمیرہ احمد کے ناول پڑھے ہیں۔ بانو قدسیہ، اشفاق احمد کو پڑھا۔ نمرہ احمد کوبھی پڑھا۔۔ مطلب کوئی ایک نہیں۔۔ میری عادت ہی بری ہے بندے سے زیادہ لکھے پر جاتا ہوں۔ کبھی نہیں دیکھا کس نے لکھا بس یہ دیکھا کیا لکھا ہے۔

سوال:کس موضوع پرلکھنا آپ کو زیادہ پسند ہے؟
عارف رمضان جتوئی: معاشرتی معاشرتی اور صرف معاشرتی۔۔۔ اس میں جو بھی آتا ہے۔ جس کا آپ کے گھر سے تعلق ہے، آپ کے گلی محلے سے تعلق ہے۔۔۔ سمجھیں تو آپ ہی سے تعلق ہے اس کا۔ اس کے دو فائدے ہیں۔ ایک تو لکھتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ میں خود اس میں کہاں کھڑا ہوں۔ وہ میری بھی اصلاح ہوتا ہے اور میرے بچوں کی بھی آنے والی نسلوں کی بھی۔

سوال:کس قسم کی کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں؟
عارف رمضان جتوئی: دنیا میں کئی کتابیں ہیں سب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اچھا برا سب لکھا ہوا مل جاتا ہے۔ یہ آپ کے ذوق پر منحصر ہے کہ آپ کو کیا دل پر لگ جائے اور پڑھ ڈالیں۔ کتاب کا نام تو نہیں معلوم البتہ مجھے تاریخ اور سفر نامے پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ میں نے 15 سال کی عمر میں کئی سفر نامے پڑھے۔ باقی یہ کہوں گا کھانے پہننے اور پڑھنے میں مجھے جو آسانی سے میسر آجائے وہی اچھا لگتا ہے۔

سوال: لکھاری لکھتے ہوئے اس حد تک ماورائی کردار تخلیق کرتے ہیں جن کا اس دنیا سے تعلق نہیں ہوتا۔ کیوں؟
عارف رمضان جتوئی: اسی کا نام ہی محرومی ہے۔ احساس محرومی کا شکار یہ لکھاری اپنے کردار کو امیر بناتا ہے، اپنی تمام من مانیاں پوری کرتا ہے اور یوں اسے سب کچھ دیتا ہے جس سے وہ خود محروم ہوتا ہے۔ کیوں کہتے ہیں لکھاری کا قلم اس کی سوچ کا عکاس ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے اگر اس کو موقع ملتا تو یہ امیر گھر میں پیدا ہوتا اور جو کچھ اس کا ہیرو کرتا ہے یہ بھی وہیں کچھ کرتا۔

بنیادی طور پر قلم کار اسٹوری رائٹر کو اپنے کردار وہ دینے چاہئیں جس کا وہ خود حصہ ہو۔ اس کو معلوم ہوگا کہ وہ کس حال میں ہے اور کیا ہے۔ اگر وہ کسی اور کا کردار ادا کر رہا ہے تو اس کو اس طرح کے بندے کو جاننا چاہیے۔ اس سے ملنا چاہیے اس کو سمجھنا چاہیے پھر اپنے ہیرو کو وہ کردار دینا چاہیے۔ کئی بار صرف سنی سنائی باتوں پر دھیان دیتے ہوئے لکھاری بہت زیادتی کر جاتا ہے اپنے ہیرو کے کردار میں۔ حقیقت سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ سختی میں بھی اختتام کردیتا ہے اور نرمی بھی۔

