آج پھر ایک جنازہ اٹھ گیا۔ محد سے لحد تک کاسفر کتنی جلدی گزر جاتا ہے پتا بھی نہیں چلتا۔ ایسا لگتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات تھی جب میں دلہن بن کر اس محلے میں آئی تھی۔ سامنے والے گھر میں بڑی رونقیں تھیں رعنائیاں تھیں۔ ہر وقت زندگی رواں دواں رہتی۔ کبھی طرح طرح کے کھانوں کی خوشبوئیں اور کبھی ہنسی قہقہوں کی آوازیں آتیں۔ صبح کے وقت اکثر سورہ رحمن یا سورہ یسین کی با ترجمہ تلاوت لگی ہوتی اور کبھی رات بھر ٹیپ ریکارڈ پر گانے بجتے رہتے۔موصوف گانے سننے کے انتہائی شوقین تھے۔ گھر پر ہی کوئی دستکاری کا کام کیا کرتے تھے جو اکثر رات میں تاروں کی چھاؤں اور ٹیپ ریکارڈر کی سنگت میں ہوتا۔ کبھی کبھی بیوی کی دلربا ہنسی کی جھنکار بھی سنائی دیتی اور کبھی دونوں میاں بیوی کی تکرار۔

ایک شوخ سا گانا وہ اکثر لگایا کرتے اور یقیناً بھلے مانس کی بیگم کہیں سامنے ہی اٹھلاتی ہوئی بیٹھی ہوتی ہوں گی۔ چوتھی منزل پہ دونوں گھر آمنے سامنے تھے مگر ہماری کھڑکی پر ہمیشہ ہی ایک بڑا پردہ پڑا رہتا تھا اور جب کبھی گرمیوں کی راتوں میں یہ پردہ ایک طرف سرکا دیا جاتا تو ستار بھائی خود ہی اپنا رخ بدل لیا کرتے تھے۔ بھلے آدمی تھے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔

پہلے بیگم اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں اور ہنستا بستا گھر کسی قبرستان کا منظر پیش کرنے لگا۔ ستار بھائی اکیلے ہی بچوں کی پرورش اور شادیوں کے فرائض نبھاتے رہے۔ پھر ایک دن خود بھی راہی ملکِ عدم ہوئے۔ زندگی میں بہت کڑی آزمائشوں سے گزرے۔ آخری عمر میں کئی طرح کی بیماریوں نے جکڑ لیا تھا۔ کئی سال پہلے دیکھے ستار بھائی اور آج کفن میں لپٹی اس لاش میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ چہرے پر سکون و اطمینان اور داڑھی کا نور، ہونٹ نیم وا اورادھ کھلی آنکھیں جیسے کسی کے انتظار میں۔ بے اختیار ہی میری آنکھوں سے اشکوں کا سیلِ رواں جاری ہو گیا۔

