مجھ کو تن سے لگا اداسی ہے
میرے دکھ کی وجہ اداسی ہے
میں ہوں مجنوں مزاج بندہ سا
میرے غم کی قبا اداسی ہے
محو حیرت ہیں دیکھنے والے
دیکھ حیرت زدہ اداسی ہے
یہ جو غم کے عمیق چھالے ہیں
انکی ساری شفا اداسی ہے۔۔
بٹ رہی ہے نیاز کی صورت
مثل ِگنجِ سخا اداسی ہے
میں روپوں کی طرح لٹاتا ہوں
میری ساری متاع اداسی ہے۔۔
ایک محبت زدہ سا گھائل میں
اور اپنی دوا اداسی ہے
جب سے نکلی ہے میرے کوچے سے
کتنے دکھ سے خفا اداسی ہے۔
ترے ٹکڑے بھگوکے کھاتا تھا
اب تو تن کی غذا اداسی ہے
میرے دکھڑ ے سمٹنے والے
لا یہ دامن دیکھا اداسی ہے ؟

Facebook Comments