کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی جس پر وہ گندم اور دوسری فصلیں اگاتا تھا۔ وہ دن بھر کھیتوں میں کام کرتا تھا اور اس کی بیوی گھر کے کاموں کے علاوہ کھیتوں میں بھی مختلف کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ ان کے دو بچے تھے۔ ایک لڑکا تھا جس کا نام شاہ نواز تھا اور وہ دس سال کا تھا۔دوسری لڑکی تھی، اس کا نام تھا ماہ نور۔ ماہ نورآٹھ برس کی تھی۔ان کا گاؤں چھوٹا تھا اور وہاں کوئی سرکاری اسکول نہیں تھا اس لیے دونوں گاؤں کے ایک چھوٹے سے مدرسے میں پڑھنے جاتے تھے۔کسان اور اس کی بیوی کی خواہش تھی کہ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کریں۔ وہ دونوں خود تو پڑھے لکھے نہیں تھے مگر اس کے باوجود وہ تعلیم کی اہمیت سے واقف تھے۔ 

ایک دفعہ گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی جس کو بیچ کر کسان نے بہت سا روپیہ حاصل کرلیا۔اتنے بہت سے روپے دیکھ کر اس کی بیوی بہت خوش تھی۔ اس نے سال بھر کے گھر کے اخراجات کا حساب لگایا۔پھراگلی فصل کے بیجوں اور کھاد کے پیسوں کا اندازہ کر کے ایک معقول رقم الگ کرکے اسے احتیاط سے صندوق میں رکھ دیا۔ان تمام اخراجات کو نکالنے کے بعد بھی اس کے پاس کافی روپے بچ گئے تھے۔ وہ ان روپوں کو لے کراپنے شوہر کے پاس آئی اور بولی،”ہمارے سال بھر کے اخراجات کے پیسوں میں سے یہ روپے بچے ہیں۔ سردیاں آنے والی ہیں، پھر عید کا تہوار بھی قریب ہے، ہم ایسا کرتے ہیں کا شہر جا کر ان پیسوں سے بچوں کے کپڑے لتے اور ان کی دوسری چیزیں لے آتے ہیں“۔

کسان کو اپنے بچوں سے بہت محبّت تھی۔ وہ خوش ہو گیا کہ اس کی محنت رنگ لائی ہے اور اتنے پیسے بچ گئے ہیں کہ ان سے بچوں کی چیزیں خریدی جاسکے۔ ویسے بھی کافی عرصہ ہو گیا تھا کہ بچوں کے نئے کپڑے نہیں بنے تھے۔وہ بیوی کی بات سن کر شہر جا نے پر راضی ہوگیا۔ اگلے روز دونوں نے بچوں کو گھر میں چھوڑا اور بیل گاڑی میں بیٹھ کر شہر روانہ ہو گئے۔ انہوں نے بچوں کو نہیں بتایا تھا کہ وہ ان کی چیزیں لینے شہر جا رہے ہیں، ان کا خیال تھا کہ بچے جب اچانک ان چیزوں کو دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے اور انھیں زیادہ خوشی ہوگی۔ بچوں کو انہوں نے صرف یہ بتایا تھا کہ وہ شہر جا رہے ہیں،شہر زیادہ دور نہیں تھا۔کسان کا خیال تھا کہ وہ دو تین گھنٹوں میں واپس آجائیں گے۔

کسان اور اس کی بیوی کو گھر سے نکلے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آسمان کو کالے کالے بادلوں نے گھیر لیا، زور زور سے بجلی چمکنے لگی اور پھر تیزبارش شروع ہوگئی۔بارش اس قدر تیز تھی کہ پل کے پل میں چاروں طرف جل تھل ہوگیا۔بادلوں کی تیز گڑگڑاہٹ اور بجلی کے بار بار چمکنے سے دونوں بچے سہم جاتے تھے۔شاہ نواز بڑا تھا وہ اپنی چھوٹی بہن ماہ نور کو تسلیاں دینے لگا۔ان کی ماں دوپہر کا کھانا تیار کر کے گئی تھی، وہ دونوں نے کھایا اور کمرے میں آ کر سونے کی کوشش کرنے لگے مگر پریشانی کے اس عالم میں ان کی نیند اڑ گئی تھی۔ وقت دھیرے دھیرے گزر رہا تھا اور شام ہوگئی۔ بارش کی نہ تو تیزی میں کمی آئی تھی اور نہ ہی وہ رکنے کا نام لے رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد شام ہوگئی۔اندھیرا چھانے لگا تھا، یہ سوچ کر کہ ماہ نور کو ڈر نہ لگے، شاہ نواز مٹی کا دیا جلا کر لے آیا۔یکا یک ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ شاہ نواز اس صورتحال سے گھبرا گیا اور بولا،”اچھی بہن!بارش کی وجہ سے نالے ندی بھر گئے ہوں گے،ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہوگی، اس لیے امی اور ابا کو آنے میں دیر ہورہی ہے“۔ ماہ نور نے اس کی بات سن کر رونا تو بند کردیا تھا مگر ہلکے ہلکے سسکیاں ابھی بھی لے رہی تھی۔