یہی ہے انسان کی اوقات !آخرکار خاک کے اس پتلے کو خاک میں ہی جا کر مل جانا ہوتا ہے۔میت کو ایک نظر دیکھ کر میں ابھی اپنی جگہ پر آکر بیٹھی ہی تھی کہ ایک بزرگ خاتون کہنے لگیں،”بیٹی!مرد کا جنازہ نا محرم عورتوں کے لیے دیکھنا جائز نہیں ہے۔ صرف محرم عورتیں اور مرد اس کو عبرت کی نیت سے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جیسے عورتوں نے بھیڑ لگا رکھی ہے نا! اس طرح بطور تماشہ دیکھنا برا ہے اور نامحرم عورتوں کا مرد کے جنازہ کو دیکھنا ناجائز ہے۔ اگر عورت کا جنازہ ہے تو صرف محرم مرد نیز عورتیں عبرت کی نیت سے دیکھ سکتے ہیں۔ اجنبی لوگوں کا دیکھنا ناجائز ہے۔ آج کل لوگ اس میں بڑی بے احتیاطی کرتے ہیں جس سےبچنا چاہیے“۔بزرگ خاتون کی بات دل کو لگی اور میں  چپ چاپ وہیں بیٹھ کر اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔ مرحوم کی بیٹیاں اور بہنیں جنازے سے لپٹ کر رو رہی ہیں، کسی کے دل میں حسرتیں ہیں کہیں پیار ہے، کہیں ندامتیں ہیں۔ بیٹیاں غم سے نڈھال ہیں، بہنیں رو رو کر ہلکان ہیں۔ محلے پڑوس والے سب آبدیدہ ہیں اور پھر ایک آخری دیدار کرنے کے بعد میت اٹھا لی گئی۔ جنازہ قبرستان لے جایا گیا اور سپرد خاک کر دیا گیا۔ گلی میں بچھی دریوں پر اب بھی کافی خواتین بیٹھی تھیں۔تھوڑی دیر مرنے والے کا تذکرہ پھر اس کی بیٹیوں کا غم اور پھر بس اپنی باتیں شروع۔ کہیں دبی دبی ہنسی تو کہیں کھلم کھلا اپنے مسائل کا تذکرہ۔ آنکھوں کے سامنے ایک جنازہ اٹھ گیا مگر ہم میں سے کتنوں نے عبرت پکڑی؟ وہی ہانڈی چولہے کے تذکرے، وہی میری تیری باتیں۔ کیا واقعی ہم لوگ جنازوں پر بھی کھیل تماشوں کے لیے آتے ہیں؟

ایک بات جو ہر فوتگی پر سب سے پہلے سننے میں آتی ہے، ”کیا ہوا تھا، کیسے فوت ہوا؟“لو بھئی! یہاں بھی مادیت ہمارے ایمان پر چھائی نظر آتی ہے، بس اللہ کا حکم ہوا، وقت مقرر تھا، پھر سوال کیسا؟ مادی لحاظ سے وجہ کوئی بھی بنی ہو، لیکن وہ بعد میں، پہلے تو ہم اللہ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کریں۔ اور بغیر کسی وجہ کے، کسی بھی لمحے، اپنی طرف تیزی سے بڑھنے والی موت کی تیاری میں لگے رہیں۔ذرا سی دیر کو بھی کسی نے تصور کیا کہ ایک دن میں نے بھی یونہی میت بن جانا ہے میرا بھی جنازہ اٹھے گا، میں بھی منوں مٹی تلے دفن کر دی جاؤں گی۔ میرا سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ ساتھ جائیں گے تو صرف میرے اعمال۔ ہاں صرف میرے اعمال۔ تو کیا ہیں میرے اعمال؟کیا سنبھالا ہے میں نے اپنی قبر کے لیے؟ قبر جو آخرت کی منزلوں میں سے سب سے پہلی منزل ہے، جہنم کا گڑھا ہے یا جنت کا باغ۔ یونہی قبر کی یاد نے میرے بھی ہوش اڑا دیے، لہو گرما دیا۔ دور کا سفر اور زادِ راہ کچھ بھی نہیں۔ایک دن میں نے بھی یہاں سے چلے جانا ہے۔ ایک دن میرا بھی جنازہ اٹھ جانا ہے اور منوں مٹی تلے اکیلے ہی جا کر سو جانا ہے۔ جانے وہ نیند چین و قرار کی ہے یا پھر؟اس سے آگے ایک خوف کی لہر تھی جس نے میرے پورے وجود کو جکڑ لیا۔ ’

’ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں“۔(سورہ آل عمران 185) 

مجھے ساتھ ہی اپنی ایک عزیز بہن کی بات یاد آگئی کہ میں تو اپنی الماری میں اپنے دوسرے کپڑوں کے ساتھ اپنے کفن کا جوڑا بھی رکھتی ہوں۔ یہی تو میری اہم ضرورت ہے، جو مجھے ہر بار الماری کھولتے ہوئے مجھے میرے رب سے ملاقات کو یاد دلاتی ہے، کہ کہیں میں دنیاداری میں، واپسی کے سفر کی تیاری بھول نہ جاؤں۔ 

Facebook Comments