کل میں نجمہ کے گھر گئی تھی۔ ایسی چاق و چوبند لڑکی ہے۔ پورا گھر اس نے سنبھالا ہوا ہے، نفیسہ بیگم اپنے تخت پہ براجمان مسلسل بڑابڑا رہی تھیں۔ مگر ان کی آواز کا والیوم اتنا ضرور تھا کہ گھن چکر بنی صاعقہ کے کانوں میں پہنچ جائے۔ ”ارے میں کہتی ہوں اس کے ساتھ کوئی ہاتھ بٹانے والا بھی نہیں ہے۔ پورا گھر اس لڑکی نے سنبھالا ہوا ہے“۔ وہی پسندیدہ جملہ دہرایا گیا جو وہ جب بھی نجمہ کے گھر سے ہو کر آتی تھی مسلسل دہراتی رہتی تھیں۔

چم چم کرتا گھر اور نفاست سے رکھی گھر کی ہر چیز اور ہاتھ میں ذائقہ اتنا کہ بندہ انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔ پانچ سالہ بینش اور چار سالہ طیبہ کو جلدی جلدی اسکول کے لیے تیار کرتی صاعقہ نے بہت ضبط سے سب سنا اور ایک نظر تین ماہ کے دانش پہ ڈالی جو سکون سے سویا ہوا تھا۔ اس نے شکر ادا کیا اگر اس وقت وہ بھی اٹھا ہوتا تو، اس نے خوف سے آنکھیں میچیں۔”میرے جوتے کہاں ہیں؟ کیا مجال ہے جو میری چیزیں مجھے ٹھکانے پہ مل جائیں۔ لوگوں کی گھروں کی عورتیں دیکھو کتنا کام کرتی ہیں اور ایک تم ہو شوہر کے جوتوں تک کا پتا نہیں اور موزے کتنی مشکل سے ڈھونڈے ہیں میں نے“، اس کا شوہر جمیل احمد کمرے کے دروازے پہ کھڑا دھاڑ رہا تھا۔ اس کی بلند آواز پہ دانش بھی اٹھ گیا تھا اور نہ صرف اٹھ گیا بلکہ اٹھتے ہی حلق کے بل چلانا شروع کر دیا۔”آپ دانش کو سنبھالیں میں آپ کے جوتے ڈھونڈ کر ابھی لاتی ہوں“، اس نے منت بھری نظروں سے جمیل احمد کو دیکھا اور بچیوں کے بیگ کی زپ بند کرتی دوسرے کمرے میں جوتے ڈھونڈنے جانے لگی۔

ہونہہ! ایک بچہ تک نہیں سنبھالا جاتا اس عورت سے۔ ایسی پھوہڑ عورت۔ سوچا تھا شادی کے بعد زندگی میں کچھ سکون آجائے گا مگر، جمیل نے جلتے بھنتے دانش کو گود میں لیا اور چپ کروانے کی کوشش کرتے ہوئے صاعقہ کو مسلسل کوسنا جاری رکھا۔ اتنی بلند آوازتھی کہ دوسرے کمرے تک اس کی آواز نے صاعقہ کا پیچھا کیا تھا۔ تین ماہ کا دانش بھی اس قدر سخت آواز پہ بوکھلا کر مزید اونچا رونے لگا۔ ”کیا مصیبت ہے؟“، جمیل احمد کو دانش کے رونے نے مزید کوفت میں مبتلا کردیا تھا۔ ”یہ لیں آپ کے جوتے“، صاعقہ کمرے کے دروازے پہ نمودار ہوئی۔لو سنبھالو اسے، دانش کو اس کی گود میں پٹختا اس کے ہاتھ سے جوتے لے کر وہ دوسرے کمرے کی طرف چل دیا جب کہ صاعقہ نے ایک نظر پہلے سے بھی زیادہ روتے دانش کی طرف دیکھا۔ بمشکل اسے سنبھالتے اس کا فیڈر تیار کیا اور اسے دوبارہ سلانے کی کوشش کرنے لگی۔

