پھول کلیوں، چہکتے پرندوں، چاند تاروں، بہتے جھرنوں اور چمکتی کہکشاؤں اور قوس قزاح کے رنگوں سے بھی کہیں زیادہ پیارے بچو! ان واقعات کو غور سے پڑھو! 1943ء میں وائسرائے ہند نے قائداعظم ؒکو مذاکرات کے لیے دعوت دی۔ اِن مذاکرات کے درمیان میں ایک موقع پر وائسرائے نے کہا، ”اگر آپ یہ ضد چھوڑ دیں کہ پاکستان بننا چاہیے اور مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کیا جائے تو میں ہندوؤں کو قائل کر سکتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو بہت سی مراعات دیں“۔ قائداعظمؒ کی جیب میں ایک ریشمی رومال تھا جس پر ہندوستان کا نقشہ کڑھا ہوا تھا اور جس میں مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے یا صوبے سبز رنگ سے دکھائے گئے تھے۔ قائداعظمؒ نے وہ رومال وائسرائے کو دکھایا۔ اُس نے رومال دیکھ کر کہا، ”یہ کشیدہ کاری کا بہت عمدہ نمونہ ہے“۔

قائداعظمؒ نے کہا، ”یہ ایک بارہ سال کی لڑکی نے کاڑھا ہے جو پرانی طرز کے مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہے۔ اِس نے نہایت شوق سے یہ نقشہ اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بنا کر مجھے پیش کیا ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں لوگوں کو سکھاتا ہوں کہ پاکستان بننا چاہیے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال اَب بچوں کی رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔“

اسی طرح قائداعظمؒ کے سیکرٹری مطلوب حسین سید بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک لڑکے کو دیکھا جس کے سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ خون دیکھ کر رونے لگا۔ میں نے پوچھا تو کہنے لگا ”خون دیکھ کر اِس لیے رو رہا ہوں کہ یہ ضائع جا رہا ہے۔ کاش یہ پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد میں بہتا“۔مطلوب حسین سید کے بقول کہ جب میں نے اِس بات کا تذکرہ قائداعظمؒ سے کیا تو انہوں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا کہ ”جب قوم کے بچوں کا یہ جوش و خروش ہے تو کوئی طاقت پاکستان کو بننے سے نہیں روک سکتی“۔1940ء میں قائداعظم ؒدہلی سے لاہور تشریف لے جا رہے تھے۔ غازی آباد کے ریلوے اسٹیشن پر گاڑی رکی اور قائداعظمؒ نیچے اترے تو دیکھا کہ ایک دس برس کا بچہ پھولوں کا ہار لیے کھڑا ہے۔ دوسرے استقبالیوں کو چھوڑ کر قائداعظمؒ خود اس کی طرف بڑھے اور کافی جھک کر اسے اپنے گلے میں ہار ڈالنے کا موقع دیا۔ پھر آپ اس سے پوچھنے لگے۔ ”بیٹا تم یہاں کیوں آئے ہو؟“ بچے نے جواب دیا۔ ”آپ کو دیکھنے کے لیے۔“ قائداعظمؒ نے کہا، ”تم مجھے کیوں دیکھنے آئے ہو؟“ بچہ بولا، ”قوم کے لیے۔“ قائداعظم بچے کا یہ جواب سن کر بہت خوش ہوئے اور حاضرین کو مخاطب کر کے کہا۔ ”اب پاکستان ضرور بن کر رہے گا کیوں کہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں میں بھی اپنی قوم کا احساس پیدا ہو گیا ہے“۔

پیارے بچو! دیکھا آپ نے پاکستان کے قیام میں بچوں کا کیا کردار رہا؟ ایسا نہیں تھا کہ بچے کھیلتے کودتے رہے یا پھر ٹی وی پر کارٹون دیکھتے رہے اور بڑوں نے مل کر پاکستان بنا لیا۔ نہیں بلکہ بچوں کی ذہانت و محنت۔ ان کے والہانہ و مخلصانہ جذبے اور ان کے احساس و شعور نے قیام پاکستان کی راہیں آسان کیں۔ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الا اللہ کا نعرہ بچوں کی معصوم آوازوں سے ان فضاؤں میں گونجتا تھا۔

پیارے بچو! یہ وطن لا الہ الا اللہ کے نام پر قائم ہوا۔ اس کی بنیادوں میں صرف بڑوں کا نہیں معصوم شہید بچوں کا لہو بھی ہے۔ یہ جو خوشبو آج پاکستان کے گلاب اور موتیے میں ہے یہ اسی لہو کی خوشبو ہے۔ پیارے بچو! آپ بنی نوع انسان کا سرمایہ ہیں۔ آپ پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ پاکستان کا قیام اگر بچوں کے دم سے تھا تو پاکستان کا استحکام اور بقا بھی آپ کے دم سے ہے۔کیا آپ چاہیں گے کہ جس وطن کو آپ جیسے پھولوں نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا آپ وہ وطن کھیل کود اور کارٹون دیکھنے کی وجہ سے گنوا دیں؟نہیں ناں۔ تو آئیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔ ان بچوں کی منزل تھی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ آپ اپنا نصب العین بنا لیجیے پاکستان کا مقصد کیا لا الہ الا اللہ۔

Facebook Comments