کسان کے پڑوس میں ایک نوجوان عورت فاخرہ رہتی تھی۔ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اس کا شوہر گاؤں کے دوسرے لوگوں کی طرح ملازمت کے سلسلےمیں کس دوسرے ملک چلا گیا تھا اور اس کی بیوی فاخرہ اپنی ساس اور سسر کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اتفاق کی بات کہ رات کا کھانے پکاتے ہوئے فاخرہ کوپتاچلا کہ نمک ختم ہو گیا ہے۔تیز بارش کی وجہ سے کوئی دکان پر بھی نہیں جا سکتا تھا کیوں کہ پرچون کی دکان گاؤں کے آخری سرے پر تھی ۔فاخرہ نے سوچا کہ نمک کسان کی بیوی سے لے لے۔ یہ سوچ کر وہ شال سر پر ڈال کر کسان کے گھر آئی اس نے جب دروازے پر دستک دی تو شاہ نواز اور ماہ نور خوش ہوگئے کہ ان کے امی ابا آگئے ہیں۔دونوں بھاگ کر دروازے پر پہنچے۔ دروازہ کھولا تو انہوں نے فاخرہ کو دیکھا۔ماہ نور تو اس کے گلے لگ کر رونے لگی اور شاہ نواز اسے بتانے لگا کہ ان کے امی ابا شہر گئے ہوئے ہیں۔

فاخرہ نے انھیں پیار بھرے لہجے میں ڈانٹا کہ جب ایسی بات تھی تو وہ دونوں اس کے گھر کیوں نہیں چلے آئے۔ اس کے بعد اس نے کسان کے گھر کو تالا لگایا اور دونوں بچوں کو لے کر اپنے گھر آگئی۔ اس کے ساس سسر کو بھی یہ بات پتا چل گئی تھی۔فاخرہ نے جلدی جلدی کھانا پکایا۔بچوں کو میٹھی چیزیں پسند ہوتی ہیں، اس نے دونوں کے لیے گڑ کے چاول پکائے، پھر سب نے مل کر کھانا کھایا۔کھانے کے بعد نیک دل فاخرہ نے یہ کہہ کر بچوں کو تسلی دی کہ ان کے ماں باپ جلدی گھر آجائیں گے۔رات زیادہ ہو گئی تھی، اس نے دونوں بچوں کے لیے صاف ستھرے بستر بچھائے اور ان کو سلا دیا۔

صبح تک بارش تھم چکی تھی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گلی میں بیل گاڑی کی چھکڑ چھکڑ سنائی دی۔ فاخرہ نے بھی یہ آوازیں سن لی تھیں، وہ دوڑ کر دروازے پر گئی۔ اس نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی گھبراے ہوئے بیل گاڑی سے اتر رہے ہیں۔کسان کی بیوی کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، اسے یہ فکر تھی کہ ان کی غیر موجودگی میں بچوں پر کیا گزری ہوگی مگر جب اس نے گھر کے دروازے پر تالا لگا دیکھا تو حیرانی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھنے لگی۔

فاخرہ یہ سب دیکھ کر ان کے نزدیک گئی،انھیں تسلی دی اور پھر یہ بتایا کہ وہ رات کو ہی دونوں بچوں کو اپنے گھر لے آئی تھی۔یہ سن کر کسان اور اس کی بیوی کی جان میں جان آئی،دونوں بچے ابھی تک مزے سے سو رہے تھے۔ کسان کی بیوی نے فاخرہ سے کہا،”بہن تم نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ہمارے بچوں کی خبر گیری رکھی۔ ہمیں کیا پتاتھا کہ بارش کی وجہ سے ہم را ستے ہی میں پھنس جائیں گے، یہ پتا ہوتا تو میں بچوں کوپہلے ہی تمہارے پاس چھوڑ جاتی“۔ فاخرہ نے کسان کی بیوی سے کہا، ”اس میں احسان کی کوئی بات نہیں۔پڑوسیوں کے بہت زیادہ حقوق ہوتے ہیں۔اپنے خود کے رشتے دار تو دور دور رہتے ہیں، پڑوسیوں کا تو ہر دم کا ساتھ ہوتا ہے، اس لیے پڑوسیوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے اور یہ ہی میں نے کیا“۔

ان کی باتوں کی آواز سے شاہ نواز اور ماہ نور بھی جاگ گئے تھے، وہ دونوں بھاگ کر آئے اور اپنی ماں سے لپٹ گئے۔کسان کی بیوی نے چیزوں سے بھرا تھیلا ان کو تھما دیا جو وہ ان کے لیے شہر سے لائی تھی۔دونوں بچوں کے چہرے خوشی سے جگمانے لگے تھے۔ کسان کی بیوی نے فاخرہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دعائیں دیں اور بچوں کو لے کر گھر آگئی۔

٭….٭….٭

 

Facebook Comments