آج صبح بچوں کے اسکول میں 23 مارچ کی تقریب منعقد تھی اور اسکول والوں نے قومی جھنڈے منگوائے تھے۔ ہمارے دل میں بھی ابھی تک جوش و جنوں بر قرار تھا چونکہ چند دن پہلے ہی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تھا تو ہم دل و جان سے ملکی سا لمیت کی بقا کے لیے پر عزم تھے۔ حکومت وقت کو دیکھتے ہوئے بھی یہی تاثر پیدا ہورہا تھا کہ اس دفعہ عوامی سطح پر قومی جذبہ عروج پر ہوگا۔ یہی سوچ کر ہم جب گھر سے نکلے تو پورا یقین تھا کہ کسی جدوجہد کے بغیر پاکستان کا پرچم کسی بھی دکان سے مل جائے گا مگر افسوس اس وقت ہوا جب پورے علاقے میں گھومنے کے بعد بھی ہمیں پاکستان کا جھنڈا نہ مل سکا۔ بات شاید اتنی بڑی نہیں تھی مگر پھر بھی دل اداس سا ہوگیا جب ایک دکان میں کسی کونے سے دھول میں اٹاہوا ایک پلاسٹک کا جھنڈا ملا۔ یہ وہی جھنڈا تھا جس کی اونچائی اور سر بلندی کے لیے کتنی گردنیں کٹ گئیں پر اس پر آنچ آ نہیں آئی۔ اس پرچم میں چھپی میری شناخت، میری انا اور میری آن ہے پر شاید میں زمانے کی بھیڑ چال میں اپنی اصل سے دورہوچکی ہوں۔ میری اصل، میری پہچان، میرا ایمان، میرا مذہب اور اس ایمان کے بل بوتے بننے والا میرا وطن پاکستان ہے لیکن میری مقصدیت میں بھی اسی طرح دھول ا ٹ چکی ہے جس طرح آج اس پلاسٹک سے بنے اس پرچم پر نظر آرہی ہے۔ میں اسی الجھی سوچ کے ساتھ اپنے بچوں کو اسکول پر اتارا اور گھر آگئی۔

افسوس کہ اسکول، کالجز، دفتروں اور اداروں میں یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔ اچھی بات ہے منانا بھی چاہیے پر کیوں منایا جارہا ہے یہ کسی کو نہیں معلوم؟ شاید میٹرک کے امتحانات میں پاس ہونے کے لیے ہم نے مطالعہ پاکستان کے مضمون میں وہ قائد اعظم کے چودہ نکاتی سوال یا قرارداد پاکستان کے متعلق پڑھا تو ضرور ہوگا پر یاد نہیں کر سکے۔ بحیثیت قوم ہمارا کیا نظریہ تھا اور کن اصولوں کی بنیاد پر ہندوستان میں سے پاکستان کو نکال کر آزاد کرایا گیا وہ ہم جانتے ہی نہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم جاننا بھی نہیں چاہتے۔ ہم اصل میں لبرل ہونے کے بہانے حقائق سے فرار چاہتے ہیں۔ ہم نے خود تو نظریات پاکستان کو فراموش کردیا ہوا ہے اور ہم اس بات کے حق میں بھی نہیں کہ ہماری اولاد ہمارے ملکی ثقافت اور روایات کو نہ صرف جانے بلکہ ان کی بقا کے ضامن بھی بنے۔ ہم نے اپنا ایمان یہ بنا لیا ہے کہ جو جیسا چل رہا ہے چلنے دیا جائے اور کسی قسم کی رد بدل کی کوشش نہ کی جائے بلکہ جہاں اپنا فائدہ دکھے لے کر آ گے بڑھ جایا جائے چاہے نتیجے میں کسی کا بھلا ہو کہ نقصان ہماری بلا سے۔ یہ انفرادی سوچ ہی ہماری دشمن ہے۔ اس سوچ نے نہ صرف ہمارے اپنے گھروں کو تباہ کر ڈالا ہے بلکہ ہماری ملک و قوم کی نسلوں کو برباد کردیا ہے۔ ہر شخص اپنے فائدے کے لیے کسی کا لحاظ کرنے کو تیار ہی نہیں یہاں تک کہ ماں، باپ، بہن، بھائی سب دولت کے آگے پرائے ہیں۔ یہ وہ فتنہ ہے جو ہمارے رگوں میں شامل کیا جاتا رہا پر ہم نے ماڈرن بننے کے چکر میں خود کو اپنے ہاتھوں اس کا شکار بنا ڈالا۔

