گزشتہ چند روز قبل وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے غربت کے خاتمے کے عنوان پر ایک خطاب کیا جس میں انہوں نے ریاست مدینہ اور خلفاءراشدین کے ادوار کو بطور مثال پیش کیا۔ ملک کے دیرینہ مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ غربت ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں یہ ایک اچھا اقدام اور ایک اچھی سوچ ہے جس کو ماقبل کی طرح ایک بار پھر سراہا جائے گا۔

لیکن! پاکستان بننے کے بعد سے اب تک اس وطن عزیز کی باگ ڈور جن ہاتھوں میں رہی، ان میں سے ہر ایک نے یہ نعرہ لگایا کہ ”ہم پاکستان سے غربت کا خاتمہ کریں گے“ جس کے لیے انہوں نے اپنی تئیں کوشش بھی مگر عرصہ دراز سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود آج تک اس مسئلے سے نکلنا ممکن نہ ہو سکا، جو ایک قابل تشویش امر ہے۔ اب موجودہ دور حکومت نے بھی اس معاملہ کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے پچھلی حکومتوں کی طرح کئی ایسے منصوبے بنائے جن سے وہ غربت کو الوداع کہہ سکیں، لیکن کیا وہ اپنے اس منصوبے کے مطابق اپنے مقصد میں کامیابی پالیں گے؟ یاپھر ماقبل کی طرح وقت گزرتے اقتدار دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور مسائل جوں کے توں باقی رہیں گے؟

جناب عمران خان صاحب نے برسر اقتدار آتے ہی اس ملک کے نظام کو ریاست مدینہ کے مطابق چلانے کی بات کی، جو یقیناً قابل ستائش اور قابل تحسین امر ہے۔ اب جب کہ اس عظیم مشن پر آنے کی بات کرہی چکے ہیں، تو اب مسائل کے حل کے لیے ریاست مدینہ کو دیکھنا قابل قدر ہوگا۔ اسلام کا ایک زمانہ وہ بھی گزرا کہ جب مسلمان فقر و فاقہ کی کٹھن صورتحال سے گزرے، حتی کہ خود رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی حالت یہ ہے روایت میں آتا ہے کہ ”کئی کئی دنوں تک چولہا نہ جلتا تھا، ایک دو کھجوروں پر ہی گزر بسر ہوتا تھا“۔ مگر ایک زمانہ وہ بھی آیا کہ خلفائے راشدین کے ادوار میں اموال کی اتنی فراوانی ہوئی کہ کوئی زکوٰة لینے والا نہ ملتا کہ مال دار اپنی ذمہ داری پوری کرسکے۔

اس حیران کن تبدیلی کے پیچھے آخر وہ کون سی حکمت عملی کارفرما تھی کہ جس نے غربت کی کمر توڑ کر، دوسروں کے سہارے چلنے والی رعایا کو اپنے پیر پر کھڑا کردیا۔ صاحب اقتدار حضرات جو ریاست مدینہ کو اپنا آئیڈیل تسلیم کرچکے ہیں ان کو بھی اس حکمت عملی کی طرف نظر کرنا ہوگی تاکہ اس مثبت سوچ پر پیش قدمی کرتے ہوئے بامراد ہوسکیں۔ یاد رکھیں! کسی بھی ملک کی غربت اور فراوانی میں اس ملک کی معاشی نظام کا بڑا دخل ہوتا ہے، اگر معاشی نظام منفی اصولوں سے بچ کر مثبت پہلوو¿ں پر کاربند رہے، تو ملک سے یقینی طور سے غربت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔معاشی نظام کے استحکام کے لیے جہاں بے شمار اصول ہیں تو وہیں دو بنیادی اصول سرفہرست ہیں، ایک سودی نظام کو ختم کرنا اور دوسرا شرعی اصولوں کے مطابق زکوٰة کی ادائیگی کا نظام نافذ کرنا۔ یہ دو بنیادی نظام ایسے ہیں کہ اس کا نفاذ کم وقت میں حیران کن تبدیلی لا سکتا ہے۔

جہاں تک ملکی معیشت میں سودی نظام کا تعلق ہے تو ہم میں سے ہر ایک اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ %95 ہمارے معاملات سودی ہیں۔ سود کے بارے میں قرآن وحدیث میں جو وعیدیں موجود ہیں وہ ایک طرف، اس معاملے کی وجہ سے معیشت اور رعایا کو کس حد تک ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اس کو بیان کی گرفت میں لانا ناممکن ہے۔ جس نظام کا نقشہ یہ ہو کہ ”امیر امیر تر ہو جائے اور غریب غریب تر“ تو سوچیں کہ ایسے نظام کی موجودگی سے کہاں غربت ختم ہوسکتی ہے۔ یہ نظام غریب کو غریب تر تو بنا سکتا ہے، مگر اس کی موجودگی غربت کے خاتمے کے لیے محض ایک خواب و خیال ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی خرابی کو آن واحد میں کیسے سنبھالا جائے؟ بحیثیت ایک پاکستانی کے صاحب اقتدار حضرات کو مشورہ ہے کہ آپ جہاں ملک کے اتنے معاملات حالات کی نزاکت کے باوجود ڈیل کر رہے ہیں، تو اس معاملے میں بھی پیش قدمی کریں، ان شاءاللہ قوم آپ کا دست بازو بنے گی۔ ملک کے تمام بینکوں بالخصوص اسٹیٹ بینک آف پاکستان جو تمام بینکوں کا ہیڈ ہے اس پر یہ قانون لاگو کریں کہ اب سے تمام سودی معاملات ختم۔ باقاعدہ اس پر قانون مرتب کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایکشن لیں، تو بہت جلد غربت کی ایک بہت بڑی وجہ پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔

معاشی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے دوسرا اصول ”زکوٰة کی ادائیگی اور وصولی کا نظام ہے“۔ یاد رکھیں! مالداروں کے اموال میں جہاں خود صاحب اموال کا حق ہے، تو وہیں اس مال میں غریبوں کا بھی حق ہے، جس کی ادائیگی کی شریعت نے کئی صورتیں رکھی ہیں۔ من جملہ ان میں سے ایک زکوٰة کی ادائیگی ہے۔ اگر ملک کا تمام متمول طبقہ شرعی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ایمان داری سے زکوٰة کی ادائیگی کرے، تو یقینا ملک میں ہاتھ پھیلانے والے طبقے کا وجود ختم ہوسکتا ہے۔

Facebook Comments