خود شناسی ایک ایسا موضوع ہے جسے ہر دور میں ہی اہمیت حاصل رہی ہے۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ انسان کی خود شناسی سے نا آشنائی نے انسان کو ایک درندہ بنا دیا ہے۔ زندگی کی سمجھ آنے کے بعد بھی اگر زندگی وزنی معلوم ہواور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذات میں ایک گھٹن محسوس ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ زندگی اس کام کے لیے استعمال نہیں ہوئی جس کام کے لیے بنائی گئی تھی بلکہ کہیں اور استعمال ہورہی ہے۔ معاشرے میں بڑ ھتے ہوئے مسائل اور خا ص طور پر نوجوان نسل کے نفسیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ خود شناسی سے لا علمی اور لا تعلقی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بھٹک رہا ہے اور بے راہ روی کا شکار ہے۔

 خود شناسی کیا ہے؟ خود شناسی سے مراد ہے ”انسان کا اپنے مقام، اپنی صلاحیتوں اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا“۔ یعنی میں دنیا میں کیوں آیا اللہ نے مجھے ایسی کونسی صلاحیت سے نوازا ہے جو تمام عالم سے مجھے ممتاز کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے خود شناسی کس طرح ممکن ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے جنہیں اس سوال کا جواب مل گیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ محبت میں ناکامی تھی اورپھر وہ عشق مجازی سے عشق حقیقی میں مبتلا ہو گئے۔ کچھ شخصیات کسی وجہ سے غم کے ایک لمبے دور سے گزری اس وجہ سے انہیں خود شناسی حاصل ہوئی او رکچھ شخصیات کو صحبتِ صالحہ میں بیٹھنے سے خود شناسی حاصل ہوئی اور کچھ لوگوں نے تمنا سے، دعا سے اور اللہ کے سامنے باربار التجا کرنے سے خود شناسی کو ممکن بنایا۔

یاد رکھیے اس سوال کا جواب ہر انسان نے خود تلاش کرنا ہے۔ انسان کی ساری ڈیو لپمینٹ، انسان کی ساری ترقی صرف اور صرف اسی سوال کے گرد گھومتی ہے کہ میں کون ہوں؟ اللہ نے مجھے خاص حالات میں کیوں پیدا کیا؟ دنیا میں میری اسا ئنمٹ کیا ہے؟ اس مقصد کو تلاش کرنا انسان کا اصل کام ہے۔ خود شناسی ایک ایسا سوال ہے جو زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں ہر انسان کے ذہن میں ضرور ابھرتا ہے۔ انسان پیدا ئش سے موت تک خود شناسی کی کھوج میں سر گرداں رہتا ہے مگر ہر انسان کو خود شناسی نصیب نہیں ہوا کرتی۔  

خود شناسی کے لیے شرط یہ ہے کہ دل میں سچی لگن اور دعا میں تڑپ ہونی چاہیے۔ کبھی کبھی خالص ہو کر پوری یکسوئی کے ساتھ تہجد کے وقت میں اللہ سے بار بار یہ دعا کرنی چاہیے اور خودشناسی کا راستہ طلب کرنا چاہیے۔خود شناسی سے تعلق رکھنے والی اہم چیز خدا شناسی ہے۔ خدا شناسی کے بغیر خود شناسی ممکن نہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ خود شناسی اور خدا شناسی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ خدا کی معرفت تک رسائی کی جستجو انسان کے اندر ہمیشہ سے موجود ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی ذات کو جاننے کے وسیلے کیا ہیں؟

 خدا کو جاننے کا وسیلہ خدا خود ہی ہے۔ جتنی فکر اللہ کو انسان کی ہے ۔کسی کو کسی کی نہیں۔ روٹی، کپڑا، مکان کی طرح خدا کی ذات بھی انسان کی ایک اہم ضرورت ہے۔ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان کو میری ضرورت ہے تو وہ خود ہی راستے دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ اس راستے کے کئی ذریعے ہو سکتے ہیں۔ خدا کی ذات کی معرفت حاصل کرنا انسان کی زندگی کا اہم اور آخری ہدف ہے۔ یہ ہدف کثرت ِ عبادات سے نہیں بلکہ عبادات کے با طن اور اسرار سے حا صل ہوتا ہے۔ عبادات کا باطن اپنی تطہیر کر کے کمالات کو حاصل کرنا ہے۔ انسان اپنے عمل کے ذریعے جتنا پا کیزہ اور باکمال ہوگا اتنا ہی ذاتِ خدا سے قریب تر ہو گا۔عربی ادب میں ایک مشہور مقولہ ہے”جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا“۔ خدا کی طرف پاکیزہ نفوس ہی بلند ہوتے ہیں اور ان کے بلند کرنے کا وسیلہ انسان کے اعمالِ صالحہ ہیں۔(روزہ خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر کرنے کی ایک مشق ہے۔ اس لیے فرض کے ساتھ ساتھ نفلی روزوں کا بھی خاص اہتمام کریں)

جب انسان خدا کو پا لیتا ہے یعنی اس کا یقین اللہ کی ذات پہ پختہ ہو جاتا ہے تو انسان کی زندگی میں امید آنے لگتی ہے۔ رحمت آنے لگتی ہے۔ طبیعت میں نرمی بڑھ جاتی ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی پوری زندگی کا مقصد دو چیزوں میں ہے۔نمبر ایک آپ کی ذات سے کسی کا نقصان نہ ہو رہا ہو۔ دوسرا آپ کی ذات سے کسی کا فائدہ ہو رہا ہو۔ اگر آپ کی زندگی میں یہ سفر شروع ہوگیا، آپ نے بے ضرر ہونا شروع کر دیا اور آپ فائدہ دینے کی طرف آ گئے ہیں تو یقین کریں کہ آپ نے زندگی کے معنی کو پالیا ہے۔ ”اللہ کو راضی کرنا یا اس کو پانا مخلوق کو راضی کرنے سے جُڑا ہوا ہے۔ مخلوق کی خدمت اور مخلوق سے محبت اصل میں خدا سے محبت ہے“۔

عبادات سے انسان کو پارسائی ملتی ہے۔ مخلوق کی خدمت سے ہی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔جو انسان مخلوق سے محبت کرتا ہے اسے اللہ کی محبت ضرور ملتی ہے اور خدا انہی لوگوں پر مہربان ہوتا ہے جن کو اپنی غلطیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر آپ کی آنکھوں میں نمی اور بے بسی ہے اور دل میں کچھ کرنے اور پانے کی تڑپ ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ اللہ کی مہربانی وصول کرنے لگ پڑے ہیں۔

Facebook Comments