سوال:رائٹرز کلب کا آغاز کن مقاصد کے تحت کیا اور ان مقاصد کی تکمیل میں کس حد تک کامیاب ہوئے؟
عارف رمضان جتوئی:رائٹرز کلب کا آغاز کیا گیا تھا نئے لکھاریوں کے لیے۔ ہمیں لگتا تھا کہ نئے لکھاریوں کو اخبارات میں جگہ نہیں ملتی تو کیوں۔ ہم نے یہ کیا کہ سب سے پہلے اخبارات کی لسٹ بنائی۔ پھر ان کے ایڈیٹرز سے فون پر بات کی۔ ان کو اپنا تعارف کروایا۔ انہیں بتایا کہ ہم لکھتے ہیں

ہمیں آپ کے اخبار میں جگہ نہیں ملتی کیوں کیا وجہ ہے کہ آپ ہمیں جگہ نہیں دیتے؟
اس کا یہ فائدہ ہوا کہ انہوں نے پہلے تو ہمیں اپنی پالیسیاں بتائیں۔ پھر اپنا متعلقہ ای میل ایڈریس دیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ہم رانگ پر تھے۔ رائٹ نمبر ملتے ہی ہمیں جگہ ملنا شروع ہوگئی۔ یہ خوش گوار احساس بھی تھا کہ ہمیں ملکی سطح پر نمایاں اخبارات میں جگہ ملی۔ پھر ہمیں لگا کہ ہمیں اپنے رائٹرز کی بھی اصلاح کرنی چاہیے۔ بغیر اصلاح کے بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس کے لیے ہم نے ایک ایڈیٹر تھے اخبار کے ان سے خدمات لیں۔ اس میں ہمیں خود بھی سیکھنے کو ملا ساتھ ساتھ ہمارے رائٹرز کو بھی نیا بہت کچھ ملا۔ اس وقت ہمارے پاس سے کئی اچھے رائٹر تیار ہوئے۔ وہ اب ہمارے ساتھ نہیں مگر ان کا پہلا رائٹ اپ ہمارے پاس سے ہی شائع ہوا۔ ہم اپنے کام پر مطمئن ہیں۔

میں ذاتی طورپر کہوں تو ہمارے جتنے بھی نئے لکھاری ہیں سب ہی کمال ہیں۔ بس ان کو بتانا چاہیے کہ وہ کیسے کمال ہیں۔ مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ لکھتے سب ہی ہیں مگر یہ ان کو کوئی نہیں بتاتا کہ لکھنا کیا ہے اور کیسے لکھنا ہے۔ یہ کام ہم کررہے ہیں کس حدتک کامیاب ہیں یہ تو نہیں معلوم مگر جو اللہ نے ہمیں عقل ہمت دی اس کے مطابق کر رہے ہیں۔ سو فیصد نہ سہی مگر جو ہے وہ تو کررہے ہیں۔وہیں کہ ہم نے باتیں نہیں کوشش بھی کی تھی۔

سوال:رائٹرز کلب کا مسقبل کا لائحہ عمل کیا ہے؟
عارف رمضان جتوئی:رائٹرز کلب کے کئی لائحہ عمل ہیں۔ پہلی فرصت میں ترجیح ہوگی نئے قلم کاروں کے قلم کو چلانا۔ انہیں سیکھانا بتانا اور ان کو اخبارات تک رسائی دینا۔ ہماری ترجیح ہے ایسی قوم کی تیاری جن کے کردار اور افعال میں تضاد نہ ہو۔ جو کہیں تو عمل بھی کریں۔ جن کے کہنے پر لوگ عمل کریں اور تاثیر رکھیں۔ ہماری ضرورت ملک کی ضرورت اور ہمارے دین کی ضرورت ہیں یہ سب افراد۔ ہماری جنگ ہمارا مقابلہ ایک سوچ کے ساتھ ہے۔ وہ جو لبرلز سوچ ہے۔ وہ جو فحش سوچ ہے وہ جو ملک اور دین مخالف سوچ ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے ہمارا مقابلہ اس وقت ففتھ جنریشن وار سے ہے۔ دیکھتے ہیں اس میں ہم کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ نہ بھی ہوئے تو کم از کم ایک کوشش ہے جو ہم کر جائیں گے اور یہ کہہ سکیں گے جو ہوسکا تھا وہ تو کیا ہی تھا۔