”امی! ابو کہہ رہے ہیں کہ آکر دروازے کی کنڈی لگا لیں“، بینش نے کمرے میں آکر اسے اپنے باپ کا پیغام پہنچایا۔ ”بیٹا آپ ابھی ایسے ہی دروازہ بند کر کے چلی جاو¿۔ دانش سوتا ہے تو میں کنڈی لگا لو گی“۔اچھا ماما، کبھی کبھی لاڈ میں وہ صاعقہ کو ماما کہہ دیتی اور کبھی امی کہہ کر ہی کام چلا لیتی تھی۔ ”ماما کہہ رہی ہیں کہ تم لوگ جاو۔ دانش سوئے گا تو میں کنڈی لگا لوں گی“، بینشنے ماں کی کہی بات باپ کے گوش گزار کردی۔ جواباً وہ دھاڑ سے دروازہ بند کرتا بچیوں کو لے کر چلا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی صاعقہ کو لگا کہ کوئی طوفان تھم گیا ہو۔ اب ہر طرف گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ تھوڑا سکون ہوا تو دانش بھی سو گیا۔ اس نے ایک نظر کمرے کی حالت پہ ڈالی۔ بینش کے کپڑے، دانش کے کھلونے غرض پورا کمرہ پھیلا پڑا تھا۔ بچوں کے کمرے سے نکل کر وہ ساتھ والے کمرے میں گئی۔ جو اس کا جمیل احمد کا مشترکہ کمرہ تھا۔

بیڈ پہ جمیل احمد کے سارے کپڑے بکھرے پڑے تھے اور الماری پوری خالی تھی۔ یہ اس کی پرانی عادت تھی کہ جب بھی کوئی چیز درکار ہوتی تو وہ پوری الماریاں اور درازوں کی ہر چیز بیڈ پہ پھیلا دیتا (حالانکہ الماری میں کپڑے انتہائی نفاست سے رکھے ہوتے تھے) پھر مطلوبہ چیز نکالتا اور چلتا بنتا تھا مگر صاعقہ اس سب کا ان چھ سالوں میں اتنا عادی ہوگئی تھی کہ اب اسے اتنا غصہ نہیں آتا تھا ہاں مگر شادی کے اولین دنوں میں بہت آتا تھا۔ شروع شروع میں اس نے کوشش کی کہ جمیل احمد کی بہت سی بری عادتوں کو چھڑاسکے مگر ایک بار جب نفیسہ بیگم نے اس کی بیوی کے لیے ایسی فرمانبرداری دیکھی تو ایسے لتے لیے کہ وہ دن اور آج کا دن کبھی دوبارہ جمیل نے بیوی کی بات پہ کان دھرنے کی ہمت نہ کی۔

”ارے بیٹی دانش سو گیا ہے تو اب ہمیں بھی ناشتہ دے دو“، اس کے پیچھے کھڑی نفیسہ بیگم کی آواز نے اسے ماضی سے حال میں واپس دھکیلا۔ ”صبح سے یہ وقت آجاتا ہے اور اب جا کہ ناشتہ نصیب ہوتا ہے“، نفیسہ بیگم نے دہائی دی۔اور مجھے تو نجانے کب نصیب ہوگا، اس نے محض دل میں سوچا اور جی اماں کہتی کچن کا رخ کیا۔ کچن میں قدم رکھتے ہی گندے برتنوں کا ڈھیر اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ مگر وہ ڈھیر کو نظر انداز کرتی نیچے زمین پہ رکھے چولہے کے پاس رکھی لکڑی کی چھوٹی سی چوکی گھسیٹ کر بیٹھ گئی اور اماں کے لیے روٹی بنانے لگی۔ نفیسہ بیگم بھی دوسری چوکی گھسیٹ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔

ارے صاعقہ گھر کی ایک ایک چیز شیشے کی طرح لشکارے مار رہی تھی۔ دوبارہ نجمہ نامہ شروع ہوا۔ اماں دوپہر کو کیا بناوں؟ توے سے گرم گرم روٹی اتارتے ہوئے اس نے موضوع تبدیل کرنے کی غرض سے پوچھا تھا۔ ارے بہو! آج مرغی کا سالن کھانے کو بہت دل کر رہا تھا۔ مگر تم رہنے دینا میں خود ہی بنا لوں گی۔ جی اماں۔ اچھا میں کیا کہہ رہی تھی کہ نجمہ نے پورا گھر اکیلے سنبھالا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ چار سال کی ایک بیٹی ہے جو سکول چلی جاتی ہے اور اس بچی کی بھی تربیت ایسی کہ کیا مجال ہے جو ذرا سی چیز بھی ادھر کی ادھر رکھ دے۔

