ہرنئے لکھاری کی چاہت ہوتی ہے کہ اس کی تحریرکسی نہ کسی اخبار، رسالے، جریدے، آرگن، سوشل میڈیا پیج، ویب سائٹ۔۔۔۔ غرض کہیں نہ کہیں شائع ہوجائے۔ جب اس کی تحریر کہیں شائع ہوتی ہے تو وہ اپنی تحریراپنے سرپرستوں، والدین، اساتذہ، دوست احباب سب کو دکھاتا ہے، کہ یہ لو، ہم بھی لکھاریوں کی صف میں آگئے۔ تحریر کا کسی کتاب کا حصہ بننا بہت آگے کا مرحلہ ہوتا ہے، جس کا نیا لکھاری سوچتا بھی نہیں۔ اس کے لیے اِس دشت کی سیاحی میں عمربتانی پڑتی ہے، تب جا کر کسی کتاب کا مصنف بننے یا کسی کتاب میں جگہ پانے کا مرحلہ آتا ہے۔

آفرین ہے برادرم عارف رمضان جتوئی اور ان کی مستعد ٹیم کو، کہ انھوں نے نئے لکھاریوں کی توقعات سے بہت بڑھ کرانھیں عزت دی اور ان کی تحریروں کا ایک گلدستہ: قلم کا قرض کے نام سے مرتب کر کے شائع بھی کردیا۔ شائع بھی صرف انٹرنیٹ پرنہیں، کاغذ پر۔۔۔۔ وہ بھی اس گِرانی کے دورمیں، جب کہ کاغذ کی قمیت آسمان سے باتیں کررہی ہے اور کئی اخبارات و رسائل بند ہوچکے ہیں، جب کہ کئی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ خود ہم اپنا اخبار ہفت روزہ اخبار المدارس باقاعدگی سے نہیں چھاپ پارہے ہیں۔

ایسے حالات میں نئے لکھاریوں کی اتنی عزت افزائی، یہ عارف بھائی اور ان کی ٹیم کا ہی دل گردہ ہے۔ حالاں کہ وہ رائٹرز کلب کی ممبرشپ کی مد میں کوئی فیس بھی نہیں لے رہے بلکہ 2019 کی لی ہوئی فیسیں بھی انھوں نے واپس کردی ہیں۔ ان کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ بھی نہیں کہ جو ایک حکم بلکہ اشارہ ابروپرمطلوبہ رقم لا حاضر کر دے۔ یقیناً انھوں نے کتاب کسی جاننے والے پرنٹر سے ادھار پر چھپوائی ہوگی، اس امید پر کہ کتاب شائع ہوتے ہی نئے لکھاری اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کوئی درجن بھرکتابوں کا آرڈر کرے گا، کوئی اس سے بھی زیادہ کتابوں کا۔۔۔ اللہ کرے ان کا یہ گمان درست نکلے۔

ہم تمام نئے لکھاریوں سے، جن کی تحریریں اس کتاب کا حصہ ہیں، درخواست کرتے ہیں کہ اپنے حصے کی کتابیں جلد سے جلد منگوالیں اورقمیت کی نقد ادائی کریں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ رائٹرزکلب پاکستان کی ممبر شپ کی طرح یہ کتاب بھی بلا معاوضہ مل جائے گی۔ یاد رکھیے! قلم کا ایک قرض وہ تھا جو عارف رمضان بھائی اور ان کی ٹیم نے چکا دیا، آپ کے ذمے کا قرض ابھی باقی ہے۔ اس کی ادائی کی فکر کل نہیں، آج سے کریں۔

Facebook Comments