سوال:رائٹر ز کلب کے ٹوٹل کتنے ممبر ہیں؟
عارف رمضان جتوئی: رائٹرز کلب میں ڈیڑھ سو کے قریب ممبرز ہیں۔

سوال:لکھاری ہی لکھاری کا دشمن کیوں ہے
عارف رمضان جتوئی:بالکل ایسا ہے بھی ہے نہیں بھی ہے۔ ایک سمجھدار لکھاری اور جس کو قلم کی سجھ بجھ ہے وہ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا۔ دشمنی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ایک ہی قبیلہ ہے تو پھر دشمنی کیسی۔ یہ ذہنی مفلوج لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ نہیں بہت ہی کم ہیں مگر پروفیشنل جیلسی سے نہ تو کسی کا نقصان ہوتا ہے نہ فائدہ۔ ہمیں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ جو اس طرح کے کام کر رہے ہیں ان سے کہوں گا خدارا ایسا نہ کریں۔ آپ کا قلم قوم و ملت کی امانت ہے۔ اللہ نے ایک نعمت دی ہے تو اس کا درست استعمال کریں۔ میں اپنے اس پلیٹ فورم سے اپنے تمام رائٹرز خاص طور پر ممبرز سے کہوں گا آپ سے مجھے ایسی کوئی شکایت نہ ملے۔ کوئی کچھ بھی کرے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں اپنا کام کرنا ہے اپنے آپ کو دیکھنا ہے اور صرف اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔

سوال:آپ مستقبل میںرائٹرز کلب کو کہاں دیکھتے ہیں؟
عارف رمضان جتوئی:دیکھتے تو ہم بہت بلند ہیں۔ نہ انتہا ہے نہ ہی حد ہے۔ اب کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں اس کا علم نہیں ہے۔ بس یوں سمجھیے کوشش ہے جب تک ہے اور جب تک اللہ نے ہمت دی ہے۔ تب تک جاری رکھیں گے۔ عروج کو زوال ہوتا ہے یہ بات تو میں جانتا ہوں۔ زوال ہوگا کب کیسے کیوں یہ نہیں معلوم یہ سوچ کر نہیں بڑھا جاتا بلکہ یہ سوچ کر بڑھتے چلیں جب تک کر سکتے ہیں کریں گے۔

سوال:آپ کی نظرمیں آج کے دور میں مسلمانان عالم کوجارحانہ انداز اپناناکیسارہے گا؟
عارف رمضان جتوئی:مسلمانان عالم کو جارحانہ انداز اپنانا کیسا رہے گا۔۔ پہلے تو یہ واضح ہو کہ وہ کس حوالے سے جارحانہ انداز اپنائیں گے۔ کیا شعائر اللہ کی بے حرمتی پر تو یقینا اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔۔۔ یا پھر خواہ مخواہ بیٹھے جارحانہ انداز اپنائیں گے تو بے وقوفی ہے۔ صورتحال کو سمجھیں۔ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ اس وقت آپ کی حکومتوں کا کردار کیا ہے۔ میرے آپ کے سوچنے سمجھنے سے کیا ہوگا۔ معاملات تو حکومتوں کے بیچ میں ہیں۔ سعودی عرب جیسا ملک اپنے مفادات کے لیے اسرائیل، امریکا اور بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے۔ حالیہ او آئی سی کا اجلاس ہوا اس سے بھی آپ آگاہ ہوں گے۔

