”ابیحہ کا درس بہت زبردست ہوتا ہے۔ بڑی تاثیر ہے اس کی زبان میں“۔ درس کے بعد خواتین اپنے اپنے گھروں کو جانے لگیں تو چلتے چلتے ایک خاتون نے ابیحہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ ابیحہ درس کے بعد بیٹھک سے نکل کر لاؤنج میں آکر بیٹھ گئی۔ ”بریرہ ۔۔بریرہ! آج پھر تم نے دروازہ نہیں کھولا صبح ماسی آتی ہے آٹھ بجے“،ابیحہ نے منہ بھینچتے ہوئے کہا۔

”بھابھی صبح میری کلاس ہوتی ہے“، ساس امی کھول دیتیں ہیں دروازہ“۔ ”ہاں ہاں امی کھول دیتی ہیں مگر وہ بزرگ ہیں۔ تم کھول دیا کرو میں تو اوپر رہتی ہوں۔ بار بار نیچے آنا مشکل ہوتا ہے“۔ ”جی بھابھی مجھے احساس ہے کہ مشکل ہوتا ہے۔ اگر اپ انٹررکام لگوالیں تو ہمیں اور آپ کو بھی آسانی ہو جائے گی“۔ ”تم سے تو بات کرنا فضول ہے“، اتنا کہہ کر ابیحہ تیز تیز قدم چلتی ہوئی اوپر کی طرف جانے لگی۔ تھوڑی دیر کے لیے بریرہ کو سمجھ نہ آئی کہ یہ وہ ہی ابیحہ ہے جو ابھی صبر، خوش اخلاقی، برداشت اور غصہ دبانے پر دو گھنٹے درس دے کر آئی ہے۔

”جی السلام علیکم!“ ”ہاں بریرہ بیٹی میں زارا آنٹی بول رہی ہوں۔ ابیحہ ہے گھر میں؟ اس سے ذرا کچھ تفسیر کا پوچھنا تھا“۔ ”جی وہ تو دررزی کے پاس گئیں ہیں آپ تھوڑی دیر بعد فون کر لیں“۔ ”اچھا بریرہ بیٹی! تم ٹھیک ہو؟ ابیحہ بھی بیچاری بہت مصروف رہتی ہے۔ چار بچوں کا سنبھالنا پھر کوئی ہے بھی نہیں اس کا کرنے والا پھر بھی اس کا اخلاق بہت ہی اچھا ہے“۔”جی آنٹی، صحیح کہا آپ نے ویسے انہوں نے سب کاموں کھانے پکانے سے لے کر جھاڑ پونچھ تک کی ماسی لگا رکھی ہے“۔

ایک دن بریرہ اپنے کمرے میں تھی کہ ”بریرہ چچی آپ کو ماما بلا رہی ہیں“۔ چھوٹا بلال ماما کا پیغام لے کر آیا۔ بریرہ سنتے ہی ڈر اور خوف سے کچھ پرشان ہونے لگی۔ ”یا اللہ اب کیا ہو گیا۔ میں تو زیادہ بات بھی نہیں کرتی، اوپر بھی نہیں جاتی“، بریرہ دل ہی دل میں بڑ بڑائی اور اوپر جانے لگی۔ بریرہ کی دھڑکن تیز تھی”جی بھابھی؟“ ”یہ دیکھو تمھارے بیٹے نے میرے بستر پر سرمہ گرا دیا ہے۔ اسے نیچے رکھا کرو اوپر نہ بھیجا کرو کتنی دفعہ کہا ہے“۔ ”لائیں بھابھی میں دھو دیتی ہوں۔ دو سال کے بچے کو سمجھ نہیں ہوتی“۔ ”ہاں ہاں اب مجھے نہ سمجھاؤ کہ وہ دو سال کا ہے۔ ماسی سے میں دھلوا لوں گی تم بس اس کو نیچے رکھا کرو“۔ ”جی بھابھی!“ بریرہ جانے لگی کیونکہ وہ مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی کہ ابیحہ پھر شروع ہو گئی ”ادھر ہی رکو یہاں کھڑے ہو کر بات سنو میری“، ابیحہ نے قدرے چیختے ہوئے کہا۔

”جی میں سن رہی ہوں۔ اپنی بیٹی کو سمجھاو کے اگر اوپر آکر کھیلنا ہے تو شور نہ کیا کرے۔ میرے چار بچے ہیں میں ویسے ہی ان کے ساتھ کھپی ہوتی ہوں۔ میرے سونے کے وقت پر وہ آجاتی ہے۔ میرے پاس وقت نہیں ہوتا سونے کا ہفتے میں تین درس دینے ہوتے ہیں۔ اب اللہ کی راہ میں نکلنا ہے تو ظاہر ہے ایسے ہی مینج کرنا ہو گا“۔

”جی بھابھی“، اتنا کہہ کر بریرہ نیچے آگئی۔ دل میں غم چھپائے بریرہ کمرے میں آکر روتی جاتی اور چھوٹے علی کو مارتی جاتی۔ آج کے درس کا موضوع ہے، ”صلہ رحمی“، ابیحہ بولی۔ ایک حدیث ہے، ”ایک عورت کے متعلق آپﷺ سے لوگوں نے سوال کیا کہ وہ بہت عبادت گزار ہے مگر بد اخلاق ہے۔ ایک اور عورت ہے جو کہ صرف فرائض کی پابند ہے مگر بااخلاق ہے تو ان میں سے کون بہتر ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا جو بااخلاق ہے“۔ ابیحہ دو گھنٹے کا درس دینے کے بعد فارغ ہوئی تو بریرہ نے چائے لگادی۔

چائے کے دوران سب خواتین خوش گپیاں کرنے لگ گئیں۔ ”آپ کو تو پتا ہے آنٹی کہ میں کس قدرمصروف ہوتی ہوں کوئی ہے نہیں میرا کرنے والا“، ابیحہ نے بریرہ کو ذرا غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ایک خاتون کہنے لگیں، ”بیٹا میری بیٹی کی اگلے ماہ شادی ہے اور تم سے اس کی دوستی بھی خوب ہے اگر تم اسے سسرال کے بارے میں بتاؤگی تو اس کی زندگی سنور جائے گی۔ تم تو ایک چلتی پھرتی مثال ہو ہم سب کے لیے“۔ یہ سن کر ابیحہ فخریہ مسکرائی اور بریرہ کو دیکھنے لگی۔

”میں بھی اب چپ نہیں رہوں گی بس بہت ہو گیا“، بریرہ نے کمرے میں آتے ہی غصے سے بڑبڑائی۔ بغض، کینہ، نفرت اور عداوت نے بھی بریرہ کے دل میں جنم لے ہی لیا۔ دن گزرتے گئے بریرہ کی ایک اور جیٹھانی جو کہ ملک سے باہر رہتی تھیں وہ چھٹیوں میں ملنے آئیں۔ یہ ابیحہ سے چھوٹی تھیں۔ کچھ دن تو ایسے ہی ہنسی مزاح کرتے گزرے۔ صالحہ پیار سے ابیحہ کو درس والی باجی کہا کرتی تھیں۔ کچھ دنوں بعد پھر ابیحہ اور صالحہ کے درمیان بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر نوک جھوک ہونے لگی۔ جس پر ابیحہ ذرا خفا سی رہتی کیونکہ صالحہ اس کی الٹی باتوں پر اسے خوب ٹھوک بجا کے جواب دیتی۔ ایسے ہی ایک دن ابیحہ نے بریرہ کو اوپر بلایا اور اس کے چھوٹے بیٹے کے  کھلونے پھیلانے پر اسے خوب سنائیں جس  پر بریرہ بھی خاموش نہ رہ سکی۔

”بھابھی آپ کو بس اپنے بچوں کی پڑی رہتی ہے۔ باہر تو بہت اچھی بنتی ہیں۔ دو دو گھنٹے درس دیتی ہیں مگر قرآن پڑھ کر بھی آپ انتہائی بد اخلاق ہیں“، اتنا کہہ کر بریرہ بھی غصہ میں نیچے آگئی۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد تک ابیحہ بہت ناراض رہی۔ بریرہ کو بھی اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا اور اس نے جا کر معافی مانگنے کا ارادہ کیا۔

ابیحہ ایک دن نیچے آئی تو صالحہ سے کہنے لگی، ”میرے بچے بیمار تھے تم نے پوچھا نہیں۔ جو لاتی ہو دوسروں کو دیتی ہو میرے بچوں کو نہیں“۔ اتنا سننا تھا کہ صالحہ نے ابیحہ کی طرف انگلی اٹھا کر کہا، ”بھابھی مجھ سے تمیز سے بات کیا کریں۔ میں یہاں والدین سے ملنے آئی ہوں۔ آپ کی باتیں اور طعنے سننے نہیں“۔

ابیحہ کو تو جیسے یہ سن کر چکر ہی آگیا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنا سر کہیں دے مارے یا صالحہ کا منہ توڑ دے۔ خیر ابیحہ غصہ میں پیر پٹختی ہوئی چلی گئی۔ دوسری طرف بریرہ اس سارے واقعے سے بے خبر ایک دن ابیحہ سے اپنے اس دن کے رویے کی معافی مانگنے گئی۔ جس پر ابیحہ روتی ہوئی اس کے گلے گئی اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ خیر دونوں خوب روئی دھوئیں اور صلح کے لیے آمادہ ہوگئیں۔ ان دونوں کی باتیں سن کر باقی گھر والے بھی آ گئے۔ گھر کے بڑوں اور سب کے شوہروں نے مل بیٹھ کر خوب سمجھایا۔ سسر صاحب نے کہا، ”بھئی حدیث ہے، جو چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں“۔ اس بات پر سب لوگ ہی نادم ہوئے اور آئندہ کے لیے اپنے اخلاق سنورانے کا سوچنے لگے۔ صالحہ بھی کچھ دنوں بعد چلی گئی مگر ابیحہ کو ایک یاد گار سبق دے گئی۔

Facebook Comments