نصف رات بیت چکی تھی کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائی سب سو رہے تھے۔ ہلکے خراٹے لیتا اس کا شوہر اور معصوم سی شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کا دس سالہ بیٹا احمد۔ اس نے شفقت سے احمد کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ساتھ والے کمرے سے اس کی ساس کے کھانسے کی آواز آرہی تھی۔ کتنا ناجائز غصہ کیا تھا انہوں نے سارا دن۔ بات بے بات شروع ہو جاتی ہیں۔ اس نے تلخی سے سوچا۔
اسی روز و شب میں الجھ کے نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

اس کے دل کے نہاں خانوں میں کہیں سرگوشی ہوئی۔ یکدم طبیعت بہت مضطرب ہو گئی تھی۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ بد دلی سے بستر سے اٹھ گئی۔ بے آواز قدموں سے دھیرے دھیرے چلتی وہ باہر چمن میں آگئی۔ ہلکی ہلکی سردی تھی۔ اس نے چادر کندھوں کے گرد لپیٹی۔ آسمان ستاروں سے جھلملا رہا تھا۔ رات کی رانی کی مہک مسحور کن تھی۔ وہ چمن میں ایستادہ جھولے پر بیٹھ گئی۔ گاو¿ تکیے سے ٹیک لگائے اس نے آنکھیں موند لیں۔ جھولا ہولے ہولے حرکت کرنے لگا تھا۔ امی امی 23 مارچ کو کیا ہوا تھا؟ احمد نے صبح سویرے اس سے پو چھا تھا۔
23

مارچ کو۔ تیزی سے پراٹھے بناتے ہوئے وہ اسے بتانے لگی تھی، ”برصغیر کے مسلمان قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے سینکڑوں سال جدوجہد کی تھی۔ لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی۔23 مارچ 1940 کا دن انہی سینکڑوں سالوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر تھا۔ اس دن برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے قرارداد پاکستان کی صورت میں ایک آزاد اور خود مختار وطن کا مطالبہ کیا۔ اسے اپنی منزل قرار دیا“۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 23 مارچ کے اپنے خطاب میں فرمایا تھا، ”ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر ہم آزاد قوم بن کر اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن و امان کی زندگی بسر کریں۔ ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی، تمدنی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو و نما بخشے“۔ ناشتے کے دوران بھی وہ اسے بتاتی رہی۔

احمد بیٹے! یہ ہی بات قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری سانسوں میں بھی دہرائی۔ اپنے ذاتی معالجین ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور ڈاکٹر کرنل الہی بخش سے آپ نے کہا تھا، ”تم جانتے ہو جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا کبھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرا ایمان ہے کہ رسول خدا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب پاکستانیوں کا فرض ہے کہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے“۔ ”جب ہی تو آج ہم آزاد ہیں اور اپنی مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں“، احمد نے اس کی بات سن کر کہا تھا۔
کتنا رولا ڈالے گا
پشاور ظلمی

ناشتے کے بعد اپنا گیند اور بلا لیے پی ایس ایل کے نشے میں جھومتا وہ قریبی میدان میں کرکٹ کھیلنے چلا گیا تھا۔ اپنی مرضی کی زندگی۔ احمد کا بھولپن میں بولا گیا جملہ اسے جھنجھوڑ گیا تھا۔ اپنی مرضی کی زندگی یا اللہ کی مرضی کی زندگی؟نہیں نہیں، اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا خواب شاید ان جاگیرداروں اور وڈیروں کا تو ضرور تھا جو پنڈت نہرو کے ہندوستان میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے اعلان بعد مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ جنہوں نے ہر ہر مقام پر پاکستان کی اسلامی جمہوریہ کی نظریاتی ساخت کو نقصان پہنچایا تھا اور پہنچا رہے ہیں لیکن یہ اپنی مرضی کی زندگی گزارانے کا خواب مخلص اور ان تھک لیڈروں کا نہیں تھا مفلوک حال مظلوم مسلمانوں کا نہیں تھا۔ جب ھی تو قائد ملت خان لیاقت علی خان اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی مخلصانہ و جرات مندانہ کوششوں سے 12 مارچ 1949 کو قرار داد مقاصد منظور کی گئی تھی۔ واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان میں قومی زندگی کی بنیاد کیا ہوگی۔

