ہر گاڑی میں کم از کم تین میٹر ضرور ہوتے ہیں (سپیڈو میٹر، آئل میٹر اور ٹمریچر میٹر) جو ڈرائیورز کو بالترتیب گاڑی کی رفتار، گاڑی کی ٹینکی میں موجود ایندھن کی مقدار اور انجن کی گرمی کا پتا دیتے ہیں۔ اب ڈرائیورز کی مرضی کہ وہ ان میٹرزکی ہدایات پرتوجہ دے یا نہ دے۔ میٹر نے تو اپنے ذمے کا کام کردیا۔ بالکل اسی طرح حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے آنکھیں عطا فرمائیں کہ وہ حالات و واقعات و معاملات کو دیکھ کر اچھا فیصلہ کرسکے، کان عطا کیے تاکہ اچھائی اور برائی کی آواز، موسیقی اور اذان کی آواز میں تمیز کر سکے۔ سونگھنے اورچکھنے کے لیے ناک اور زبان عطا کی، شعور بخشا تاکے صحیح اور غلط، نیک اور بد میں امتیاز کرسکے۔ ان تمام تر عنایتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اپنے معاملات میں صاحب ِ اختیار کردیا۔ اب یہ تو انسان کی مرضی ہے کہ وہ دیکھ بھال کر، سوچ سمجھ کر اپنے لیے اچھائی کا راستہ اختیار کرے۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر اس کو انعام ہو نہ کہ ان کا راستہ جن پر غضب ہوا۔ یہاں پرایک بات اور بھی عرض کرتاچلوں کہ ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اللہ کے انعام یافتہ اور مقرب لوگوں کا راستہ نہ صرف اللہ سے مانگیں بلکہ ان لوگوں کو اور ان کے راستے کو تلاش بھی کریں۔ اس لیے کہ آج سادہ لوح لوگوں کو بہروپیوں اور خالص اللہ والوںک ی پہچان کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حالاں کہ خلوص، سادگی، تواضع، بے غرضی و بے لوثی، ایثار اور خدمت اللہ والوں کا خاصہ اور پہچان ہے۔ اسی طرح اللہ پاک کے مغضوب لوگوں کے راستے سے پرہیز بھی ضروری ہے ۔

بہرحال یہ صرف انسان کی مرضی پر ہی منحصر نہیں بلکہ مشیت ِ ایزدی یا تقدیر ِ الہٰی بھی کسی چیز کا نام ہے۔ حدیث ِ نبویﷺ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے پسندفرمالیتا ہے اسے دین(اچھائی) کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ انسان کے بس میں صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اپنی ایک ٹانگ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اگر دوسری بھی اٹھائے گا تو یقینا گر پڑے گا۔ نیکی اور بدی کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ جو کام، جو بات آپ لوگوں کے سامنے فخر کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے یعنی جو واقعہ یا کام لوگوں کے سامنے آجانے سے آپ شرمندگی محسوس کریں، وہ نیکی نہیں ہو سکتی۔ اسے مت کریں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک چوکیدار بٹھا رکھا ہے جو غلط کاموں اور اچھے کاموں میں فرق بتاتا ہے، سمجھاتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ فرق بتاتا ہے بلکہ اچھائی کے تمام کاموں کی ہمیں ترغیب دیتا ہے اور کیے گئے تمام اچھے کاموں کا انعام حوصلہ افزائی اور سکینت کی صورت میں دیتا ہے۔ اسی طرح بدی اور برائی کے تمام کاموں کی نہ صرف پہچان بتاتا ہے بلکہ ایسے تمام کاموں سے حتیٰ المقدور روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ سرزد شدہ تمام غلط رویوں پرشرمندگی اور ندامت کی صورت میں انسان کو سزا بھی دیتا ہے۔اس چوکیدار کو آپ ضمیر بھی کہہ سکتے ہیں۔ ضمیر کی مثال آپ سینما کے سنسر بورڈ سے دے لیں۔ جس طرح کوئی بھی نئی بننے والی فلم کو پہلے سنسر بورڈ دیکھتا ہے اور ناقص یا غلط ڈائیلاگ یا نامناسب منظر کو ”کٹ“ کرکے ایک اچھی، معیاری اور تفریحی فلم سینما اسکرین پر چلنے کی اجازت دیتا ہےبالکل اسی طرح ضمیر بھی تمام لاشعوری افعال وافکار کی پڑتال کرتا ہے اور اچھے کاموں پہ ابھارتا اور برے کاموں سے روکتاہے۔اسی طرح اندرونی اور بیرونی تمام معاملات و واقعات کا جائزہ لے کر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نیک اور بد، درست اورغلط کاموں میں تمیز کرسکے۔ نہ صرف تمیزکرسکے بلکہ اچھائی کے کام اختیار کرکے اپنالے اور برائی کے تمام کاموں سے بچ سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ضمیروں کو توانائی اور ایک نئی زندگی بخشے۔ انسان ہونے کا حق ادا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسانیت کے، اس کی مخلوق کے زیادہ سے زیادہ کام آیا جائے، یہ قابل ِ فخر ہے۔ 

Facebook Comments