کراچی، نرسری کے قریب مفتی تقی عثمانی کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں گارڈ جاں بحق ہوگیا تاہم مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے۔  ذرائع  کے مطابق کراچی میں آدھے گھنٹے کے دوران فائرنگ کے 2 واقعات میں 2 افراد جاں بحق جب کہ 2 زخمی ہوگئے، پہلا فائرنگ کا واقعہ نیپا پل کے قریب پیش آیا جہاں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کراچی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

فائرنگ کا دوسرا واقعہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کراچی کی ہی گاڑی کو نشانا بنایا جس میں مفتی تقی عثمانی سوار تھے، فائرنگ کے نتیجے میں ان کا گارڈ جاں بحق ہوگیا تاہم مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے۔ ترجمان دارالعلوم کراچی کا کہنا ہے کہ نرسری والی گاڑی میں مفتی تقی عثمانی سوار تھے تاہم مفتی تقی عثمانی صاحب خیریت سے ہیں۔

ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت عامر اور صنوبر خان کے نام سے ہوئی ہے جب کہ جن گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی وہ گاڑی دارالعلوم کراچی کی ہے، واقعہ میں نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا گیا جب کہ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے 9 خول برآمد ہوئے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر میں فائرنگ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کو شہر کی سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت کردی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے مساجد کی سیکورٹی بھی سخت کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فائرنگ کے واقعتا کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات کی ہے۔

Facebook Comments