نظریہ پاکستان اور ہماری ذمے داری (راجہ عاصم زیب)

تئیس مارچ 1940کو جب منٹو پارک لاہور میں اس پاک سر زمیں کے چند سیاسی دماغوں نے سر جوڑے تو برصغیر میں رہنے والوں کو جدا کرنے کے لیے ایک نئے فلسفے نے جنم لیا اور اسی فلسفے کی بنیاد پر پاک سر زمین کا قیام عمل میں لایا گیا۔ فلسفہ کچھ ایسا تھا جو ہمیں مغرب سے بالکل جدا کرتا تھا۔ ہمارا سماجی نظام ہمارا شرعی نظام ہر عمل جدا جدا جس میں مغربی تہذیب سے لے کر معمولی اور پیچیدگیوں تک راستہ جدا ہونے کو تھے لیکن انگریزوں نے دور حکومت میں چند ایسے بیج بوئے تھے جس کی آبیاری کچھ اسی فلسفے کے لوگ کر رہے تھے۔ اب آبیاری میں اتنی پختگی ہو گی تو فصل تو پروان چڑھے گی۔ یہ فلسفہ اپنے مشکل ترین ایام میں سے گزر رہا ہے جہاں اسے بے شمار خطرات لاحق ہیں اپنے ہی محافظوں سے خیر۔ ہمیں ضرورت بھی کیا اس کے تحفظ کی ہمیں ہم تو آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں جو جی چاہے وہی کر رہے ہیں اچھے اور برے میں فرق کیے بغیر۔ منٹو پارک میں ہوئی تھی نہ اس فلسفہ کی باتیں چلو اب منٹو کی عینک سے دیکھتے ہیں اس معاشرہ کو۔ بات ہوگی اس کالم میں اس فلسفے کو رد کرنی والی کچھ رسموں کی۔ اس فلسفے کو رد کرنی والی دو وباوں کی۔ ایک تو ہے ٹھرک یعنی حوس اور اس کا تعلق سامنے والی مغربی تہذیب سے ہے۔

مجھے ہوس کی پیاس تھی اور یہ میرے کے لیے ناممکن تھا کہ مجھے کسی اور وسیلے سے راحت ملتی۔ میں نے رسم و رواج کو سہارا بنایا میں نے عورت کو مغربی تہذیب کا قائل کیا اور اسی روشن خیالی میں ہی اپنے وجود کو غلیظ کر ڈالا۔ میں نے اپنے ارد گرد موجود بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں وہ سیاست میں آپ سے قائل نہیں ہو سکیں گے وہ مذھب میں بھی قائل نہیں ہو سکیں گے۔ وہ تعلیم میں آپ سے قائل نہیں ہو سکیں گے لیکن آپ انھیں اختیاری محبت میں یا اس طرح کے نامناسب رسم و رواج اور اس طرح کی بے حیائی میں قائل کرکے دیکھیں ایسے معاملات میں ایک عورت بھی قائل ہو جاتی ہے اور مرد بھی۔دیکھیے ہم خود اپنے آپ کو ناپاک کر رہے ہیں مرد عورت کا دیوانہ ہے اور عورت مغربی آزادی کی دیوانی ہے۔ نہ ایک مرد اپنی بے حیائی کا قصوروار عورت کو ٹھہرا سکتا ہے نہ ایک عورت مرد کو۔

ہم دن بہ دن خود بھی ننگے ہو رہے ہیں اور ارد گرد معاشرہ کو بھی غلیظ کر رہے ہیں۔ہمارے اس طرح کے عمل،یہ رسم و رواج یہ دن منانے والے صرف اور صرف مغرب والوں کے پوجاری ہیں اور میرے سیاسی، معاشرتی، میرے علمی استاد علامہ اقبال نے ایک کا نتیجہ بھی بتایا تھا،”مغرب کی طرف جاوگے تو ڈوب جاو گے“۔ اگر یہ علامہ اقبال کا قول کسی انسان کے پلے نہیں پڑا اور وہ اس کے سمجھ نہیں سکا تو یقینا میں اگر اس پر ہزاروں کتابیں بھی لکھ وہ کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ علامہ اقبال کا یہ فلسفہ قابل ستائش ہے۔