بنیادی طور پر عالمی سطح پر تمام مسلم ممالک کو جس مقام پر لاکھڑا کیا گیا ہے اس میں جارحانہ پالیسی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا۔۔۔ اس کے علاوہ دوسرا آپشن ہے کہ آپ صرف وضاحتیں پیش کرتے رہیں یا پابندیوں پر پابندیاں قبول کریں اور جو کہا جائے قبول کرتے چلے جائیں۔ اب جارحیت کا جواب ملے گا اس کے لیے خود کو تیار کریں یہ کہنا کہ جنگیں ہوتی ہیں تو نقصانات ہوتے ہیں جنگوں میں نقصانات ہی ہوتے ہیں مگر بعد ازاں فائدے اس سے کہیں زیادہ بھی ملتے ہیں۔ ورنہ خاموشی سے اپنی سالمیت دوسرے کے حوالے کردیں اور امن کی راہ دیکھتے چلے جائیں۔

سوال:نیوزپیپر اور ٹی وی والے سیکورٹی کے نام پہ صحافیوں سے بھی پیسوں کی ڈیمانڈ کیوں کرتے ہیں؟
عارف رمضان جتوئی: سیکورٹی کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے یہ سب فیک اور غلط ہے۔ اس کے لیے صحافتی اداروں کو باقاعدہ ایک لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔ مسئلہ ہی یہی ہے کہ یہ ادارے اور ان کے مالکان خود اس پورے دھندے میں ملوث ہیں۔ اگر کوئی نہیں ہے تو ان کے نمائندے یہ کام سر انجام دے رہے ہیں۔ پتا سب کو ہے بس اپنے اخراجات سے بچنے کے لیے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔

سوال: کتب بینی کا رجحان کافی کم ہوگیا ہے خاص طور پر نوجوان طبقے میں، آپ ان میں شوق پیدا کرنے میں کیا کردار ادا کریں گے؟
عارف رمضان جتوئی:اس کے لیے بنیادی طور پر ذمے داری گھر کے بڑوں کی بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس طرف مائل کریں۔ لکھاری کو کوشش کرنا چاہیے وہ ایسا لکھے جس پڑھنے کا دل کرے، یقینا اچھے لکھے ہوئے کو سب ہی پڑھتے ہیں۔ اب اچھا لکھا ہوا کیا ہے جس میں معلومات ہو، موٹیویشنل میٹر ہو۔ جس سے کچھ حاصل ہو۔ ایک سمت کا تعین ملے۔ کچھ ایسا جو ہر فرد کے دل کی آواز ہو، ضرورت ہو۔

سوال: تحقیقی رپورٹنگ ایک مشکل مرحلہ ہے اس کے لیے کیا ضروری ہے؟
عارف رمضان جتوئی:تحقیقی رپورٹنگ یقینا مشکل مرحلہ ہے مگر اس کے لیے سب سے پہلے سمجھیں۔ آپ کو کرنا کیا ہے۔ ایک فرد کو سرکاری ادارے تک رسائی چاہیے تو اس کے لیے سب سے پہلے اسے لیٹر کی ضرورت ہوگی۔ آپ جب تک فیلڈ میں نہیں نکلیں گے گھر بیٹھے کچھ نہیں کرسکتے۔ فیلڈ میں نکلتے ہی آپ کی راہیں ہموار ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ایک سے دو دو سے تین دوست ساتھی ملتے جاتے ہیں۔ فیلڈ میں ہر شخص اکیلا ہوتا ہے اسے آپ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ تو نکلتے ہی سب کچھ مل جاتا ہے وسائل بھی اور ذرائع بھی۔ باقی کھوجی بنیں گے تو مشکلات آئیں گی مگر خود کبھی ایسی جگہ یا مشکل میں نہ ڈالیں کہ زندگی ہی گنوا بیٹھیں۔ بہتر ہے تحقیقاتی رپورٹنگ میں بھی اپنے قدکاٹھ کو مد نظر رکھ کر چلیں۔یاد رکھیں لازمی نہیں ہوتا سب کچھ آپ کو ہی کرنا ہے۔ بس وہ کریں جو آپ کے ذمے ہے یا آپ کر سکتے ہیں۔