صاعقہ کو یاد آیا کہ جب اس نے بینش کو سکھانے کی کوشش کی تو تھوڑی سختی بھی کرنا پڑی پھر اماں نے اتنا واویلا مچایا تھا اور اس دن سے اس پر بچوں کو کچھ بھی کہنا ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر وہ اس میں سے کوئی بھی بات اپنے منہ سے انہیں نہ کہہ سکتی تھی کیونکہ اپنی حمایت میں منہ سے نکلا کوئی بھی لفظ اتنا فساد برپا کرتا کہ اپنی ساس کی زبانی محلے، سسرال، میکے غرض ہر جگہ ذلیل و رسوا کر دیتا۔ لہذا ان کی ہر بات کا جواب دل ہی دل میں دیتی خاموشی سے سر جھکائے ناشتہ بناتی رہی۔

صاعقہ! چھوڑ دے سب کام ہوتے رہیں گے، اماں کی کچن سے چیخنے کی آواز آئی۔ ”جی اماں بس آرہی ہوں“، وہ ابھی صرف بچوں کے کمرے کا پھیلاوا ہی سمیٹ پائی تھی اب جھاڑو دے رہی تھی۔ میں نے کہا کہ فوراً پہنچ پھر بس آرہی ہوں کیا ہوتا ہے؟“ دس سیکنڈ بعد ان کی غیض و غضب میں ڈوبی آواز دوبارہ سنائی دی۔ جی اماں کہہ کر وہ بمشکل جھاڑو پوریکرتی کچن میں داخل ہوئی۔ یہ آلو اور پیاز کاٹ پکوڑوں کے لیے۔ صاعقہ جلدی جلدی آلو اور پیاز کاٹنے لگی جب کہ وہ بیسن گھولنے لگیں۔ اپنی مرضی کے مطابق نمک، مرچ ڈلوا کر انہوں نے کڑی چڑھوائی اور صاعقہ کو پکوڑے تلنے کا حکم دیتیں خود نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے چل دیں۔

صاعقہ کو ان کا پہلی بار میں کڑی خود بناوں گی والا جملہ یاد تھا اس لیے وہ جب بھی کہتیں کہ آج کھانا خود بناوں گی تو اس کا مطلب ہوتا پہلے سے بھی زیادہ خواری ہونے والی ہے۔ ”ارے ایک تو اتنی دیر سے آئی ہے اور اب بھی نجانے کیا کیا کھڑی سوچے جارہی ہے“، ساس کی کڑک دار آواز نے اسے ماضی کے جھروکوں سے باہر آنے پہ مجبور کیا۔

جی اماں بتائیں۔ ”ارے اب بتانا کیا ہے جلدی جلدی یہ ذرا لہسن اور ادرک چھیل کے پیس اور پیاز کاٹ کر براون کر اور یہ باقی چیزوں کو بھی (دھنیہ، ٹماٹر اور ہری مرچوں کی طرف اشارہ کیا گیا) کاٹ۔ میں ذرا سامنے دکان سے دہی لے آوں۔ وہ حکم صادر کرتی چادر اوڑھے باہر نکل گئیں اور سن چکن بھی دھو کر رکھنا“، دروازہ بند کرتے ہوئے ہانک لگائی۔

جب کہ صاعقہ نے ایک نظر گندے برتنوں کے لگے ڈھیر اور پھیلے ہوئے گھر کو دیکھتی کاموں میں مشغول ہو گئی۔کن اکھیوں سے دانش کو دیکھا جو اس وقت اپنے سامنے ڈانس کرتی بطخ کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔ شاید اس نے بھی ماں پر ترس کھا کر اس کی کم یا بی پر صبر کرلیا تھا۔ سارا کام مکمل کرتی یہ سوچ کر کہ جب تک اماں نہیں آتیں وہ اپنا کمرہ سمیٹ لے گی کچن سے باہر نکلی کہ اماں دہی کا شاپر ہاتھ میں تھامے دروازہ بند کرتی نظر آئیں۔ وہ محض ٹھنڈی آہ بھر کہ رہ گئی۔ ہاں ہو گیا سب کام؟ ”جی اماں“، اس نے تابعداری سے سر ہلایا۔