جس ریاست کی آزادی کا فلسفہ اس کے مذہب سے جڑا ہو اور اس بنیاد پر آزادی حاصل کی گئی ہو کہ ایک مسلمان اور ایک ہندو/ عیسائی اور یہودی کے درمیان رسم و رواج کا بھی فرق ہے ان کا رہن سہن ان کی عبادت گاہیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن آزادی کے بعد ہم نے اس فلسفہ کو رد کر دیا۔ ہم مغربی تہذیب کے دیوانے ہیں ہمیں ان کے رسم و رواج ان کا اٹھنا بیٹھنا پسند ہے اگر یہی کام کرنے تھے تو ہمیں الگ مملکت کی کیا ضرورت تھی ؟یہ کام تو وہاں پہ بھی ہو جاتے۔ ہمیں اپنی تہذیب سے لگاو ہی نہیں ہے، اپنی ہی تاریخ کو اپنے ہی قدیمی رسم و رواجوں کو مسل رہے ہیں ہم اور ہر عمل پر انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ دیکھیے انسانیت کا مرتبہ و مقام ہے ان رسم و رواجوں نے انسانیت کی انتہا کی تذلیل کی ہے چاہے وہ رسم و رواج اپنی انفرادی حیثیت رکھتے ہوں یا اجتماعی۔

دوسرا اس فلسفہ کو ضرب لگانے والا عمل جو ایک امیر اور غریب کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے، اس فلسفہ کو بہترین اصول تو مساوات ہے کسی ایک شخص کو دوسرے پر کوئی فوقیت قبول ہی نہیں۔ چاہے وہ جس بنیاد پر بھی ہو مالی ہو جانی ہو یا کچھ اور یہ جو رسم پیدا ہوگئی ہے اس مملکت میں اس نے شدید نقصان پہنچایا ہے یہاں کی تہذیب کو کیوں کہ امیر طبقہ نے اپنی تعلیم بھی علیحدہ کر کی اپنا رہن سہن بھی علیحدہ کرلیا اور نیچے والے طبقہ کو حقوق سے پسماندہ رکھ پر ملک کے ہر ادارے پر قبضہ جمالیا امیر طبقہ تو اپنا قیبلہ مغرب کو مانتا ہے ۔انہی کا لباس انہی کا فلسفہ انہی کی مثالیں یقیناً میں اس میں پیدا ہونے والے فرق کو بھی اپنی اور فلسفہ کی ناکامی سمجھتا ہوں۔امیر غریب کو ننگا کر کے اپنا وجود ڈھانپتا ہے، امیر غریب کے بچوں کو محروم رکھ کر اپنی اولاد کے خوابوں کی تعبیر کرتا ہے، امیر غریب کے خون کو اپنا ایندھن بناتا ہے، امیر غریب کی گردن پر پاؤں رکھ کر اپنے آپ کو کامیاب بناتا ہے۔

اے اہل فکر! اے اہل ایمان! کیا یہ انسانیت کی تذلیل نہیں؟ غریب اپنی تذلیل جانتا ہے لیکن خاموش ہے۔ غریب اپنا استحصال جانتا ہے مگر بہتری کی امید رکھتا ہے۔ غریب اپنا خون تو بہاتا ہے لیکن چاہتا ہے اس پاک سر زمین میں خون ریزی نہ ہو لیکن اس کی بھوک دن بہ دن بڑھ رہی ہے، اس کا وجود دن بہ دن سرعام ننگاا ہو رہا ہے۔ اس کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے لیکن ایک دن انہی اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا۔

دیکھیے کسی نظام کو بہتر بنانے کے لیے آپ کو اس کے اصولوں میں رد و بدل کرنا پڑھتا ہے اور وہ اصول آپ کو علم سے ملتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغربی رسم ورواج سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے؟ دیکھتے یہ مغربی رسم ورواج ہمیں وراثت میں نہیں ملے، اس تہذیب نے بعد میں جنم لیا ہے اس کو جنم دینے والے عناصرتحقیق کا نہ ہونا اور بنیادی قوانین کا نفاذ شریعت کے عین مطابق نہ ہونا۔اب تحقیق سے کیا مراد لیں ہم تحقیق یعنی علم میں غور و فکر نہ کرنا اب غور و فکر نہیں ہو گی تو علم کی اہمیت کم ہو گی ،تحقیق نہیں ہوں گی ہماری ساری کی ساری معیشت دوسروں کی محتاج ہو گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آزاد اور خود مختارقوم ہونے کی حیثیت سے دو قومی نظریے کو سمجھیںاور اس کے فلسفے کو عملی طور پر اپنائیں۔

Facebook Comments