یہ ففتھ جنریشن جنگ کا دور ہے جہاں ہتھیاروں سے اپنے حریف کو شکست نہیں دی جائے گی بلکہ نظریات اور عقائد کو دیمک لگ جائے گی جس طرح دیمک کسی لکڑی کی دیوار کو اندر سے کھوکھلا کر ڈالتی ہے اور دیکھنے والا یہ ہی سمجھتا ہے کہ یہ دیوار خدوخال سے مضبوط ہے لیکن جب ہاتھ لگتا ہے تو وہ پہلی وار میں ہی بھس بن کر گر پڑ تی ہے۔ یہی حال ہمارا ہونے جارہا ہے۔ ہم سے ہماری پہچان چھینی جارہی ہے۔ ہم کو اتنے حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے کہ دشمن کو وار کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہم اپنی سوچ کے غلام ہونے کی حیثیت سے خود ہی ایک دوسرے کو بھبھوڑنے کو تیار ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ جن نظریات اور قرارداد کی بنیاد پر یہ ملک بنا تو مذہب ہی تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی پہچان کو سلامتی بخشی اور مساوات کی بنیاد پر ایک آزاد مسلم مملکت حاصل کیا۔ یہ وہ اسلامی ریاست ہے جہاں اسلام کے حکومتی ایجنڈے پر قرارداد پیش کی گئی۔ جب مسلمان ذہنی اور مالی پسماندگی کا شکار تھے تب ہمارے عظیم رہنماوں نے وقت کی باگ ڈور سنبھالی۔

تمام مسلمانوں کو یکجا کیا۔ ان کو یاد دلایا کہ وہ ایک اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں۔ غلامی کی طوق کو اتار پھینکا، حوصلہ دلایا اور باور کرایا کہ ہم وہ قوم ہیں جن کو اللہ نے پسند فرمایا اور اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔ یہ شعور اور طاقت دین اسلام نے ہم کو بخشا۔ ہم نے تمام فرقوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اسلام کی رسی کو پکڑا اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے یہ سبز ہلالی پرچم سر بلند کیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم خود کو جدید دور کا باسی ثابت کرنے کے غرض سے ملک کی سالمیت پر لبرل ہوکر تو بات کرنے کو تیار ہیں پر مسلمان ہوکر بات کرتے ہوئے ہم گھبراتے ہیں؟ آخر کیوں؟ کیا مذہب اسلام وہ نہیں جو کہ پاکستان کی پالیسوں کی بنیاد ہے؟ یا ہم نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کو بھی جدید کر ڈالا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مذہب اسلام آج بھی وہی ہے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو دے کر گئے ہیں۔ نہ ایک حرف آگے نہ ایک حرف پیچھے کچھ نہ بدلا ہے اور نہ بدل سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان جن اصول و ضوابط کی بنا پر حاصل کیا گیا نہ ہی اس میں رد و بدل ممکن ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور میڈیا پر گانے ناچ کے بجائے اپنی نسل کو بار بار اس ملک کے قیام کا مقصد یاد کرائیں۔ ان نکات پر بات کریں جن کی بنا پر ہم ایک ذمہ دار اور با مقصد قوم ہیں اور جن قرارداد کی وجہ پر پاکستان کو زمانہ قریب میں اسلام کا قلعہ بننا ہے اور اسلام کی حفاظت کرنی ہے۔

آئیے ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ ہم نے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا۔ ہم نے کسی فرقہ واریت کا شکار نہیں ہونا۔ ہم نے اپنے دین اور وطن کی حفاظت کرنی ہے۔ ہم نے اپنے آ نے والی نسل کو اس ملک کا محافظ بنانا ہے۔ ان کے تعلیم و تربیت کرنی ہے۔ اپنے منشور کو جاننا اور سمجھنا ہے۔ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی لاج رکھنی ہے۔ آج تجدید وفا کا دن ہے۔ 23 مارچ ہر پاکستانی کے لیے بہت اہم دن ہے کیونکہ اس دن آزاد مسلم مملکت کی بنیاد ڈالی گئی۔ آزاد ریاست کو نام دیا گیا اور تمام مسلمانان ہند کو یکجا کرکے ایک پرچم کے سائے تلے لا کھڑا کیا گیا۔ آج ہم بھی تجدید وفا کرتے ہیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر عہد کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کے قیام کے مقصد کو نہیں بھولے اور ہمیں آج بھی اپنا وعدہ یاد ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Facebook Comments