یہ گوشت بھون اچھی طرح مصالحے میں۔ وہ اپنی نگرانی میں اس سے اپنی مرضی کے مطابق مصالحے ڈلوا کر سالن بنوا رہی تھیں۔ باہر سے دانش کے رونے کی آواز آنے لگی۔ شاید اب اسے بھی بھوک ستانے لگی تھی۔صاعقہ نے ایک نظر باہر بھوک سے بلکتے دانش پہ ڈالی۔ یہ بچے کا فیڈر بنا کر دے مجھے اور ذرا جلدی کام ختم کر کے اس کو سنبھال۔ تجھے پتا ہے اب ان بوڑھے ہاتھوں میں اتنا دم نہیں رہا کہ اسے سنبھال سکوں اور ہاں یہ بوٹیاں میں نے گن کے ڈالی ہیں۔ (معنی خیز نظروں سے اسے گھورتی، حکم صادر کرتی باہر چل پڑی تھیں)

چولہے کی آنچ بالکل دھیمی کرتی، جلدی جلدی فیڈر بنا کر وہ باہر کو لپکی۔ اگر یہ سالن میں نے بنانا ہوتا تو اب تک بن چکا ہوتا۔ اس نے خود کلامی کے انداز میں دل کی بھڑاس نکالی۔ آواز اس کے ہونٹوں سے نکل کر صرف اسے کے کانوں تک محدود رہی تھی۔ سن میری دو روٹیاں دینا ساتھ ہی اور پھر سالن کو دم لگا کر اسے سنبھالنے باہر آجانا۔ وہ فیڈر پکڑا کر پلٹی ہی تھی جب ان کا ایک اور حکم اس کے کانوں سے ٹکرایا۔ جلدی جلدی اماں کی دو روٹیاں ڈال کر سالن کو دم پہ لگایا اور خود برتن دھونے کھڑی ہو گئی کہ کہیں پانی نہ چلا جائے۔ صاعقہ! اب آ جا سنبھال دانش کو۔ وہ چند برتن ہی دھو پائی تھی کہ اماں نے کی آواز اس کے کانوسے ٹکرائی۔ وہ صابن لگے برتن وہی چھوڑتی باہر کو بھاگی۔

لے سنبھال، تخت پر اطمینان سے سوئے ہوئے دانش کو اٹھا کر اس کی گود میں پٹختی وہ کچن کی طرف بڑھ گئی تھیں۔ صاعقہ کو اسے باہر نکال کر خود کچن میں جانے کی اتنیجلدی کیوں تھی اسے سب پتا تھا اس لیے اسے قطعی حیرت نہ ہوئی البتہ دانش نے نیند میں پڑنے والے خلل کی وجہ سے حلق کے بل دھاڑ دھاڑ کر احتجاج شروع کر دیا تھا۔ اس کو بمشکل دوبارہ سلاتی وہ جمیل کے کپڑے دوبارہ تہہ لگا لگا کر الماری میں رکھنے لگی۔ کبھی کبھی دل کرتا کہ گیند بنا کر ایسے ہی ٹھونس دے جب روز اس نے بیڈ پہ ہی بکھیرنے ہوتے ہیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ واش روم کی طرف بڑھی جہاں ریت اور مٹی کے جوتوں کے نشان جابجا پڑے تھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ابھی دوبارہ پڑ جائیں گے اس کے باوجود وہ صاف کرنے لگی۔

