اسلام معاشرے کی تنسیق و تنظیم اور باہمی مودت و محبت کا ایک سچا اور برحق علمبردار ہے۔ اسلام نے معاشرت کے چار بنیادی اصول سکھائے ہیں۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے دنیا میں ایک مثالی ریاست و سلطنت بنا کر تمام ادیان ومذاہب اور تہذیبوں، ثقافتوں کو ایک چیلنج دیا ہے۔ اسلام نے ایک معاشرے میں رہنے والے افراد میں سے چند ایک ایسی بنیادی خرابیوں کو کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو بہت سی خرابیوں کی بنیاد اور معاشرے کے حسن کے زوال کا بنیادی سبب ہیں۔ پہلا اصول: خود غرضی کا خاتمہ، یقینا یہ ایک ایسی بنیادی بیماری ہے جو انسان کو بے حس اور غیر شعوری طورپہ مردہ ضمیر کا مالک بنا دیتی ہے۔ وہ اپنی ضروریات اپنے فائدے اپنے معاملات اپنی ترجیحات کو ہی اپنی زندگی کا ہدف بنا لیتا ہے اور اس سب کچھ کو اتنے خوبصورت پیرائے میں ڈھال لیتا ہے کہ اسی کو اپنا دین اور اسی کو اپنا حق اور اسی کو زندگی کا حسن سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ وہ سڑک ہے جس کا آغاز تو بہت خوبصورت لیکن اس کی منزل ڈپریشن اور تعلقات میں تکلف اور دو رخی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ دین فطرت نے اس بیماری کا قلع قمع کرنے کے لیے اور جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک ایسا خوبصورت اصول دیاہے جو انسان کو راحت بھی دیتا ہے، لوگوں کی محبت بھی دیتا ہے، دعائیں بھی دلواتا ہے اور مرنے کے بعد اچھا ذکر اور اچھی یاد بھی باقی رکھنے میں ایک بنیادی سبب بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کر لے جو اپنے لیے پسند کرتاہے“۔صحیح البخاری 

اگر اس اصول و ضابطے کو ہم اپنی زندگی میں نافذ کر لیں تو ایسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کہ جن کا تصور بھی ناممکن ہے۔ اگر میں کسی سے تعلق  رکھوں تو ایسا کہ جیسا میں اپنے لیے لوگوں سے چاہتا ہوں۔ اگر کوئی مجھ سے مشورہ مانگے تو ایسا مشورہ دوں کہ جو میرے دل میں سب سے اچھا مشورہ ہے۔ میں اپنی زندگی کے کسی بھی معاملے کو لوگوں کے ساتھ طے کرتے ہوئے یہ ضرور دیکھوں کہ میں جو کچھ بھی کرنے جا رہا ہوں اگر یہ میرے ساتھ کیا جائے تو مجھ پر کیا گزرے گی؟ یہ وہ معیار ہے جو یقینا بہت مشکل ہے لیکن انسان کو منافقت، دو رخی، خیانت، جھوٹے تعلقات اور ذاتی مفادات کی جنگ سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ ایک مطمئن دل کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور ایک پراطمینان نفس کے ساتھ اس دنیا فانی کے سے رخصت ہوتا ہے۔ اسلام سے بڑھ کر انسانیت کا احترام کون سا دین سکھاتا ہے جو دین اس شخص کو کامیابی کا ایوارڈ دیتا ہے جو اپنی ضرورت پہ اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت کو ترجیح دیتا ہے۔ سورہ الحشر9

دوسرا اصول: غصہ نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مجھے نصیحت فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”غصہ مت کرو، وہ بار بار نصیحت کا تقاضا کرتا رہا اور اس کو بار بار یہی حکم سنایا جاتا رہا“۔ (صحیح البخاری) یقینا انسان کی زندگی میں بہت سارے کام ایسے ہوتے ہیں جو اس کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتے یا اس کو اہمیت نہیں دی جاتی یا اس کی تحقیر کی جاتی ہے لیکن ایسے تمام حالات میں اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھنے والا ہی اصل بہادر ہے۔ نہنگ و اژدھا و شیر نر کو مارا، تو کیا مارا۔ بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا یقینا دنیا میں پیا جانے والا سب سے کڑوا اور مشکل مشروب غصہ ہے لیکن اس کو پینے کے بعد لطف اور لذت اور وقار اور محبت کی جو منازل طے ہوتی ہیں وہ بھی لا محدود اور غیر معدود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلی درجات پہ فائز تھے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ، ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا“۔ یقینا ہمارے معاشرے میں غصے کا اظہار ہی اصل مردانگی اور شجاعت کا اعلی مظہر ہے لیکن در حقیقت اسلام نے اس کو مردانگی نہیں کہا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، ”حقیقی پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پہ قابو پا لے“۔ (البخاری) بالخصوص ہم اپنے سے عمر، رتبے، درجے میں کم شخص پہ غصہ نکال کر فخر محسوس کرتے ہیں لیکن میں قربان جاوں اس شریعت پہ جو مجھے بغیر کسی قیمت ادا کیے مل گئی اور اس شریعت کی کوئی مثال نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”جو شخص اپنے غصے کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اس کو پی جاتا ہے اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دیں گے کہ وہ حور عین میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لے“۔ (سنن ترمذی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”جو شخص بھی اللہ کے لیے جھک جاتا ہے اللہ اس کو بلند کر دیتا ہے“۔ مسلم