سوال:اخبارات ہر دور میں آمریت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں لیکن اپنی اصل میں ان کا بھی نئے لکھاریوں سے رویہ آمرانہ ہی ہوتا ہے اس کی وجہ؟
عارف رمضان جتوئی:اخبارات ہر دور میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہ بات تو ٹھیک مگر خود اخباری فیلڈ میں موجود کچھ افراد کا رویہ غیر مناسب ہے یہ بھی درست ہے۔ یہاں سب کا نہیں کہہ سکتے کچھ کا کہہ سکتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناتے اخبار کے لوگوں میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے کہ وہ کوئی بڑی توپ چیز ہیں۔ یہ خیال ہی انہیں اس مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ اب کسی کی ذات کے رویے پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ غیر مناسب ہوتا ہے۔ بہت سی خامیاں ہیں اخباری فیلڈ میں مگر اب کی بات کریں تو اب یہ بہت کم ہوچکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود اخباری فیلڈ بھی زوال کا شکار ہے۔ خود اس کے ساتھ غیر مناسب رویہ اپنایا جارہا ہے۔ یہ آمروں کے خلاف کھڑے تھے اب جمہوریت نے ان کا تختہ الٹ دیا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد آپ کو یہ بچے کھچے بھی شاید نظر نا آئیں۔ تو جو کچھ انہوں نے کیا اب ان کے ساتھ ہورہا ہے۔

ایک بات اور بھی ہے کہ نئے لکھاریوں کے ساتھ رویہ اگرچے درست نہ ہو مگر نئے لکھاری دے کیا رہے ہیں اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ نئے لکھاری کی تحریر کو پڑھ کر رویہ ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ بعض نئے لکھاریوں کو چھوڑ کر بعض نے یقینا انت مچایا ہوا ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں۔ کسی نے کہا تھا مجھ جیسوں کے لیے جنہیں پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہے ہیں۔

سوال:کیا اخبار اور میڈیا معاشرے میں کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو کیا؟
عارف رمضان جتوئی: میڈیا ہی معاشرے کو چلا رہا ہے۔ آپ سمجھیں تو سمجھ آئے گا۔ میڈیا ڈیزائن دیتا ہے کچھ روز میں وہ آپ کو گھر میں نظر آتا ہے، میڈیا بتاتا ہے حالات بہت کشیدہ ہیں۔۔ پانچ منٹ بعد سب کہہ رہے ہوتے ہیں باہر نہیں نکلنا حالات بہت خطرناک ہیں۔ میڈیا کچھ نہیں کرتا بس صرف آپ کے ذہن کے تار ہلاتا ہے، آپ کے معاشرے کے ہر فرد کی سوچ بدلتا ہے۔ ہلکی ہلکی چوٹ مارتا ہے اور سوراخ کر دیتا ہے۔ سمجھ آتا ہے ایک عرصے بعد جب بیٹھا باپ سے الجھ پڑتا ہے۔ جب بچی والدین کو جاہل کہہ کر یونیورسٹی چلی جاتی ہے۔ میڈیا بدلتا ہے۔ اچھا برا کیا مگر بدلتا بہت کچھ ہے۔ سمجھیں تو بہت کچھ سمجھ آجائے گا۔ دس سال کا فرق دیکھیے معلوم ہوجائے گا اب ہم کہاں کھڑے ہیں تب ہم کہاں تھے۔

سوال:آج میڈیا زوال کا شکار ہے کیا اس کی وجہ یہ کہ جھوٹ خریدنے والوں نے سرمایہ کاری چھوڑ دی ہے؟

عارف رمضان جتوئی:میڈیا زوال کا شکار نہیں ورکر زوال کا شکار ہیں۔ میدیا مالکان اپنی کمائی کررہے ہیں ان کو سب کچھ مل رہا ہے جھوٹ بھی سچ بھی۔ مائنڈ سیٹ کرنے والے تھینک ٹینک بھی اور خریدار بھی۔ ورکر زوال کا شکار ہے اور وجہ ہے نوکری۔۔۔۔ نوکری سے نکل کر کبھی باس کی سیٹ کا سوچا ہی نہیں۔۔۔