قائد ملت کے الفاظ تھے، ”جمہور پاکستان کی نمائندہ یہ مجلس دستور ساز فیصلہ کرتی ہے، کہ آزاد اور خود مختار مملکت پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کیا جائے۔ جس میں اصول جمہوریت و حریت، مساوات و رواداری اور سماجی عدل کو، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پورے طور پر ملحوظ رکھا جائے۔ جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسول میں متعین ہیں، ترتیب دے سکیں۔ جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے مذہبوں پر عقیدہ رکھ سکیں، ان پر عمل کر سکیںاور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں“۔

وہ پولٹیکل سائنس کی طالبہ رہی تھی۔ قرار داد مقاصد کو سمجھتے اور یاد کرتے ہوئے اس کا دل جوش سے بھر جایا کرتا تھا۔ میں پاکستان پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دوں گی وہ عزم سے کہا کرتی تھی اور اس کی سہلیاں اس کی باتوں پر ہنس دیا کرتیں۔ وہ صبح احمد کو 23 مارچ کی ایک اور حقیقت بھی بتانا چاہتی تھی لیکن پھر گھر کے کاموں اور دیگر گھریلو سیاستوں میں الجھ کر وہ بالکل بھول ہی تو گئی تھی۔ ہاں میں صبح احمد کو ضرور بتاوں گی۔ 1956 کو وزیراعظم چوہدری محمد علی نے پاکستان کو نیا آئین دیا۔ 23 مارچ کو چونکہ یہ نیا آئین نافذ ہوا تھا اس لیے اسے یوم جمہوریہ قرار دیا گیا۔ سرکاری تعطیل کا اعلان ہوا۔ جشن منایا گیا اور یوں دنیائے عالم میں سب سے پہلے، پہلی بار پاکستان نے اپنے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کا لفظ استعمال کیا۔

بعد ازاں موریتانیہ، ایران اور افغانستان نے بھی اپنے اپنے ممالک کے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کا لفظ لگایا لیکن کیا ”اسلامی جمہوریہ“ صرف ایک لفظ ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔  نہیں۔ یہ لفظ تو اپنے اندر قائد اعظم کی ان سینکڑوں تقاریر کا مفہوم سموئے ہوئے ہے جن میں آپ نے تکرار سے کہا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ قرآن حکیم ہی ہمارا آئین اور راہ نما ہے، ہمارا رول ماڈل اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

گیارہ اگست 1947 کی تقریر بھی اسلامی نظام حکومت ہی کی ایک اور خوبصورت پہلو کی جانب توجہ دلاتی ہے۔ آپ کا پیغام تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے کیونکہ اسلامی ریاست تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتی ہے۔ اسلامی ریاست کے حوالے سے میثاق مدینہ ہمارا رول ماڈل ہے جس کے تحت بلا امتیاز مذہب تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دئیے گئے تھے لیکن اس نے دکھ سے سوچا اکتوبر 1958 میں مارشل لاءلگا دیا گیا۔ 23 مارچ 1959 میں مارشل لا حکومت نے تاریخی مماثلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ”یوم جمہوریہ کو یوم پاکستان سے بدل ڈالا“۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ اسے لگا وہ ایک اخباری نمائندے کی حیثیت سے 2 جنوری 1948ءکو کراچی میں اپنے قائد کے روبرو کھڑی ہے اور وہ سب اخباری نمائندوں سے نہیں خاص اس سے مخاطب ہیں۔ وہ فرما رہے تھے، ”اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے“۔ وہخواب کی سی کیفیت میں دہرانے لگی تھی۔

