اسلامی ریاست فقط ایک نعرے کا نام اور صرف زبان سے اقرار کر لینے کا نام نہیں ہے۔ یہ ملک جو لیا ہی اسلام کے نام پر ہے اس ملک کو بنانے کے لیے جتنی قربانیاں دی گئیں اتنی کسی بھی ریاست کے لیے قربانیاں نہیں دی گئیں۔ یہ کم از کم اس کی مثل نہیں بن سکتی وہ ساری قربانیاں صرف ایک اسلامی ریاست کے حصول کے لیے ہی دی گئی تھیں۔ آج موجودہ حکومت کا اس ریاست کو ہماری آئیڈیل یعنی مدینہ جیسی ریاست بنانے کا جو ویژن ہے ہم اس سے حسنِ ظن رکھتے ہیں مگر اسلامی ریاست بنانے کے لیے اس نعرے کو عملی جامہ پہنانا بہت ضروری ہے۔ آج تک جتنے بھی عوامی نمائندوں نے پاکستان پر حکومت کی انہوں نے ملوکیت کا مظاہرہ کیا ہے مگر موجودہ وزیراعظم عمران خان واحد شخص ہیں جن سے خلافت یعنی اسلامی جمہوریت کی امید عوام کو وابستہ ہوئی ہے۔ ان کے سامنے خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے ادوار حکومت بھی ہیں اور مغربی طرز حکمرانی بھی سامنے ہے۔ جس سے وہ بخوبی اسلامی ریاست اور ملوکیت کا فرق دیکھ سکتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے وجود کے لیے اس کے بنیادی اصولوں کو جاننا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ صرف نعرہ لگانے سے اسلامی ریاست کا وجود ممکن نہیں۔ مگر عملاً دور دور تک ایسا نظر نہیں آ رہا۔

توحید: (اللہ کی حکمرانی کو تسلیم کرنا) ہم اللہ کی حکمرانی کو نظریاتی اعتبار سے تو مانتے ہیں مگر عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس پارلیمنٹ کے ماتھے پر لا الہ اللہ لکھا ہے اس کے اندر کبھی شراب کی حرمت (حرام کرنے کا) بل پاس نہیں ہوا۔ ان الحکم الا للہ کے تحت صرف زبان پر نہیں بلکہ عملاً ہر میدان میں اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ جب تک مقتدار اعلی اللہ کو ماننے کا اقرار نہیں ہوتا اسلامی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہم پر صرف حکمرانی اللہ کی ہونی چاہیے اگر ہم گھر میں اللہ کے بندے ہیں تو باہر بھی اللہ کا بندہ بننا چاہیے۔ اگر مسجد میں اللہ کے بندے ہیں تو ہمیں بازار میں بھی اللہ” کا بندہ بننا چاہیے آج ہر بندہ خدا بنا بیٹھا ہے سب یہی کہتے ہیں کہ میرا یہ حکم ہے میں یہ کہتا ہوں میں اس بات کا حکم دیتا ہوں۔ ہمیں یہ نہیں دیکھنا کہ انسان کیا کہتے ہیں بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ شریعت کیا کہتی ہے دین کس بات کا حکم دیتا ہے؟ اسلامی ریاست کس قانون کی منتظر ہے۔ اس اصول کے بغیر ہم اپنے مطابق تو فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں مگر اسلامی فلاحی ریاست نہیں بنا سکتے اس کو اسلامی ریاست میں جڑ کی حیثیت ہے۔

قرآن و سنت کی بالادستی: یہ اصول پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں لکھا ہوا ہے مگر آج تک پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کی بالادستی میں کوئی بل پاس نہیں ہوا۔ قرآن بھی اسلامی ریاست بنانے میں ہماری واضح رہنمائی کرتا ہے۔ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول (تم اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو ) تو کہیں اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں،” جب اللہ اور اللہ کے رسول کسی بات میں فیصلہ فرما دیں تو تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا“۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجةالوداع کے موقع پر بھی فرمایا تھا ،”میں تم میں دو ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے، تھامے رکھو گے تو تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے ایک اللہ کا قرآن اور دوسری میری سنت۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ،” عنقریب بہت سارے فتنے آجائیں گے “۔ایک صحابی نے پوچھا ”اے اللہ کے رسول ان فتنوں سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی کتاب (قرآن ) ان احادیث سے پتاچلا کہ قرآن و سنت کی بالادستی اسلامی ریاست کے لیے دوسرا اہم اور بنیادی اصول ہے۔

اسلامی ریاست: اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا کہ،” یہ وہ لوگ ہیں اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں تو یہ نماز قائم کرتے ہیں“۔ صرف نماز ہی نہیں آگے فرمایا،” وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور گناہوں سے روکتے ہیں“۔ آج ہمیں بہترین امت صرف اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ یہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور گناہوں سے روکتے ہیں۔ مگر حال ہی میں بدقسمتی سے ہماری اس اسلامی ریاست کے دارالخلافہ کی سڑکوں پر بے حیائی کے نعرے ”میرا جسم میری مرضی“ کی آوازیں بلند کی گئیں ،معاشی سطح پر سود عام ہے ،معاشرتی بے حیائی، عریانی اور فحاشی عام ہے۔ جب تک امر بالمعروف والنہی عن المنکر کو عملی طور پر نہ اپنایا جائے تب تک اسلامی ریاست فقط اک نعرہ ہے۔

نظام عدل و قسط: اسلامی ریاست عدل پر مبنی ہوتی ہے۔ عدل کے بغیر اسلامی ریاست قائم نہیں ہو سکتی اللہ تعالی نے تمام انبیاءکرامؑ کو اسی لیے بھیجا کہ وہ لوگوں کو عدل و انصاف کا درس دیں اسلامی ریاست مکمل اسلام کے اصولوں پر قائم ہوتی ہے جس میں عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اور کسی کالے کو گورے پر گورے کو کالے پر کسی امیر کو غریب پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ،” اے لوگو! تمہارا رب ایک ہی ہے اس لیے کوئی امیر ہو یا غریب کوئی چھوٹا ہو یا بڑا سب کے لئے نظام اور قانون ایک ہی ہونا چاہیے“۔ یہ کچھ اہم اور بنیادی اصول ہیں جو اسلامی ریاست کے قیام کے لیے بہت ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسلام کا تصور شورانیت کا ہے جو پارلیمنٹ سے بالاتر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ (وشاورھم فی الامر)۔ اور مومنوں کی خوبی بھی ہے (وامرھم شوریٰ بینھم )امام بخاری رحمة اللہ علماءسے مشاورت کیا کرتے تھے اور جو بھی قوم مشورہ کرتی ہے وہ بہترین حل کی طرف چل پڑتی ہے۔

Facebook Comments