سوال: نئے لکھاریوں میں مطالعے کا ذوق نہیں پایا جاتا، وہ کسی دوسرے لکھاری کو پڑھنا پسند نہیں کر تے اس کی کیا وجہ ہے؟
عارف رمضان جتوئی: یہ بہت غلط رویہ ہے۔ نئے لکھاری کو دوسرے کو پڑھنا چاہیے۔ سمجھنا چاہیے۔ سیکھنے کے لیے ہر فرد چاہیے وہ نیچے کا ہو یا اوپر کا ہو سیکھاتا ہے۔ آپ کو کوئی بھی سیکھا جائے کیا معلوم اس لیے پڑھنا چاہیے۔ میں تو کہتا ہوں اچھے لکھاری سے زیادہ ایک نیا اناڑی لکھاری بہت کچھ سیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کو لگتا ہے اگر اس کو یہ یوں لکھتا درست ہوتا تو بنیادی طور پر وہ سیکھ رہا ہوتا ہے۔ پڑھنا چاہیے۔ مناسب رائے دینی چاہیے۔ اچھے کی تعریف کرنی چاہیے۔

سوال:یہ شعور کیا بلا ہوتی ہے جسے سبھی اجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن ہوتا ہی نہیں؟
عارف رمضان جتوئی:شعور اجاگر کرنے کا مطلب ہے آپ گھر سے نکل رہے تھے۔ دروازے میں کٹورا پڑا تھا۔ آپ اس کے اوپر سے گزر گئے اسے اٹھا کر کسی محفوظ جگہ پر نہیں رکھا۔ کسی نے آپ کو توجہ دلائی کہ یہ اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیتے توکتنا اچھا ہوتا اس نے آپ کو شعور دلانے کی کوشش کی۔ یہ سب ہماری زندگی کے ہر موڑ ہر شعبے سے جڑے کچھ عوامل ہیں۔ ان کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں، کیا کررہے ہیں اگرچہ ان کا تعلق آپ کی ذاتی زندگی سے ہے مگر۔۔۔۔۔۔ سمجھیں تو آپ کے علاوہ کے کچھ لوگوں کا بھی اس سے تعلق ہوتا ہے۔ شعور اور آگاہی بتاتی ہے کہ وہ عمل آپ کو نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مگر آپ نہیں کرتے تو ایک دوسرا آپ کو بتاتا ہے۔ سمجھاتا ہے اور یہ اس کا فرض ہے۔ آپ سمجھیں نہ سمجھیں یہ آپ کی سوچ اور عقل پر منحصر ہے۔

سوال:کیا کبھی لکھنے والے خوشحال ہو سکیں گے؟
عارف رمضان جتوئی:لکھنے والا خوش حال ہی ہوتا ہے۔ بس ذرا سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم لکھتے کیوں ہیں۔۔۔ کیا خوشحالی کے لیے۔۔۔ یہ تو اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ میں نے کبھی اپنے لکھے کے لیے خوشی کا مطالبہ کیا نہ اور ہی ایسی کوئی خواہش رکھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ لکھاری کی خوشحالی کیا ہوتی ہے۔ میری خوشحالی یہ ہے کہ میرے لکھے کو پڑھا جائے، اس پر عمل کیا جائے، میری کہی بات کو سمجھا جائے۔ میرے قاری پر اثر ہونا چاہیے اور پڑھ کر وہ اس سے سیکھے کچھ اچھا ہوگا تو مجھے اس کا اجر ملے گا جو میری حقیقت زندگی میں میرا سرمایا ہے۔ وہ مجھے میری نیت کے مطابق ملجاتا ہے۔ تو خوشحال ہی ہوا نا۔

Facebook Comments