تیسرا اصول: خاموشی۔ یقینا انسان کی زبان اس کے جذبات کو متعارف کروانے میں، اس کی شخصیت کی شناخت کروانے میں، اس کے مزاج سے معاشرے کو روشناس کروانے میں، لوگوں کو اس کی شخصیت کا لیول سمجھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ زبان ہی تعلقات کی شیرینی کا مزہ چکھنے میں اور بہت قریبی اور خونی رشتوں کو توڑنے میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ایک انسان اپنی زبان پر مکمل کنٹرول رکھتا ہو اور اسلام کا یہ اصول سمجھ لے تو کتنے ہی مسائل ختم ہو جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”جو تم میں سے اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (صحیح البخاری) اپنے والدین، دوست احباب، بیوی، اولاد، رشتے دار، کلاس روم الغرض کہ ہر جگہ وہ اپنی زندگی کا یہ پختہ اصول بنا لے کہ وہ مفید بات کرے گا ورنہ خاموش رہے گا تو یقینا وہ معاشرے کی ایک پروقار شخصیت بھی ہوگا اور تلخ کلامی کے سبب پیش آنے والے معاملات اور غیبت کی وجہ سے پھیلنے والی عداوتیں اور بہتان بازی کی وجہ سے پھیلنے والی کدورتیں اور انتقامی بغض اور اس طرح کے تمام نقصانات و حوادث سے محفوظ رہے گا۔ اچھی بات کرے موقع کی مناسبت سے کرے اچھے انداز سے کرے تو یقینا یہ معاشرت کا وہ حسن ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے جھگڑے اور لڑائیاں ختم ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی بنیاد ہی نہیں بنتی۔ چوتھا اصول: غیر متعلقہ چیزوں اور معاملات سے اعراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ”آدمی کے اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے متعلق نہیں“۔ سنن ترمذی

ہمارے موجودہ معاشرے کے بہہت سارے مسائل کی بنیاد وہ ہر فرد کا ہر مسئلہ میں بے جا تدخل اور ہر معاملے کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش اور ہر خبر کے تمام زاویوں کا احاطہ کرنے کی کوشش اور ہر شخص کے معاملے میں دلچسپی لینا ہے۔ مثلا ہم روز مرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارے تبصروں کا فوکس یہ ہوتا ہے کہ اس نے کیسے گھر بنا لیا؟ اس نے گاڑی کہاں سے خرید لی؟ یہ اس فلاں سے کیوں ملتا ہے؟ یہ آج ادھر کیوں گھوم رہا تھا؟ اور یہ فلاں معاملہ جو فلاں کے گھر میں ہوا اس کی اصل وجہ یہ ہے۔ یقینا یہ ان لوگوں کا شیوہ ہے جو لوگوں کے معاملات کی پوری اطلاع رکھتے ہیں لیکن اپنے معاملات سے بہت حد تک ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ وہ بیماری ہے جو درحقیقت ہمارے دلوں میں بد گمانی جیسی خطرناک بیماری کو پیدا کر رہی ہوتی ہے۔ ہم اس بیماری کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں منفی سوچنا اور بدگمانی کرنا ہماری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ خرابی ہے جو ہمیں مسلمان بھائیوں کی جاسوسی جیسے قبیح جرم کا عادی بنا رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے، ”اور تم جاسوسی نہ کیا کرو“۔ (الحجرات) بہہت ساری پریشانیوں کی وجہ ان معلومات اور واقعات اور حادثات کے پیچھے وقت لگا دینا جن کا ہمارے دین، یا دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ چیز یا معاملہ یا اطلاع یا میٹنگ جس کا تعلق میری دنیا یا میرے دین سے نہی اس کے لیے وقت صرف کرنا وقت کا ضیاع بھی ہے اور جیت سارے مسائل کا پیش خیمہ بھی ہے۔

Facebook Comments