جمیل دیکھیں ناں میں کتنی محنت سے واش روم صاف کرتی ہوں مگر آپ کے مٹی سے بھرے جوتے اسے دوبارہ سے ویسا ہی کر دیتے ہیں۔ آپ باہر آنے جانے والی جوتی الگ رکھیں اور اماں کے اور ہمارے واش روم کے لیے الگ الگ پلاسٹک کے چپل لا کر رکھیں۔ او بی بی! کیوں میرے بیٹے کا خرچہ کروا رہی ہو۔ کام کرنے سے نہ ہی کوئی مرتا ہے اور نہ ہی کسی کے ہاتھ پاوں ٹوٹتے ہیں۔ ماہ رانی سے بار بار واش روم نہیں دھویا جاتا۔ ابھی اس کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اسے دروازے پر کھڑیں نفیسہ بیگم کی کڑک دار آواز سنائی دی جو نجانے کب کمرے کے دروازے پہ آکھڑی ہوئی تھیں۔ اس نے کچن میں جا کر پتیلی میں جھانکا۔ اتنا شوربا پانی تھا کہ بس پانی ہی پانی تھا اور مرغی کی بوٹیاں غائب تھیں بس انجر پنجر ہی باقی رہ گئے تھے۔ ماما مجھ سے اتنا شوربا پانی سالن نہیں کھایا جاتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے چار سالہ طیبہ کا منہ بسورتا عکس لہرایا۔ ”چپ چاپ کھا لو ورنہ جاو یہاں سے“، وہ غصہ میں اسے چپ کروا دیتی تھی۔

اس کے علاوہ کیا بتاتی کہ تمہاری دادی بھنا ہوا سالن اور اچھی اچھی بوٹیاں دوپہر میں ہی کھا چکی ہیںجب کہ باقی وہ اپنے بیٹے جمیل کے لیے نکال کر علیحدہ کر چکی ہیں اور بچے کچے میں ڈھیر پانی انڈیل دیا جاتا۔ جس کی وضاحت وہ یوں دیا کرتی تھیں کہ وہ مرد ہے کما کر لاتا ہے اس لیے اس کے کھانے کا خیال رکھا کرو جب کہ وہ جواب میں یہ تک نہ کہہ پاتی کہ اماں بچیوں کو بھی نشو و نما کے لیے اچھی خوراک کی ضرورت ہے وہ بھی تو پڑھنے والی بچیاں ہیں۔ مجھے بھی تین ماہ کے دانش کے ساتھ اچھی خوراک کی ضرورت ہے مگر کچھ کہہ نہ سکتی تھی بس صبر کر جاتی۔ پتیلی کو ڈھک کر مڑی تو اس کی نظر گندے برتنوں پہ پڑی۔ کہیں پانی ہی نہ چلا جائے۔ جلدی سے آگے بڑھ کر نلکا کھولا مگر پانی جا چکا تھا۔

ارے بھابھی السلام و علیکم، دراصل میں نے چنے کا پلاو بنایا تھا تو سوچا کہ آپ لوگوں کے لیے بھی لے آوں۔ ہاتھ میں پلیٹ تھامے نجمہ کچن میں داخل ہوئی۔ شکریہ نجمہ، اس نے پلیٹیں خالی کرتے ہوئے دل میں خدا کا بھی شکر ادا کیا کیونکہ طیبہ کی پسندیدہ ڈش کا انتظام اس خدا نے خود ہی کر دیا تھا اور جہاں تک بات رہی بینش اور صاعقہ کی تو وہ صبر شکر کر کے شور با پانی بھی کھالیتی تھیں۔ کیا ہوا بھابھی؟ کچھ پریشان ہیں کیا؟ اس نے ہاتھ میں پکڑی خالی پلیٹیں دیکھیں اور ایک نظر نجمہ پہ ڈالتے ہوا کہا۔ ہاں بس پانی چلا گیا تھا نجمہ۔ ابھی برتنوں کا ڈھیر بھی ویسے ہی لگا ہوا ہے۔ مجھے بہت شرمندگی ہو رہی ہے کہ آپ کو پلیٹیں دھوئے بغیر واپس کر رہی ہوں۔
ارے نہیں بھابھی، کوئی بات نہیں۔ گھر والی ہی بات ہے۔ مگر آپ موٹر اور ٹینکی کیوں نہیں لگوا لیتیں؟ جب سے میں نے پانی کی موٹر اور ٹینکی لگائی ہے اس جھنجٹ سے جان چھٹ گئی ہے۔ صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔ آج آئیں گے جمیل تو بات کروں گی ان سے۔ اچھا بھابھی میں چلتی ہوں۔ دروازہ کھلا چھوڑ آئی تھی جلدی میں۔ وہ چلی گئی مگر صاعقہ کو دوبارہ ماضی یاد دلا گئی۔

جمیل اتنے برتنوں کا ڈھیر جمع ہوجاتا ہے پانی چلا جائے تو۔ آپ ٹنکی موٹر لگوادیں۔ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا۔ ”وہاں بھی عورتیں گزارہ کرتی ہیں جہاں ٹنکی نہیںلگی ہوتی۔ ٹب بھر لیا کرو پانی کا۔ موٹر لگوا دو، ایک الگ خرچہ اور بجلی کے بل، ان میں اضافہ الگ“، دوٹوک انداز میں بات کرتا وہ گھر سے ہی باہر چلا گیا تھا۔ اس دن سے صاعقہ ٹب بھر کر ہی گزارہ کر لیا کرتی۔ مگر ایک ہفتہ ہوگیا اس ٹب کو بھی ٹوٹے ہوئے۔ اتنی بار یاد بھی دلواتی رہی تھی مگر جمیل کے پاس فرصت ہی کہاں تھی گھر کے کاموں کے لیے۔ خراب انرجی سیور، ٹوٹے پھوٹے نلکے اور بہت سے مرمت کے کام سالوں سے یونہی پڑے رہتے اور صاعقہ یاد دلواتی تو نہ صرف ذلت اٹھانی پڑتی بلکہ لڑائی جھگڑے سے بچیاں بھی سہم جاتیں۔ لہذا صاعقہ کو یونہی گزارہ کرنا تھا۔

وہ نجمہ کی طرح اتنی خوش قسمت نہ تھی کہ جس کا شوہر اس کی ایک آواز میں ہر کام آگے سے آگے کر دیا کرتا تھا بلکہ وہ خود بھی ایک ذمہ دار انسان تھا۔ اپنی ذمہ داریوں کو خود بھی اچھے سے پورا کرنا جانتا تھا۔ تبھی نجمہ پورا گھر اکیلے سنبھال لیا کرتی تھی۔ وہاں کوئی نفیسہ بیگم نہ تھیں جو اس کے ہر کام میں ٹانگ اڑاتیں یا اس کو اپنی بیٹی کی تربیت کرنے سے روکتیں۔ مگر یہ صاعقہ کا گھر تھا جہاں ہر قصور صرف صاعقہ کا تھا۔

نلکے سے پانی گر رہا تھا۔ صاعقہ دوبارہ اللہ کا شکر ادا کرتی برتن دھونے لگی۔ آج تو قسمت بھی مہربان تھی کہ پانی جلدی آگیا تھا ورنہ نفیسہ بیگم اور جمیل احمد روز راے کو نشست لگاتے جس میں سارا دن کے کاموں میں کبھی کوئی ایک آدھ کام رہ جاتا تو صاعقہ کو وہ بد سلیقہ ہونے کے طعنے ملتے اور اماں نجمہ کے سگھڑاپے کو سراہتے بار بار دہراتی کہ دیکھو کیسے اکیلی نے پورا گھر سنبھالا ہوا ہے۔ مگر آج صاعقہ سوچ رہی تھی کہ تو سب کام ہوگئے ہو سکتا ہے آج کی رات اسے ایسا نہ سننے کو ملے۔

کچن سے فارغ ہو کر وہ دانش کا فیڈر تیار کرتی اماں سے آنکھ بچا کے نکلنے کی کوشش کر تی گزرنا چا رہی تھی۔ اے صاعقہ! یہ تیسرا فیڈر ہے۔ ذرا حساب کتاب سے چل۔ اس طرح تو ہمارا دیوالیہ نکلوائے گی تو۔ اس بڑھاپے میں بھی بہت تیز نظر کی مالک تھیں وہ۔ صاعقہ جلے دل کے ساتھ کمرے میں آگئی۔ اس کا دل نہیں کر رہا تھا کہ یہ فیڈر دانش کو پلاتی۔ اس کو فیڈر پیے تین گھنٹے ہوگئے تھے اور اب وہ بھوک سے بلکنا شر وع ہوگیا تھا۔ مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر بالآخر وہ اسے فیڈر پلانے لگی۔ پورا دن کام میں جتے اب کمر ٹوٹنے والی ہو گئی تھی۔ مگر پھر بھی اس نے آرام کرنا گوارہ نہ کیا۔ پہلے تینوں بچوں کو نہلا دھلا کر صاف ستھرا کیا اور پھر نہا دھو کر اماں کے کمرے میں چلی گئی جہاں وہ دونوں ماں بیٹا معمول کے مطابق نشست لگائے بہت دھیمی آواز میں نجانے کیا بات کر رہے تھے کہ اس کو دیکھتے ہی دونوں خاموش ہوگئے۔

