کیا پاکستانی قوم واقعی احمق ہے یا احمق ثابت کرنے کی کوشش میں آئے روز کوئی نیا مداری اٹھ کر کرتب دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ملک میں احتساب کا عمل لگ بھگ تین سالوں سے شروع ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستانی سیاست کاسمندرمسلسل مدوجزرکا شکار ہے ۔ پاکستان کی معیشت اور سالمیت کوخطرہ کا لاحق ہے۔حکومت اور اداروں کو اندرونی معاملات میں الجھائے رکھنا دشمنوں کو خوش آمدید کہنے کے مترادف ہے اور یہ اشارے دشمن بخوبی سمجھتا  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو تینوں سمتوں سے گھیرا جا چکا ہے۔

 ایران کےچاہ بہار پورٹ کیلئے بھارت کا تعاون ایران کو احسانوں تلے دبا چکا ہے ۔ افغانستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ خطےکیلئے انتہائی اہم ہے۔ جہاں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں وہیں افغانستان میں آئے روز ایسے واقعات رو نما ہو رہے ہیں جو ہر روز امن کی بات چیت کو ایک نیا موڑ دے دیتے ہیں۔ این ڈی ایس کا اہم ترین مشن پر مقرر ایجنٹ گزشتہ روز مارا گیا ہے ۔بھارت میں اسرائیل بیٹھا ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ بھارت ، فرانس ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ کر چکا ہے۔اس بار اسرائیل اور امریکہ خود بھار تی انتخابات میں دخل اندازی کر رہےہیں ۔ 

پلوامہ حملے کے بعدپاکستانی چینلز اور سوشل میڈیا پر مودی کے خلاف مہم جوئی مودی کیلئے انتخابات میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگی کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں میں کشمیر کا ایشو اور ہندو مسلم مخالفت خوب بکتی ہے۔ سوشل میڈیا اور پاکستانی چینلز پر نریندر مودی کے خلاف چلائی جانے والی کیمپین سے وہاں کی عوام میں یہ تاثر پھیلا ہے کہ مودی پاکستان مخالف ہے اسی لئے پاکستان اس کی مخالفت کر رہا ہے ۔بھارت میں اس سے مودی کی شہرت میں اضافہ ہواہے۔ 

جب گوادر پورٹ کا افتتاح ہوا تھا تو انہیں دنوں میں امریکہ نے ایران سے پابندیاں ہٹائیں اور بھارت نے وہاں پر سرمایہ کاری کرنے کیلئے اربوں روپے کے فنڈ دئیے تھے۔ ا س کے پیچھے سب سے بڑی وجہ گوادر پورٹ کو ناکام کرنا تھا۔ انہی دنوں میں آپ کو یاد ہو گا کہ دوبئ میں مندر بھی بنائے گئے تھے کیونکہ گوادر پورٹ کا نقصان دوبئی کو سب سے زیادہ ہے ۔ اس نے بھارت کے ساتھ ملی بھگت سے سی پیک منصوبے اور گوادر پورٹ کو ثبوتاژ کرنے کیلئے کھیل رچایا تھا۔ اس سارے عمل میں ایران کا کردار صرف اتنا تھا کہ بھارتی جاسوسوں اور پاکستان میں دہشتگردی و دنگہ فساد کی فضا قائم رکھنے میں ایکسپرٹ بھارتی اور اسرائیلی دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل کروانے کیلئے راہیں ہموار کرے گا۔ اس وقت پاکستان نے ایران کو یہ اعزاز بھی بخشا کہ چاہ بہار ،گوادر پورٹ کی سسٹر پورٹ ہوگی ، لیکن اس کے با وجود بغض تھا کہ لالی پاپ،!ایران اپنی حرکتوں سے بعض نہیں آیا۔

کلبھوشن یادیو سمیت دیگر را ایجنٹوں کی گرفتاری کے بعد بھارت نے کشمیر میں حالات خراب کر دئیے۔ اس نے ہر اس سطح پر پاکستان کو نقصان پہنچایا جہاں تک وہ پہنچا سکتا تھا۔

