حمزہ بہت دنوں بعد دادا جان کے ساتھ باغ میں گیا تھا اسے دیکھ کر درخت جھوم اٹھے تھے۔ پرندوں نے اپنی سریلی آواز سے اس کا استقبال کیا تھا۔ طوطے ٹائیں ٹائیں کرتے اس کے سرپر منڈلانے لگے تھے، ایک ننھی سی چڑیا، ہاں رنگ برنگی چڑیا درخت پر اداس بیٹھی تھی حمزہ کی اس پر نظر پڑی تو اس نے دیکھا کہ ایک چڑیا درخت پر بیٹھی کچھ سوچ بچار میں مگن ہے جیسا کہ پوری دنیا کے سارے غم اس کے پاس ہوں۔ حمزہ کو اس پر بہت تر س آیا اور اس کے بالکل قریب ہو گیا تاکہ اس کی اداسی کی وجہ جان سکے۔ چڑیا اپنی سوچ میں مگن تھی کہ اچانک پتوں کی سرسراہٹ سے چونک گئی اور دیکھا کہ ایک انسان اس کے قریب کھڑا ہے ”خوش آمدید“انسانوں کی بستی سے آنے والے چڑیا نے کہا۔ ”تم اتنی اداس کیوں ہو؟ اس ماحول میں درخت بھی جھوم رہے ہیںد وسرے پرندے بھی اپنی خوشیاں منارہے ہیں مگر تم کیوں اداس ہو؟“حمزہ نے چڑیا سے پوچھا۔ ”تم انسان اتنے ظالم ہو کہ کسی کا خیال نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کی مدد کرتے ہو چڑیا نے آنسوں بہاتے ہوئے کہا“۔
حمزہ نے کہا ”میں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا۔ کیا کسی انسان نے آپ کوتکلیف دی ہے؟“

یہ سامنے جو درخت کھڑا ہوا ہے اس پر میرا گھونسلہ تھا جس پر میرے بچے موجود تھے اس شخص نے ننھے بچوں کا لحاظ بھی نہ کیا اور اس درخت کو کاٹ دیا“،چڑیا نے آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے کہا۔ ”یہ تو بہت دکھ کی بات ہے یہ تو بہت ظلم ہو اہے“، حمزہ نے چڑیا کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔ ”یہ دنیااللہ نے تخلیق کی ہے، اس کی ہر چیز اللہ نے پیدا کی ہے۔ ہر مخلوق کے لیے اس میں گنجائش رکھی ہے۔ اس نے اخلاقیات سکھانے کے لیے پیغمبر بھی بھیجے تھے،کیا تم تک یہ تعلیمات نہیں پہنچی ؟چڑیا نے حمزہ سے پوچھا۔”کیوں نہیں یہ تعلیمات ہم تک ضرور پہنچی ہیں“، حمزہ نے اتنا کہا اور کوا کائیں کائیں کرتے ہوئے آگیا۔ ”میں سمجھ گیا کہ اس کی بھی کوئی شکایت ہے“، حمزہ نے دل میں سوچا۔”ارے کوے میاں! تمہیں بھی کوئی شکایت ہے؟“، حمزہ نے کوے سے پوچھا۔ ”ہاں کیوں نہیں اے انسان! تم انسان تو صرف نفرت پھیلاتے ہو محبت کا جزبہ تو تم میں بہت کم ہے۔ نبی کریم ﷺ تو تمام پرندوں سے پیار کرتے تھے“، کوے نے شکایت کرتے ہوئے کہا۔ کوے نے مزید بتایا کہ، ”تم انسان طوطا، کبوتر کو پالتو بناتے ہو ان سے محبت کرتے ہومگر ہمارے جیسے کوے ذات کو قریب بھی نہیں بیٹھنے دیتے“۔

حمزہ اس کے سوال سے بے بس ہو گیا تھا کیونکہ یہ کوا ٹھیک ہی کہ رہا تھا۔ ابھی کوے کامقدمہ پورا ہوا نہیں تھا اس دوران لالی آگئی اور اپنی دنیا میں انسانوں کو دیکھ کر اسنے کہا، ”اے انسان! تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، کیا تمہارے اندر احساس نام کی کوئی چیز نہیں؟”ارے پیاری لالی! اب تم کو کیا شکوہ ہے انسانوں سے؟“ حمزہ نے لالی کو کہا۔ ”تم انسان پرندوں کے لیے نہ گرمیوں میں نہ پانی کا انتظام کرتے ہو اور نہ دانے کا تمہیں تو بھلا کرنا آتا ہی نہیں“، لالی نے اپنا شکوہ بیان کرتے ہوئے کہا۔

حمزہ یہ سن کر سوچنے لگا کہ ان کو کیا جواب دوں، بالاآخر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا تمہارا نمائندہ بن کر جاتا ہوں اور تمہارے مسائل حل کرواتا ہوں۔ حمزہ پرندوں کا مقدمہ سن رہا تھا کہ دادا کی آواز آئی، ”حمزہ آو بیٹا گھر چلیں“۔حمزہ دوڑ کر واپس گیا تو داد نے دونوں ہاتھوں سے اس کو اُٹھا لیا۔ حمزہ کیا بات ہے بیٹا! آج تم مسکرائے نہیں؟ دراصل دادو آج پرندوں نے انسانوں کا شکوہ کیا ہے کہ انسان پرندوں کا خیال نہیں رکھتے۔ ”اچھا تم اس وجہ سے پریشان تھے کیا شکوہ کیا ہے پرندوں نے“، دادا نے سوال کیا۔ایک شحض نے چڑیا کے بچے گھونسلے سے اُٹھا کر پھینک دیے ہیں اور درخت کاٹ دیا ہے اور وہ چڑیابے گھر ہوگئی ہے اور وہ یہ بتا رہی تھی کہ کیا نبی ﷺ نے ان کو تعلیمات نہیں دی ہیں کہ وہ جانوروں اور پرندوں کا خیال رکھیں؟“

ہاں بیٹا! ہمیں نبی اکرم ﷺ نے تمام مخلوقات سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ آپ کے سفر میں پیش آیا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ، ہم سفر میں تھے کہ آپ کسی ضرورت کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ اتنے میں ہم نے ایک سرخ پرندے کو اس کے چوزوں سمیت دیکھا لہذا ہم نے بچوں کو اُٹھا لیا ان چوزوں کی ماں آپ کے پاس حاضر ہوئی اور اپنے پر پھیلا کر کچھ کہنے لگی آپﷺ نے صحابہ سے پوچھا کس نے اس پرندے کے بچے کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس کو تکلیف دی ہے؟ جس نے بھی اُٹھا یا ہے اس کو واپس لوٹا دو۔ (ابوداود  367)یہ سن کر حمزہ نے تہیہ کر لیا کہ وہ پرندوں کی باتیں سن کر انسانو ں کو ان کی تعلیمات سے آگاہ کرے گا تاکہ پرندے دوبارہ انسانوں کا شکوہ نہ کرسکیں۔

Facebook Comments