پاکستان کو اقتصا دی طور پر جنت نظیر بنانے کے بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود ملکی معیشت کا حال انتہائی پتلا ہے۔ وزیراعظم عمران خان خودمعاشی صورتحال پر خاصے متشوش ہیں، جب کہ خوشامدیوں کی طرف سے سب اچھا کی یقین دہانیاں کروائی جارہی ہیں۔ مقام شکر ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کو حالات کی نزاکت کا بخوبی ادراک ہے، مگر ان کی کابینہ کے ارکان کی اکثر یت نورتن حقیقت حال سے واقف نہیں ہیں۔ وہ یہی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں کہ انٹرنیشنل ری پبلیکن انسٹی ٹیوٹ سروے کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف 34 فیصد عوامی حمایت کے ساتھ مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ مسلم لیگ ن کی عوامی حمایت 21 فیصد اور پیپلز پارٹی کی 12 فیصد ہے، سروے میں دکھایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 57 فیصد عوامی حمایت کے ساتھ ملک کے مقبول ترین رہنما ہیں، جب کہ زمینی حقائق مختلف ہیں۔ وزیر اعظم عوامی حمایت کے باوجود عوام کو رلیف دینے میں ناکام ہیں، ملک میں دن بدن مہنگائی، بے روز گاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، کساد بازاری کی وجہ سے تمام کاروبار ٹھپ ہیں، اس میں نیب کی کارروائیوں کا کتنا اور حکومت کی ناقص پالیسیوں کا کتنا عمل دخل ہے، اس سے قطع نظر حکومت کی نا اہل اقتصادی ٹیم کی ہٹ دھرمی کے باوجود بات بن نہیں رہی ہے۔

بینک دولت پاکستان نے پیش گوئی کی ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ہی ملک میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا۔ یہ پیش گوئی بینک دولت پاکستان نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی جاری کردہ رپورٹ میں کی ہے۔ مہنگائی کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکے گا،جب کہ شرح نمو ساڑھے تین سے چار فیصد کے درمیان رہے گی۔ پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات دیگر ممالک کی مصنوعات سے مقابلہ نہیں کر پارہی ہیں اور یوں پاکستان کی برآمدات میں بھی قابل ذکر کمی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے مالیاتی خسارہ اور جاری کھاتے کا خسارہ بھی قابو سے باہر رہے گا۔

کچھ عرصہ پہلے ہی منی بجٹ پیش کرتے ہوئے تحریک انصاف کے معاشی ماہر اسد عمر نے دعویٰ کیا تھا کہ مالیاتی خسارہ 4.9 فیصد تک رہے گا۔ اب بینک دولت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ مالیاتی خسارہ بھی کم از کم 6 تا 7 فیصد تک جائے گا ،جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ بھی ساڑھے پانچ فیصد تک جائے گا۔ بینک دولت پاکستان نے جو کچھ بھی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں کہا، ان تمام خدشات کا اظہار اسی وقت کیا گیا جب اسد عمر دوسرا منی بجٹ پیش کررہے تھے، مگر اہل تنقیدکو عوام کے ساتھ وقت آنے پر نتیجہ خیز معاشی پالیسی کا جھانسہ دے کر خاموش کروادیا گیا۔ اس کے بعدجس بری طرح پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گرائی گئی، اس کا یہ خوفناک نتیجہ پہلے ہی سے متوقع تھا۔ تاہم یہ عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم کی ڈھٹائی ہے کہ وہ اب بھی یہ امر تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی کا طوفان ان کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں پیداواری لاگت میں اضافے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈالر ایک سو روپے سے بڑھ کر 144 روپے پر پہنچ گیا، جب کہ حکومت کی گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ سوئی سدرن گیس نے 15 ارب روپے سالانہ مالیت کی گیس چوری کو بل ادا کرنے والے صارفین سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں اوگرا کو سمری ارسال کردی گئی ہے اور چندہی دن کی بات ہے کہ عوام پرگیس کے نرخوں میں 144 فیصد کا مہنگائی بم گرایا جاچکا ہوگا۔ اسد عمر خود فرما چکے ہیں کہ مہنگائی اتنی بڑھے گی کہ عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ عمران خان بتائیں کہ روپے کی بے قدری کیوں کی گئی تھی اور اس سے برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا۔ عمران خان کے معاشی ماہر اسد عمر بتائیں کہ صرف ڈالر کی بے قدری کے نتیجے میں جو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے اس کا ان کے پاس کیا جواب ہے۔ سرکاری حج کے اخراجات میں اضافہ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مہنگائی میں کتنا زبردست اضافہ ہوا۔ ارکان پارلیمنٹ تو اپنی تنخواہیں کئی گنا خود ہی بڑھا لیتے ہیں، کیا سرکار نے اتنا ہی اضافہ نجی و سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کیا ہے۔

عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل کرپشن کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے، کیا وہ بتائیں گے کہ اس میں انہیں کتنی کامیابی ملی اور کتنی لوٹی گئی رقم قومی خزانے میں واپس لاچکے ہیں۔ اس وقت ملک میں عملی طور پربینکاروں کی حکومت ہے جو اپنے سود کی وصولی کے لیے روزبروز ٹیکس میں اضافہ کررہے ہیں۔ نئے ٹیکس انہی لوگوں پر عاید کیے جارہے ہیں جو پہلے سے ہی ٹیکس کی ادائیگی کررہے ہیں۔ حکومت ٹیکس چوروں کے لیے تو ایمنسٹی اسکیم لاتی ہے، مگر عام عوام کو اضافی ٹیکس بوجھ سے پریشان کیا جارہا ہے۔ حکومت میں کوئی بجلی و گیس اداروں سے پوچھنے والا نہیں کہ اربوں روپے کی گیس وبجلی کی چوری میں ان صارفین کا کیا قصور جو باقاعدگی سے اپنا بل ادا کرتے ہیں۔ حکومت کیونکر ان اداروں کو اجازت دیتی ہے کہ اپنی نااہلی یا اپنے عملے کی مدد سے چوری ہونے والی گیس اور بجلی کے بل عام صارفین سے وصول کریں۔ پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخ بڑھا نے اور روپے کی قدر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں گرانے سے کس طرح ملکی پیداوار کی لاگت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

عوام نے تو یہی توقعات باندھی تھیں کہ چین اور برادر مسلم ممالک کی بھرپور معاونت حاصل ہونے کے بعد حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی قطعاً مجبوری لاحق نہیں ہوگی، مگر وزیر خزانہ اسدعمر آئی ایم ایف کے ساتھ ہی بندھے نظر آتے رہے اور عوام کو آئی ایم ایف کے ساتھ اچھے معاہدے کی نوید سناتے رہے۔ آئی ایم ایف کو تو بہرصورت اپنے قرض کی بمع سود وصولی سے ہی غرض ہوتی ہے جس کے لیے وہ مقروض ملک پر ایسی ناروا شرائط عائد کرتا ہے کہ ان پر عملدرآمد کرتے کرتے ملک کی خودمختاری تک داﺅ پر لگادی جاتی ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بنک نے بھی مہنگائی میں مزید اضافے کی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس کے بعد غربت، مہنگائی، بے روزگاری کے بے رحم پاٹوں میں پسنے والے مفلوک الحال عوام کی کیا درگت بنے گی۔ اس کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں، اگر حکمرانوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ روزمرہ مسائل کے پہاڑ کھڑے کرنے کے باوجود عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہوگا اور وہ نئے پاکستان کے سلوگن کے گن گاتے رہیں گے تو انہیں ایسی کسی خوش فہمی میں ہرگز نہیں رہنا چاہیے۔ کیونکہ عوام کے لیے آج عملاً تنگ آمد بجنگ آمد والے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ عوام میں پیدا ہونے والا ایسا اضطراب ہی حکومت کے مخالفین کے لیے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوتا ہے۔

اس لیے حکومت کو اب بہرصورت عوام کے مسائل کا ادراک اور ان مسائل میں انہیں ریلیف دینے کی کوئی ٹھوس پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم کب تک سفارشی نااہل کھلاڑیوں سے اچھی ٹیم کا تاثردیتے رہیں گے، جب کہ ان کی کار کردگی صفر ہے۔ اگر ماضی کی حکومتیں انہی مسائل کی بنیاد پر عوام کے ہاتھوں راندہ درگاہ ہو کر گھر واپس جاتی رہی ہیں تو آج کے مضطرب عوام اپنے آئیڈیل حکمرانوں کو بھی یہی راستہ دکھا سکتے ہیں، اس لیے عوام کے صبر کا مزید امتحان لینے سے حکومت کو گریز کرنا چاہیے۔ عوام بے روز گاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، جب  کہ حکومت رلیف دینے کی بجائے اپنی غلط پالیسیوں کی بدولت مہنگائی میں اضافہ کررہی ہے۔ آخر کب عوام کے مصائب کا امتحان ختم ہو گا، یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو ملک میں انارکی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ بہتر ہوگا کہ مہنگائی کے طوفان کے عقب میں چھپے عوامی غیظ و غضب کے طوفان کا ابھی سے ادراک کر لیا جائے، بصورت دیگر عوامی غیظ و غضب کا یہ طوفان سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔

Facebook Comments