 سابقہ دور حکومت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزارت خارجہ اپنے پاس رکھی ہوئی تھی ۔ اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروباری دوستی انہوں نے خوب نبھائی۔ اس کا ایک عنصر یہ بھی تھا کہ پاناما کا شکار ہونے کے بعد انہوں نے بارہا اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تاکہ این آر او جیسی کوئی صورتحال نکل آئے ۔نواز شریف کے خلاف کیس چلنے کے بعد آصف علی زرداری ملک سے بھاگ گیا ، اسٹیبلشمنٹ کوسا تھ کرنے کی کوشش میں جواب نہ ملنے پر اندرون خانہ نواز شریف کو مشورے اور ساتھ دیتا رہا۔ جب نواز شریف کو کوئی راستہ نظر نہ آیا تو اس نے اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا، پہلے ڈان لیکس کا معاملہ کروایا لپھر اسی ڈان کے نمائندے کو بلا کر خصوصی انٹر ویو دیا کہ پاکستان بھارت میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث تھااور پھر پاکستانی عوام میں فوج و عدلیہ کے خلاف زہر بھرنا شروع کردیالیکن اس وقت احتساب ہمیں جن اور کرپشن دیو نظر آتے تھے ۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہو گیا ہے کہ احتساب کا جن کرپشن کے دیو کو نگلتا دکھائی دیتا ہے ۔ ملک کا دیوالیہ نکالنے والے پکڑے جا رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کو نیب نے طلب کیا تو وٖڈیرہ شاہ برا مان گئے ۔ نہ صرف نیب پر ہلہ بول دیا بلکہ ہٹ دھرمیوں پر اتر آئے ہیں۔ ایک طرف عالمی عدالت میں کل بھوشن کے کیس میں بھارت ثبوت کے طور پر نواز شریف کے بیانات دے رہا ہے دوسری طرف بلاول نے ایک نئی چنگاری بھڑکا دی۔انگریزی میں تقریر کر کے اپنے آقاؤں کو خوش کیاپھر نیب میں پیشی کے بعد نیب کی کاروائی بارے میں پریس کانفرنس میں بتانے کی بجائے پاکستان کو دہشتگردوں کی حامی سٹیٹ قرار دینے کی کوشش کی اور پیشی کے بعد پتہ چلا کہ جس فیکٹری کے بارے بلاول سے پوچھا جا رہا تھا اس بارے بلاول نے بتایا کہ جب فیکٹری بنی میں بہت چھوٹا تھا، زرداری کہے گا بے نظیر کو پتہ ہو گا۔ وہی ساری فلم جو ن لیگ چلاتی رہی اب نئے نام سے چلے گی۔ جس طرح ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ویسے ہی پی پی پی بھی کوشش کر رہی ہے۔ میرا سوال ہے بلاول سے کہ آل ذوالفقار اور پیپلز امن کمیٹی کیا تھی؟ بوری بند لاشوں کا رواج کس نے پیدا کیا؟ سندھ میں مہاجر ،سندھی کا تعصب کس نے شروع کیا؟ اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف یہودیوں کی زبان کون بول رہاہے؟ “ہوئے  تم دوست  جس  کے ، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو”حال ہی میں ایک طرف ٹرمپ کہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں دوسری طرف امریکی آفیشلز کی طرف سے بیان آتا ہے کہ ایک اور پلوامہ جیسا حملہ پاکستان کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوگا۔ پاکستانی قوم ہوش سے کام لیتے ہوئے ذرا ضمیر کو زندہ کر کے سوچے کہ ان حالات میں جب پاکستان کو ہر سطح پر گھیرا جا چکا ہو میں ایسے بیانات کون لوگ دے سکتا ہے ؟ اپنے اندر کے غداروں کو پہچانو!تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی شکست کھائی ہے اپنے اندر کے غداروں کی وجہ سے کھائی ہےورنہ بہادری و شجاعت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔

Facebook Comments