اگر نسیم حجازی کے تعارف کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نسیم حجازی ایک بہت بڑے تاریخ دان تھے۔انہوں نے تاریخی واقعات کی ایسی منظر کشی کی ہے کہ کبھی پڑھتے پڑھتے آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں تو کبھی انسان کے اندر کچھ کرنے کی لگن اور جستجو پیدا ہو جاتی ہے۔ان کے ناول پڑھ کہ نہ صرف انسان کو معلومات حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔”نسیم حجازی“آپ کاقلمی نام جبکہ آپ کا اصلی نام شریف حسین ہے۔ نسیم حجازی 2 مارچ 1914 کو مشرقی پاکستان کے ایک گاؤں ساجن پور میں پیدا ہوئے اور پاکستان بننے کے بعد 1947 میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور میں سکونت حاصل کی۔ انھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ پاکستان میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ بعد ازاں گریجویشن اسلامیہ کالج لاہور سے 1938 میں کیا۔

نسیم حجازی تاریخی ناول لکھنے والے مصنف تھے۔ انہوں نے بہت سے ناول تحریر کیے جن میں سے کچھ مشہور یہ ہیں؛اور تلوار ٹوٹ گئی،داستان مجاہد،محمد بن قاسم،آخری معرکہ،آخری چٹان۔نسیم ججازی نہ صرف تاریخی ناول نگار تھے بلکہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے اور پاکستان کی آزادی کے لیے لڑنے والے شخص بھی تھے۔

انہوں نے قلم کے ذریعے اپنے وطن پہ بہت بڑا احسان کیا۔ نسیم حجازی کو 1992 میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔نسیم حجازی 2 مارچ 1996 کو اپنی پیدائش ہی کی تاریخ کے دن اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے۔

مجھے نسیم حجازی کی کتاب”محمد بن قاسم” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پڑھنے کی سب سے بڑی وجہ میری تاریخ سے دلچسپی اورمطالعہ کا شوق بنا لیکن نسیم حجازی کا یہ ناول ”محمد بن قاسم“ پڑھنے کے بعد ان کے مزید ناول پڑھنے کی جستجو اور تاریخ میں مزید دلچسپی گہری ہو گئی۔

نسیم حجازی کا یہ کتاب لکھنے کا سبب ان کے دوست و احباب کی طرف سے داستان مجاہد پڑھنے کے بعد پر زور فرمائش بنی ، بذات خود نسیم حجازی کے دل میں”محمد بن قاسم“کے لیے گہری عقیدت و محبت پوشیدہ تھی جو کہ ہر محب وطن برصغیر کے مسلمان کے دل میں ہونی چاہیے ۔

نسیم حجازی کا ناول ”محمد بن قاسم“دو حصوں پہ مشتمل ہے پہلا حصہ ”ناہید“نامی ایک لڑکی کے نام سے ہے جس کی ایک آواز کی بدولت پورا سندھ فتح ہونے کے اسباب پیدا ہوئے اور دوسرا حصہ ”کمسن اور نوجوان سالار“ یعنی محمد بن قاسم کے نام سے ہے۔کتاب کا پہلا حصہ اس تاریخ کی نشاندہی کرتا ہے جس کا علم ہمیں نہ تو نصابی کتابوں میں ملتا ہے اور نہ بڑی بڑی تاریخی کتابوں میں۔اس حصے میں نہ صرف سچے مومن کی خصوصیات بیان کی گئیں ہیں بلکہ ایک بہترین مومنہ عورت اور اس کے صبرو شکر کی بھی داستان موجود ہے۔ اس حصے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہم مشکل سے مشکل حالات میں بھی کیسے کسی دشمن کو دوست بنا سکتے ہیں۔کیسے ہم کسی راہ سے بھٹکے ہوئے شخص کو سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں۔اس حصہ میں کہیں جذبات کا سمندر بہتا ہے تو کہیں امید کی کرنیں تو کہیں صبرو شکر کے ساتھ اللہ کی ذات پہ بھروسے کی امنگیں۔ تو کہیں ظلم ستم کی داستانیں، تو کہیں دل کی آرزو کا دل میں لے کر اس جہاں سے کوچ کرنااور بہت سے غیر مسلم کا اسلام کے دائرے میں داخل ہونا۔ ایسی بہت ساری داستانیں پہلے حصے میں شامل ہیں۔

دوسرے حصے میں”کمسن اور نوجوان سالار“ محمد بن قاسم اور حجاج بن یوسف کے رشتے،اس رشتے کی پیچیدگیاں اور محمد بن قاسم کی ذاتی زندگی سے لے کے عرب کے حالات اور اس وقت کے موجودہ امیر المومین اور نامزد امیر المومین کے بارے میں بھی تمام واقعات موجود ہیں۔اس حصے کو پڑھ کر ہر نوجوان کے دل میں احساس و جذبات کی ایسی کفیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کسی خاص مقصد کے لیے واقف کرنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی ماں یہ ناول پڑھے تو یقینا اس کے دل میں اس بات کی چاہت ابھرتی ہے کہ میں بھی محمد بن قاسم جیسا بیٹا اس ملک و ملت کو دوں۔میں بھی ایسے بیٹے کی ماں ہونے کا شرف حاصل کر سکوں۔

یہ ناول ایک بہترین اور اخلاقیات کے اعلی درجے پہ فائز نوجوان کی عکاسی کرتا ہے۔ کیسے 12000 فوج ایک لاکھ سے زیادہ فوج میں تبدیل ہوئی اور اخلاقیات کی اعلیٰ سے اعلیٰ مثالیں اس ناول میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔آخر میں محمد بن قاسم کے انجام کے حوالے سے آنکھوں کو پر نم اور اسلام کو ایک عظیم انسان کو کھو دینے کا دکھ ہوتا ہے۔میرے خیال سے یہ تاریخ کے حوالے سے ایک عمدہ ناول ہے جس میں واقعتاً تاریخ کا صحیح معنوںمیں حق ادا کیا گیا ہے لیکن محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے جو اس کتاب میں درج ہے مختلف کتب میں مختلف ملتی ہے۔ علاوہ ازیں محمد بن قاسم کے جنازے کے ساتھ یہ ناول ختم ہو جاتا ہے اگر اس میں محمد بن قاسم کی زوجہ اور ان کی اولاد کے حوالے سے کچھ سرسری درج ہوتا ہوا مزید اطمینان کا باعث اور معلومات کا ذریعہ بنتا ہے۔

یہ کتاب میں ہر ماں اور ہر نوجوان کو پڑھنے کا مشورہ دوں گی کیوں کہ آج کل ہمارے معاشرے میں ایسی ماؤں اورایسے نوجوانوں کی شدید کمی ہے جس کی ہمارے معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments