سب کے لیے، ہر جگہ اچھی صحت کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اس ملک کا صحت کا شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شعبے میں ترقی کیے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہوسکتا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق صحت کے عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق 190 ممالک میں پاکستان 122 ویں نمبر پر شمار کیا جاتا ہے ۔ صحت کی ابتر ہوتی صورتحال کے بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں مگر غیر معیاری تعلیم ، مستند ڈاکٹرز اور پیرا میڈاکس اسٹاف کی عدم دستیابی اور عوام میں آگاہی اور شعور کی کمی اس کی اہم اور بنیادی وجوہات ہیں ۔

پاکستان سمیت پوری دنیا میں صحت کا عالمی دن 7 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قیام کے بعد 7 اپریل 1948کو صحت کا پہلا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کے منانے کا مقصد صحت سے متعلق مختلف مسائل پر قابو پانے اور بیماریوں سے بچاﺅ کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔ رواں سال اس دن کا موضوع” یونیورسل ہیلتھ کوریج : سب کے لیے، ہر جگہ“ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت عامہ کی مجموعی صورتحال کے ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین خصوصاََ دیہی خواتین کی صحت و تندرستی کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے اور طبی سہولتوں کا فقدان بھی درپیش ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ دیہی خواتین میں موجود ناخواندگی ، صحت عامہ سے متعلق آگہی اور شعور کی کمی ہیں جو خواتین کی صحت و تندرستی کی حالت پر اثرا نداز ہورہے ہیں ۔ 

وبائی امراض (Communicable Disease)ابتداءسے ہی پاکستان میں شرح اموات کے بڑھانے کی ایک اہم وجہ رہے ہیں ۔ گنجا ئش سے زیادہ بڑھتے ہوئے شہر ی علاقے آلودہ اور گندہ پانی ، صفائی کا فقدان ، ادویات اور غیر مستند ویکسینیشن وغیرہ شامل ہیں ۔پاکستان میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے تقریباََ ایک لاکھ بچے نمونیا کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ بدہضمی کے باعث مرنے والے بچوں کی تعداد تقریباََ آٹھ لاکھ تک ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ غذائیت کی کمی بھی بچوں میں اموات کا باعث بننے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔

پاکستان میں صحت کے حوالے سے ابھی تک لوگوں میں شعور کی کمی ہے ۔ ہمارے ہاں ابھی تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے یا نہ پلانے کی بحث جاری ہے ۔ جس کے باعث ابھی تک پاکستان میں پولیو کے کیسسز موجود ہیں ، جو ایک قابل تشویش بات ہے ۔اس وقت دنیا میں تین ممالک میں پولیو کا مرض موجود ہے ، جن میں پاکستان ، افغانستان اور نائیجریا شامل ہیں ۔ پولیو کا خاتمہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑ ا چیلنج ہے ۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام اور ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ انسداد پولیو کے قومی مرکز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012 میں پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 58، 2013 میں93، 2014 ءمیں 307 ، 2015ءمیں 54 ، اور 2016 ءمیں20، 2017 ءمیں8 ، 2018 میں 12جبکہ2019میں ابھی تک 6 ہو چکی ہے۔

پولیو کی بیماری ایک متعدی بیماری ہے جو کہ ایک فرد سے دوسرے فردمیں پھیل سکتی ہے ۔ عام طور پر پولیو وائرس منہ یا ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ وائرس پانی کے استعمال سے بھی ایک فرد سے دوسرے فرد میں پھیل سکتا ہے ۔اس کے علاوہ متاثرہ شخص کے ساتھ بلا واسطہ رابطے سے بھی پولیو کے وائرس پھیلنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر یہ وائرس متاثرہ شخص کے فضلے (Stool) کے ذریعے بھی پھیلتا ہے اورا گرمتاثرہ فرد نے رفع حاجت کے بعد اپنے ہاتھوں کو ٹھیک طریقے سے نہیں دھویا تو یہ اس کے ہاتھوں کے ذریعے ہر جگہ پھیل جا تے ہیں ۔پولیو کا وائرس جب ایک بار دماغ میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر اسکا علاج ناممکن ہوتا ہے اور پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو کے قطرے بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لیے ضروری ہیں اور یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔یہ پولیو ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لیے بچوں کے جسم کی مدد کرتا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ویکسین کے ذریعے تقریباََ تمام بچوں کو پولیو سے حفاظت یقینی ہو جاتی ہے ۔

 پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور حالیہ ریسرچ کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین موثر اور محفوظ ہے اور یہی ویکسین ساری دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی جارہی ہے ۔اگر یہ ویکسین کولڈچین میں زیادہ عرصے رکھی رہے تو بے اثر ہو سکتی ہیں مگر یہ بچوں کے لیے کسی قسم کے نقصان کا باعث ہر گز نہیں ہوتیں ۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے سرکاری اور انتظامی سطح پر اس حوالے سے بہت کام ہوا ہے ۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوشش 1994 ءسے شروع ہوئیں اور وزارت صحت پاکستان نے 1994 ءسے حفاظتی ٹیکے لگوانے کا ایک قومی دن بھی مقرر کیا جس کا مقصد پولیو کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کوششیں کرنا تھا۔2000 سے 2003 تک اس پروگرام کا دائرہ کار گلی محلے کی سطح تک بڑھایا گیا اور پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے اور ملک کو پولیو سے پاک ملک بنانے کے لیے اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی طرف توجہ بھی دلائی گئی۔ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پولیو ویکسین کی فراہمی میں گزشتہ برسوں میں متواتر کمی دیکھی گئی ہے ، جو پولیو کو پاکستان میں پھیلنے کے لیے سازگار مواقع فراہم کر رہی ہے ۔

 آج بھی پاکستان میں بچوں کی بہت بڑی تعداد اس بیماری میں مبتلا ہو کر نہ صرف موت کے منہ میں جارہی ہے ، بلکہ انہیں عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا ہے ۔ پولیو کے اس وائرس سے بچاﺅ کے لیے کسی بھی قسم کی اینٹی بائیوٹکس یا ادویات موجود نہیں ہیں ۔ صرف پولیو ویکسین ہی اس بیماری کا ایک کامیاب اور موثر حل ہے جس کو اپنا کر ہم پاکستان سے بھی اس موذی مرض کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کے مطا بق پاکستان ٹی بی کے حوالے سے پانچوں نمبر پر ہے ۔اور ایک رپورٹ کے مطا بق ہر گزرتے سال پاکستان میں ٹی بی میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل ٹی بی پروگرام نے وزارت صحت کے تجزبے کے بعد ٹی بی کو ایک نیشنل ایمرجنسی کے طور پر پاکستان میں ڈیکلیئر کیا۔پاکستان میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کا آغاز 2000ءمیں کیا گیا تھا۔ایک رپورٹ کے مطا بق گزشتہ برس پاکستان میںپانچ لاکھ دس ہزار ٹی بی کے مریضوں میں سے تین لاکھ مریضوںکا علاج کیا گیا۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے مطا بق گلو بل فنڈنگ میں پاکستان کو سالانہ 15 ارب دیے جا تے ہیں ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کی کافی زیادہ تعداد پائی جاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ پندرہ ہز ار بچے ٹی بی میں مبتلا ہو تے ہیں، جن میں سے تقر یباً پچیس فیصد اپنی زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ 

یہ بیماری مریض کے کھانسنے ، چھیکنے وغیرہ سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، کم طبی سہولیات، بہتر رہائش کا نہ ہونا ٹی بی کی اہم وجوہ میں شامل ہے ۔ ٹی بی کے مریضوں کوفوراََ بنا کسی تاخیر کے قریبی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ ماہر ین کے مطابق ٹی بی کے مرض میں کمی نہ ہونے کی ایک وجہ اس کا طویل علاج ہے۔ جس کے باعث مریض علاج مکمل کیے بغیر ہی ادویات کا استعمال ترک کر دیتا ہے ، جس کی وجہ سے اس مرض کے دوبارہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان میں نیشنل ٹی بی پروگرام ٹی بی جیسے موذی مرض کے تدارک میں اپنا کردار ادا کررہی ہے مگر ٹی بی جیسے مرض کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر کو مل کر تیز رفتاری کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا ۔کیمپین کے ذریعے عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مناسب فنڈ بھی اس کو ختم کرنے اور مریضوں کا مفت علاج فراہم کرنے کے لیے مختص کرنا چاہیے ۔

 پاکستان کے تمام صوبوں میں اس مرض کو ختم کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر پروگرام شروع کرناہوں گے ۔ ملیریا جس کے ساتھ ساتھ آج کل ڈینگی اور چکن گونیا وغیرہ بھی بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔جن کی اہم وجہ گندے اور ٹھہرے پانی کی موجودگی اور ان میں مچھروں کی افزائش ہے ۔

WHO کی رپورٹ کے مطابق ملیریا پاکستان میں ہونے والا دوسرا عام مرض ہے اور پاکستان میں 3.5 ملین لوگ سالانہ اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ملیریا کی شرح پاکستان میں خصوصاََ مون سون کے موسم میں یعنی اگست سے نومبر تک زیادہ رہتی ہے ۔ پاکستان کے ملیر یا کنٹرول آرگنائزیشن کے وضع کردہ اسٹریجک پلان کے مطابق 2020 تک پاکستان میں ملیر یا کی شرح 75% تک کم کرناہے ۔ ملیر یا کے ساتھ ساتھ چکن گونیا جو ایڈیس ایجیپٹی (aedes aegypti) نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے جو پاکستان اور خصوصاََ کراچی اور اب تھرپارکر میں بری طرح اپنے پنجے گاڑچکا ہے ، پر قابو کرنا ہو گا۔ چکن گونیا کا وائرس پاکستان میں 1983 ءمیں پہلی بار سامنے آیا جس کے بعد لاہور میں 2011 ءکے ڈینگی کے حملے کے دوران اس کے کچھ مریض نوٹ کیے گئے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق کر اچی میں تقریباََ 40000 کے قریب چکن گونیا کے مریض ملیر ، شاہ فیصل ، کورنگی اور کیماڑی کے علاقے سے شناخت کئے گئے ۔۔ دسمبر2016 ءسے مارچ 2017 ءتک چکن گونیا کے 1,018 مریضوں کی بڑی تعداد میں شناخت ہوئی، کراچی کے ابراہیم حیدری ، کیماڑی ،ملیر اور لیاری میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی زیادہ تعداد نوٹ کی گئی۔ جبکہ پشاور میں یہ بھی بہت خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے جس سے بہت سے لوگ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق حالیہ برسوں میں پوری دنیا میں ڈینگی بخار سے متاثرہ افراد کی تعداد بے حد بڑھ چکی ہے اور تقریباََ دنیا کی چالیس فیصد آبادی ڈینگی میں مبتلا ہے ۔ہر سال تقریباََ 5 کروڑ کیسزسامنے آتے ہیں جس سے پوری دنیا میں سالانہ تقریباََ پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں ۔پاکستان میں بھی ڈینگی خیبر پختوون خواہ، ایبٹ آباد ، پشاور وغیرہ کے علاقوں میں بہت سارے افراد کو متاثر کر چکا ہے ۔ جبکہ کراچی شہر میں بھی ڈینگی سے متاثرہ افراد موجود ہیں اور ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کراچی میں ڈینگی سے متا ثرہ افراد کی تعداد 38 ہو چکی ہیں۔ یہ ا مراض قابل علاج بھی ہے اور اس سے باآسانی بچاوً بھی جاسکتا ہے۔ ان سب کی بنیادی وجہ نا مناسب آگاہی ، ناقص صفائی اورحفاظتی تدابیر کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک عام سی بیماری مہلک اور خطرناک صورت اختیار کر تی جا رہی ہے ۔     

ویکسینیشن یاحفاظتی ٹیکہ جات ، جن سے کسی شخص میں بیماریوں یا انفیکشن کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے قوت مدافعت بڑھائی جاتی ہے ۔ ہر سال دنیا بھر میں کروڑوں بچوں کو ویکسین کے ذریعے بیمار ہونے یا مرنے سے بچایا جاسکتا ہے ۔ 1974 ءمیں WHO نے حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کا آغاز کیا تھا ۔ جس کے پہلے پروگرام کے پہلے سال میں دنیا بھر کے تقریباََ پانچ فیصد سے کم بچوں کو اسہال ،تشنج ، کالی کھانسی ، پولیو، خسرہ اور ٹی بی سے بچاﺅ کی ویکسین اور پھر 1988 ءمیں WHO نے دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کا بیٹرا اٹھایا۔ اس وقت پاکستان میں تقریباََ 50% اموات میں سے 15% شرح اموات 5 سال سے کم عمر بچوں کی ہیں۔ پاکستان میںحفاظتی ٹیکوں کا پروگرام 1978 ءمیں شروع کیا گیا اور اس کا بنیادی مقصد ویکسین کے ذریعے بچوں میں بیماریوں کی شرح کو کم کرنا تھا۔ بچوں کی صحت کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے اور ہمیں مختلف پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں میں اعتماد بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کا صرف 2 فیصد شعبہ صحت پر خرچ کیا جاتا ہے جن کا بھی شفاف استعمال نہیں کیا جاتا ہے اورکروڑوں کی آبادی کے حامل اس ملک کے لیے چند ہزار سرکاری ہاسپٹلز اور ان میں موجود ناکافی اور غیر میعاری ادویات ، غیر تجربہ کار پیرا میڈیکل اسٹاف اور بہتر مشینری کی کمی سو نے پر سہاگہ کا کام کر رہی ہے ۔پاکستان کے دیہی علاقوں کی صورت حال اس سے بھی بہت ابتر ہے ، جہاں اسپتال تو دور کی بات ایک ڈاکٹر تک کی سہولت موجود نہیں ۔ وہاں بے حد توجہ کی ضرورت ہے اورابتدائی نگہداشت کی اصلاح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عطائی اور پیرامیڈکس کے بجائے مستند اور تربیت یافتہ ڈاکٹر متعین کیے جائیں۔ ڈاکٹر ز کو بھی پروفیشنل اور با خبر ہونا چاہیے کہ عالمی طور پر صحت میں ریسرچ کے حوالے سے اور مختلف بیماریوں کے حوالے سے جو تبدیلیاں آرہی ہیں ، انہیں بھرپور آگاہی اور دسترس ہونی چاہیے ۔ کیونکہ صحت کے شعبے میں ریسرچ کے بغیر گزارہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مختلف موضوعات پر اپ ڈیٹ معلوماتی لٹریچرز اور ریسرچ بیس ڈیٹا سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے نت نئے امراض کا علاج جو کہ عالمی طورپر اور خصوصاً پاکستان میں موجود ہے ، ان کا شعور اور ان پرعبور لازم ہے۔

صحت اور تندرستی جیسے اہم شعبے کے لیے ہسپتالوں اور طب سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا نا اشد ضروری ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی لیبارٹریز میں جدید طرز کی مشینوں کا استعمال بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ درست تشخیص کے باعث مریض کی جان کو بچانے کے ساتھ ساتھ علاج بھی با آسانی کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ صحت سے متعلق عوام الناس میں شعور آگاہی کے پھیلاﺅ کی بھی اشد ضرورت ہے اور خصوصاََ دیہی علاقوں میں مختلف بیماریوں کے حوالے سے پروگرامز اور سیمینارز منعقد کیے جانے چاہیے ۔ 

Facebook Comments