پہلی تحریر، پہلی اشاعت، پہلی کتاب یہ باتیں کہنے میں گرچے کسی کے لیے معنی نہ رکھتی ہوں مگر جو اپنے قلم سے لکھے پھر دل چاہتا ہے کہیں تو میرا نام جگمگائے اور جب وہ کسی اخبار میں چھپ جائے تو خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ اس تراشے کو قیمتی خزانے کی طرح کر چھپا کر رکھتے ہیں ہم جیسے نئے لکھاری، جسے کوئی نہیں جانتا جسے یہ بھی نہیں پتا کہ اخبار کا دفتر کہاں ہیں اور اچانک کچھ تھامنے والے ہاتھ ایسے ہم نئے لکھنے والوں کو گرتے پڑتے قدموں سے اٹھاتے ہیں لکھنا سکھاتے ہیں نوک پلک سنوارتے ہیں۔ رموز و اوقاف سمجھاتے ہیں کہ ہماری تحریریں ملک کے نامور اخبارات کی زینت بننے لگتی ہیں میں نے کئی بار خود سے پوچھا کیا یہ آسان کام ہے؟ جواب آیا کہ نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا۔

تو بس ایسا ہی میرے ساتھ ہوا اور جب یہ خبر ملی کہ اپنی پانچ تحریر بھیج دیں سالنامہ بنے گا کتابی شکل میں تو دل بلیوں اچھلنے لگا یعنی کہ مابدولت اور صاحب کتاب یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں یہ دن گزرے۔ ترتیب وار کتاب بننے کے مرحلے کی خبر ملنے لگی تو اشتیاق دو چند ہوگیا۔ایک دن ایسا بھی آیا کہ کتاب میرے ہاتھ میں تھی”قلم کا قرض“ خوشی شاید چھوٹا لفظ ہے۔ الحمدللہ! میں بہت خوش تھی پہلے صفحے پر محترم ایڈیٹر صاحب کے توصیفی کلمات لکھے تھے جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

کتاب کی کوالٹی دیدہ زیب ٹائٹل پیج اور اعلیٰ معیار کے صفحات کھولتے ہی خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ پچاس نئے لکھاریوں کی بازگشت اس کتاب میں سنائی دیتی ہے یقیناً جو جو اپنی تحریر پڑھتا ہوگا خوش ہوتا ہوگا کہ یہ میری کتاب ہے۔پیش لفظ میں لکھے گئے عارف صاحب کے یہ الفاظ کہ! ”کہنے کو تو شاید یہ ڈھیر ساری بے ترتیب تحریروں کا مجموعہ ہے مگر کوئی سمجھے تو ہر تحریر اپنی جگہ مکمل طور پر مرتب ہے“۔ واقعی یہ مکمل ہے، عمدہ ہے اطہر ہاشمی، حمیرا اطہر، طیبہ بخاری، سلمی اسد کے تاثرات اور علیم احمد کے مشہورے یونہی نہیں لکھے گئے انھیں کچھ خاص لگا جب ہی تو ہم پر اتنی محنت کی گئی۔

مصنف کے تعارف کے ساتھ تحریروں کا اچھوتا انداز بہت اچھا ہے رشتوں کے ریشم سے لے کر افسانوں تک، سائنس کے کرشمات اور اسوہ حسنہ کی محبت میں ڈوبے مضامین۔ زمانے کی سردو گرم ہوا کے تھپیڑے ہوں یا بچوں کی کہانیاں، تلخ حقائق ہوں یا پاکستان کا ماضی و حالیہ سیاست الغرض سب کچھ تو ہے اس میں۔یہ پہلا سفر ہے جسے قرض کی شکل میں ہم سب کو ادا کرنا مجھ سمیت نئے لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم دینا عزت و احترام دینا اور ایک مقام تک پہچانے میں عارف صاحب، مریم صدیقی صاحبہ اور دیگر معاونت کرنے والوں کا تہہ دل سے شکریہ اللہ اس رائٹرز کلب کو شاد وآباد رکھے اور اس کے مقاصد کو کامیاب کرے آمین۔

Facebook Comments