صاعقہ پورے اعتماد سے مسکراتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گئی تھی کیونکہ آج تو گھر بھی مکمل صاف تھا۔ بچے بھی نہا دھوکے صاف ستھرے تھے۔ کچن بھی چم چم کر رہا تھا اور کوئی بھی کام ایسا نا بچا تھا کہ آج اس کو بد سلیقہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا۔ ابھی شام کو میں نجمہ کے گھر گئی۔ چھت سے کمبل لحاف اتار کے لا رہی تھی۔ میں نے پوچھا تو بتانے لگی۔ اماں سردیاں آنے والی ہیں نہ تو میں نے آج پیٹی کھول کر سارے لحافوں اور کمبلوں کو دھوپ لگائی ہے۔ ایک ہماری بہو ہے جسے اس بات کی فکر تک نہیں ہے۔ دنیا جہاں کا دکھ ان کے لہجے میں سمویا ہوا تھا۔

ہاں اماں صحیح کہہ رہی ہو اس میں تو گھرداری کا سلیقہ ہی نہیں ہے، جمیل نے بھی ماں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔ ارے گھر داری کا سلیقہ تو نجمہ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ وہاں تو کوئی اس کی ساس نہیں بیٹھی اسے یاد کروانے کو کہ بی بی لحاف بھی نکال کر دھوپ لگوا لو سردیاں آنے والی ہیں۔ اس نے اکیلی نے پورا گھر سنبھالا ہوا ہے۔ مگر ہماری بہو کو تو نہانے دھونے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔
اسے کل کی بات یاد آئی، جمیل آپ نے پیٹی پہ بہت بھاری سامان رکھا ہوا ہے۔ مجھ سے تو ہلتا بھی نہیں اور ڈاکٹر نے بھی منع کیا ہوا ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور لحاف کمبل، بات درمیان میں ہی رہ گئی۔
تم سے کتنی بار کہا ہے کہ جب میں خبریں سن رہا ہوں تو خاموش رہا کرو۔ جاو اور میرے لیے چائے بنا کر لاو۔ وہ اسے یہ نہ کہہ سکی کہ میں کب بات کیا کروں۔ ملازمت سے واپس آکر تو تم ایسے سوتے ہو کہ کسی بچے کو گھر میں سانس تک لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پھر تمہیں دوستوں کے پاس جانا ہوتا ہے اس کے بعد اماں کے پاس اور پھر خبرنامہ کی باری آتی ہے۔ اس کے بعد وہ اتنا تھی تھک جاتا ہے کہ اس کی کوئی بات سننے کا ویسے بھی روادار نہیں ہوتا۔

خاموشی سے اٹھ کر چائے بنانے چلی گئی۔ جب وہ واپس آئی تو وہ سو چکا تھا۔اماں اور جمیل ابھی بھی نجانے کیا کیا کہہ رہے تھے مگر وہ صرف سر جھکانے سنے جارہی تھی۔کیونکہ یہاں اس کو صفائی میں کچھ کہنے کی اجازت نہ تھی۔ ورنہ وہ بدزبان اور جہنمی ہونے کا طعنہ سنتی۔ اسے یہاں ہر بات پہ بس خاموشی سے سر جھکانا تھا اور رات یہ سن کر سونا تھا کہ ”ہر قصور اس کا ہے“ بلکہ اب تو اس کو بھی یہی لگنے لگا تھا کہ ”ہر قصور میرا ہے“

Facebook Comments