بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی ملک میں ایک گاو¿ں تھا جس میں دو بھائی رہا کرتے تھے۔ ایک بھائی کا نام تھا جمال اور دوسرے بھائی کا نام تھا اقبال۔ جمال جو کہ اقبال سے بڑا تھا، ایک لالچی، خودغرض اور بے ایمان آدمی تھا جب کہ اس کا چھوٹا بھائی اقبال نہایت شریف اور نیک دل انسان تھا۔ ان کے ماں باپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ جمال یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اقبال اور اس کی بیوی کو گھر سے نکال کر ماں باپ کی دولت اور دوسری چیزوں پر اکیلا ہی قبضہ کرلے۔

ایک روز وہ کسی معمولی بات پر اپنے چھوٹے بھائی سے لڑ پڑا اور اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ گھر سے نکل جائے۔ اقبال بے چارہ اپنی بیوی کو لے کر ایک دوسرے گھر میں رہنے لگا۔ جمال نے باپ کی چھوڑی ہوئی چیزوں میں سے تمام قیمتی چیزیں اپنے پاس رکھ لی تھیں اور بے کار قسم کا کاٹھ کباڑ اقبال کے حوالے کردیا تھا۔ اس طرح جمال تو کافی دولت مند ہو گیا مگر اقبال غریب کا غریب ہی رہا۔ اس نے اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری شروع کردی۔ اس محنت مزدوری سے اس کو بس اتنے ہی پیسے ملتے تھے جن سے بمشکل دو وقت کی روٹی مل جاتی تھی۔

ایک دفعہ اقبال کی بیوی سخت بیمار ہو گئی، بیوی کی بیماری کی وجہ سے اقبال کام پر بھی نہ جاسکا۔ اس کی بیوی کو دوائی کی ضرورت تھی مگر اقبال کے پاس اتنے پیسے ہی نہ تھے کہ جن سے دوائی آسکتی۔ وہ بہت پریشان ہوگیا، اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ آخر کار اسی پریشانی میں اسے یاد آیا کہ ان کے گھر پیچھے ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے، وہاں ایک پرانا ٹنڈ منڈ درخت ہے، جس میں نہ پھل لگتے ہیں اور نہ پتے۔ اس نے سوچا کہ وہ اس درخت کو کاٹ کر اس کی لکڑیاں فروخت کردے گا، اس سے جو پیسے ملیں گے ان سے بیوی کی دوائی آجاے گی۔

اس نے اپنی کلہاڑی اٹھائی اور پہاڑی والے درخت کی طرف چل دیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے درخت کو کاٹنے کے لیے کلہاڑی اٹھائی ہی تھی کہ اس کے کانوں میں ایک مہین سی آواز آئی، ”خدا کے لیے اس درخت کو مت کاٹو“۔اقبال ایک لمحے کو تو حیران رہ گیا، اس نے چاروں طرف دیکھا کہ یہ آواز کہاں سے آئی ہے، اچانک اس کی نظر درخت پر بیٹھی ہوئی ایک نہایت خوبصورت اور رنگ برنگی چڑیا پر پڑی۔ اس چڑیا نے پھر کہا، ”اس درخت پر میرا گھونسلہ ہے اور اس گھونسلے میں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم یہ درخت کاٹ دو گے تو میرے بچے بھی گھونسلے سمیت زمین پر گر پڑیں گے۔ مجھ پر رحم کھاو¿ اس کے بدلے میں تم کو اتنی دولت دوںگی کہ تم ساری زندگی چین اور سکون سے بسر کرو گے۔ تم ایک تھیلا لے کر میرے ساتھ چلو“۔

اقبال کلہاڑی کو وہیں پھینک کر گھر آیا۔ اس نے ایک تھیلا لیا اور دوبارہ اس خوبصورت چڑیا کے پاس آیا۔ چڑیا نے اس کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور ایک سمت اڑنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں گھنے درختوں سے گزر کر ایک غار کے دھانے پر آگئے۔ خوبصورت چڑیا بولی، ”تم اس غار میں داخل ہو کر جتنی دولت چاہو اس تھیلے میں بھر لو“۔

اقبال غار میں داخل ہو گیا۔ جیسے ہی اس نے غار میں قدم رکھا اس کی آنکھیں حیرت کی وجہ سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس نے دیکھا وہاں چاروں طرف سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے ہیں۔ ان سونے چاندی کے ڈھیروں میں بڑے بڑے ہیرے موتی بھی موجود ہیں جن کی جگمگاہٹ سے پورا غار منور ہو رہا ہے۔ اس نے جلدی جلدی ان کو اپنے تھیلے میں بھرنا شروع کردیا۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس کے کانوں میں چڑیا کی آواز آئی، وہ کہہ رہی تھی، ”جلدی کرو، جلدی کرو۔ فوراً غار سے باہر آجاو¿ ورنہ اس کا منہ بند ہو جائے گا“۔

یہ سنتے ہی اقبال نے اپنے تھیلے کو مضبوطی سے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور بھاگ کر غار سے نکل آیا۔ اس کے باہر نکلتے ہی غار کا پتھر کا دروازہ پر زور آواز کے ساتھ بند ہوگیا۔ اقبال کا تھیلا اگرچہ پوری طرح نہیں بھر سکا تھا مگر اس میں اتنی دولت آ گئی تھی کہ وہ پوری زندگی بھی اس کو خرچ کرتا تو تب بھی ختم نہ ہوتی۔

وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا، اس نے چڑیا کا شکریہ ادا کیا اور گھر کی جانب چل دیا۔ اس کی بیوی نے جب اتنی ساری دولت دیکھی تو وہ مارے خوشی کے اسی وقت بھلی چنگی ہوگئی۔ دونوں میاں بیوی اس دولت کو خرچ کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔

خدا نے ان کے دن پھیر دیے تھے۔ اقبال نے اپنے رہنے کے لیے ایک بڑا سا گھر بنوایا اور اس میں اپنی بیوی کے ساتھ بڑے ٹھاٹ سے رہنے لگا۔ اس کا بڑا بھائی جمال بہت حیران تھا کہ اقبال یکایک اتنا دولت مند کیسے ہوگیا ہے۔ ایک روز وہ اس کے گھر جا پہنچا۔ اقبال نے بڑے بھائی کو دیکھا تو فوراً ہی تمام پچھلی باتوں کو فراموش کردیا اور جمال کی خوب آو¿ بھگت کی۔ باتوں باتوں میں اس کے چالاک بھائی نے اس کے دولت مند بن جانے کا راز معلوم کرلیا۔ اقبال نے اس کو تمام باتیں بتادیں کہ وہ کس طرح درخت کاٹنے گیا، وہاں پر اس کی ملاقات ایک خوبصورت رنگ برنگی چڑیا سے ہوئی جو اس کو جادو کے غار پر لے گئی جہاں سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کے ڈھیر تھے۔

اقبال کی کہانی سنتے ہی جمال فوراً اپنے گھر گیا، وہاں سے اس نے کلہاڑی لی اور ایک بہت بڑا تھیلا بھی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ بھی اقبال کی طرح درخت کاٹنے جائے گا، پھر جب وہ چڑیا اس کو دولت سے بھرے غار میں لے کر جائے گی تو وہ تھیلے کو سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے لبا لب بھر لے گا اور اقبال سے زیادہ دولت مند بن جائے گا۔ جمال اس درخت کے قریب پہنچا اور چور نظروں سے خوبصورت چڑیا کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا مگر یہ دیکھ کر اس کو شدید مایوسی ہوئی کہ وہ چڑیا اقبال کی بتائی ہوئی شاخ پر موجود نہیں تھی، اس نے غصے میں آکر درخت پر کلہاڑی دے ماری جس سے پورا درخت لرز گیا۔ اچانک جمال کے کانوں میں ایک گھبرائی ہوئی باریک سی آواز آئی، ”خدا کے لیے اس درخت کو مت کاٹو“۔

جمال نے دیکھا وہ حسین و جمیل چڑیا اپنے گھونسلے سے پھڑپھڑا کر نکلی تھی، اس کے تین بچے خوفزدہ ہو کر گھونسلے سے باہر جھانکنے لگے تھے۔ جمال نہ صرف خودغرض اور لالچی تھا بلکہ جلد باز بھی تھا۔ اس نے یہ بھی گوارہ نہ کیا کہ وہ چڑیا کی پوری بات ہی سن لیتا۔ وہ کڑک کر بولا، ”اگر تم مجھے اسی وقت اس غار تک نہیں لے گئیں جس میں سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کے ڈھیر ہیں تو میں اس درخت کو کاٹ دوں گا اور تمہارے بچے نیچے گر کر مر جائیں گے“۔

چڑیا جو بے چاری بری طرح ڈر گئی تھی جلدی سے بولی، ”تم گھر سے تھیلا لے آوپھر میں تم کو اس غار تک لے چلوں گی“۔ جمال بولا، ”تھیلا میرے پاس ہے، تم مجھے غار تک پہنچا دو“۔ چڑیا جمال کو اسی طرح غار تک لائی جس طرح اقبال کو لائی تھی۔ جمال نے جو غار میں اتنی دولت دیکھی تو وہ دیوانوں کی طرح اسے اپنے تھیلے میں بھرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اس کے کانوں میں چڑیا کی آواز آئی، وہ کہہ رہی تھی، ”جلدی کرو، غار سے باہر آجاوورنہ غار کا منہ بند ہو جائے گا“۔

مگر جمال نے چڑیا کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا وہ اپنے تھیلے کو بھرتا رہا۔ اس لالچی انسان کا دل غار سے باہر نکلنے کو چاہ ہی نہیں رہا تھا۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح سے اس کا تھیلا سونے چاندی اور ہیروں سے لبالب بھر جائے۔ چڑیا نے جب دیکھا کہ جمال اس کی بات پر دھیان نہیں دے رہا ہے تو وہ پھر چیخی، ”او بیوقوف اور لالچی انسان! جلدی کر ورنہ اس غار کا دہانہ بند ہوگیا تو یہیں سسک سسک کر مر جائے گا“۔ چڑیا کی بات ختم ہوئی ہی تھی کہ غار کا دہانہ دھیرے دھیرے بند ہونے لگا۔ اب جمال کو ہوش آیا۔ اس نے اپنے بڑے تھیلے کو بھر تو لیا تھا مگر اب جب اس نے اس کو اٹھانے کی کوشش کی تو اس سے بڑی مشکلوں سے اٹھایا گیا۔ اس کو اٹھا کر جب وہ غار کے دھانے پر پہنچا تو اس میں اب صرف اتنی جگہ تھی کہ صرف وہ ہی باہر آسکتا تھا۔ وہ پھرتی سے باہر نکل آیا۔ تھیلا اندر ہی تھا، اس نے چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر تھیلے کو باہر گھسیٹ لے مگر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ جمال کو اپنے لالچ کی سزا مل گئی تھی۔ اس کو خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا۔

Facebook Comments