قرآنی احکام و اصول کی حکومت، یہ خواب تھا ہمارے قائد کا، یہ آرزو تھی ان کی جس کے لیے انہوں نے برطانیہ میں عیش و آرام کی زندگی کو ٹھوکر مار کر ہندوستان میں مجاہدانہ زندگی اختیار کی اور ہاں اس نے جیسے خود کو یاد دلایا۔21 مارچ 1948 کو قائد نے فرمایا تھا، ”میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے جہاں ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھنچ جائے۔ خدا میری اس آرزو کو پورا کرے“۔ آمین

کتنا جامع اور واضح نصب العین تھا پاکستان کا لیکن، لیکن ان ظالم وڈیروں اور جاگیرداروں نے، ان لالچی اور جاہل سیاستدانوں نے، اس بدعنوان افسر شاہی نے 70 سالوں کی طویل مسافت میں بھی اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ غم و غصے اور بے بسی نے ا±سے آلیا۔ وہ شدت غم سے اپنے ہونٹ کاٹنے لگی تھی لیکن میں، میں جو حب الوطنی کے بہت سے دعوے کرتی ہوں۔ میرے جو زمانہ طالب علمی میں وطن سے محبت اور خدمت کے بہت سے خواب تھے وہ کہاں گئے۔ ان کی تعبیر کیوں دھندلا گئی۔ میں کیوں ایک سطحی زندگی جینے لگی۔ وہ اب خود احتسابی کے مرحلے سے گزرنے لگی تھی۔
میری آرزو، میری خواہش کیا ہوئی؟ میرا عمل، میری جدوجہد کہاں ہے؟ قائد اور ان کے ساتھیوں نے تو اپنی خواہش کی تکمیل اپنے عمل و جدوجہد سے کی تھی۔ میرا عمل، میری جدو جہد کہاں ہے؟جھولا ساکت ہو گیا تھا۔ وہ بے قرار و بے چین سی سرخ اینٹوں کی روش پر چلنے لگی تھی۔ ستاروں سے جھلملاتا آسمان۔ اس نے نگاہ اوپر اٹھائی۔ یا اللہ! میں کیا کروں؟ حضرت ام سلیم (رضی) نے حضرت انس کو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وقف کر دیا تھا۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنھا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، دو بابرکت، قابل تقلید نام ذہن و دل میں جگمگاکر ہلچل مچا گئے تھے۔

اس کا دل چاہا وہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں پہنچ جائے۔ مکمل شعور اور آگہی کے ساتھ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لے۔ احمد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدموں میں بٹھا دے آپ کی خدمت کے لیے وقف کر دے۔ لیکن میں اور احمد۔ حضرت ام سلیمؓ اور حضرت انس بن مالکؓ کے قدموں کی خاک کے خاک کے برابر بھی نہیں۔ وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔ الہی میں کیا کروں؟ حضرت ام سلیمؓ صبر و وفا کا پیکر تھیں۔ رات کی رانی کے پھول سرگو شیاں کرنے لگے تھے۔ وہ حضرت انس کو لا الہ الا اللہ پڑھاتی تھیں۔ تم احمد کو لا الہ الا اللہ پڑھاو۔ تم اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع ہونے سے بچا لو۔ غیبتوں سے دامن چھڑا لو، گھریلو سیاست سے کنارہ کش ہو جاو۔ تم حضرت ام سلیم کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش تو کرو۔ اللہ تعالی احمد کو بھی شرف قبولیت بخش دیں گے۔ احمد کو ترجمہ و تفسیر سے قرآن پڑھاو¿۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھاو۔ اسوہ حسنہ پر عمل سکھاو۔

آسمان سے برسنے والی شبنم بھی پھولوں کی سرگوشیوں میں شامل ہو گئی تھی۔ قبولیت کی گھڑیوں میں اس کا دل دامن بن کر بارگاہ الہی میں پھیلا تھا۔ آنسو بن کر بہہ رہا تھا۔ الہی مجھے، صحابیہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے دے۔ آمین ”اپنا فرض بجا لاتے رہو اور خدا پر بھروسہ رکھو! دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔ یہ ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے“۔ 30 اکتوبر 1947قائداعظم کا فرمان پاکستان کی فضاوں میں ہر لمحہ گونج رہا تھا

Facebook Comments