چند روز قبل عالمی یوم خواتین کے موقع پر چند لبرلز کی جانب سے جس طرح کا آزادی مارچ دیکھنے میں آیا وہ ہر عام عورت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنا۔ وہ عورتیں جو کلبوں اور بازاروں کی شمع محفل بننے کے بجائے اپنی اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے گھر کی زینت بننا پسند کرتی ہیں یقینا ان کا موقف اس آزادی مارچ میں شامل خواتین سے موافقت نہیں رکھتا۔لبرل ازم پاکستانی عورت کا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ایک عام عورت کے مسائل کی عکاسی لبرل کلاس نہیں کرسکتی۔ کچھ شہروں میں آذادی کی آڑ میں نہ صرف اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا بلکہ عورت مارچ کے اصل مقصد کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور اس کا رخ اصل مسائل کے بجائے تنقید کی طرف موڑ دیا۔ محض چند لبرل خواتین کے اس قسم کے مادر پدر آزاد خیالات نہ صرف معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں بلکہ انہوں نے عورت کے ان حقیقی مسائل کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے جن کے حل کے لیے ایک عام عورت اس عورت مارچ میں آواز بلند کرنے نکلی۔ 

ایک عام عورت کا مسئلہ بیہودگی سے بیٹھنا، کھانا، پینا، سونا، ماہواری یا اخلاق کی حدوں سے گرنا ہر گز نہیں بلکہ ان حقوق کا مطالبہ ہے جو اسے اسلام نے آج سے 1400 سال پہلے دیے ہیں۔ اس کا مسئلہ ان مسائل سے جنگ ہے جن کا سامنا اسے پاکستان جیسے ایک اسلامی معاشرے میں بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشرے کی تعمیر و تکمیل میں عورت اور مرد دونوں کا حصہ ہے۔ کامیاب اور اچھے معاشرے کی تکمیل کسی ایک صنف کے بغیر نا ممکن ہے اور یہ بات سمجھنا مرد و زن دونوں پر لازم و ملزوم ہے۔مرد کا عورت کو اور عورت کا مرد کو نیچا دکھانا انتہائی کم عقلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 

عورت کے پاکستانی معاشرے میں اصل مسائل کیا ہیں اور ان پر آواز اٹھانا کیوں ضروری ہے ؟ آج کل کے پدرانہ نظام میں برابری کے حقوق حاصل کرنا۔ صحت و تعلیم، ملازمت، وراثت ،عزت اور معاشرے میں برابر کی نمائندگی آج کی عورت کے مسائل ہیں۔ میں ایک عام پاکستانی عورت ہوں مرد کی عزت اور حجاب میرا خاصہ ہیں مگر میں معاشرے میں اپنا مقام چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ کم عمری اور بغیر رضا مندی کی شادیوں پر پابندی ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر عورت کو صحت و تعلیم کی سہولت میسر آئے۔ کوئی خاتون حالتِ زچگی میں ہسپتال کے احاطے میں دم نہ توڑے یا ولادت نہ دے۔ تھر جیسے پسماندہ علاقوں میں علاج معالجے اور روزگار کی سہولت میسر آئے۔

میں چاہتی ہوں گھر میں کام کرنے والی ایک غریب عورت یا بچی کی تذلیل نہ ہو۔ کوئی بنتِ حوّا جرگوں کے ظالمانہ فیصلوں کا شکار نہ بنے اور متاثرہ عورت کو انصاف ملے۔

میں چاہتی ہوں کہ یتیم ، بیوہ یا طلاق یافتہ لڑکی کو یہ معاشرہ عزت دے۔ کمزور سمجھ کر گھریلو تشدد سے تنگ آکر خود کشی پر مجبور نہ ہو۔ میں چاہتی ہوں کوئی بیٹی کسی درندے کی ہوس کا شکار نہ بنے۔ ورک پلیسز ، کالج یونیورسٹی ہرا سیت کا شکار نہ ہو۔ یہ وہ مسائل ہیں کی جن کو حل کیے بغیر ایک سلجھے ہوئے اور کامیاب معاشرے کی تکمیل ناممکن ہے۔ 

کچھ شہروں میں تو ان مسائل کو اچھے طریقے سے اجاگر کیا گیا اور عام عورت نے عورت مارچ میں شرکت کرکے اپنے آواز بلند کی مگر صد حیف ان خواتین پر جو اسے متنازعہ بنا کرنہ صرف خود تنقید و تضحیک کا نشانہ بنیں بلکہ ایک عام عورت کی تذلیل کی مرتکب بھی ہوئیں اور یہ بھول بیٹھیں کہ 

ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں

قوموں کی عزت ہم سے ہے 

Facebook Comments