بھارت دنیا کا انوکھا ملک ہے جہاں دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس میڈیا اور حکومت ہر وقت جنگ کی دھمکیاں دیتے ہوئے حملوں کے لیے تیار رہتی ہے۔ پیسے لیکر کچھ بھی کرنے اور کوئی بھی جھوٹی خبر چلانے والے بھارتی اینکر دن رات چیخ چیخ کر اپنی فوج کو مشکل میں ڈالتے رہتے ہیں۔ ایک معروف امریکی جریدے نے گزشتہ سال انکشاف کیا تھا کہ بھارت دہشت گردوں کی جنت ہے اور 317 دہشت گردی کیمپوں کی موجودگی کے باعث دنیا کا سب سے خطرناک ملک اور دہشت گرد حملوں میں ہلاکتوں کے لحاظ سے عراق کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے، جبکہ علیحدگی زور پکڑتی تحریکوں کے باعث بھارت 2025ءتک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ بھارت میں اس وقت 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں اور ان تحریکوں نے دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ صرف آسام میں 34دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے، جبکہ نکسل باڑی تحریک نے خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ اس وقت بھارت میں ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام میں یہ تحریکیں عروج پر ہیں، جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردیاہے، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے۔

چین، لداخ اور ارونا چل پردیش پر نظریں گاڑے بیٹھا ہے اور نہ صرف کشمیر بلکہ اروناچل پردیش کے شہریوں کو چین کے ویزا سے مستثنیٰ قرار دے چکا ہے۔ بھارت مسلسل الزام لگارہا ہے کہ چین اروناچل پردیش اور لداخ میں مداخلت کرکے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر حصوں بہار، آندھرا پردیش، مغربی بنگال پر بھی اثرڈالا ہے۔ بھارت میں آزادی کے لیے مسلسل عسکریت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنی گھر سے دہشت گردی کو پاک کرنے کی بجائے بھارت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کروا کر پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی سے متاثرہ ملک متعارف کروا رہا ہے۔ دنیا بھر کو بخوبی علم ہے کہ بھارت میں ہمیشہ پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ووٹ دیے جاتے ہیں۔

پاکستان دشمنی تو ہمیشہ سے ہی بھارت کاانتخابی نعرہ رہی ہے۔ اس مرتبہ مودی نے اسے جارحیت میں بدلنے کی کوشش کی۔ پہلے پلوامہ سانحہ اور اس میں پاکستان پر الزام تراشی، پھر دو قدم آگے بڑھ کر پاکستان پر نام نہاد فضائی حملہ لیکن ہمارے بھرپور جواب کے بعد مودی کی جارحیت دودھ کے ابال کی طرح بیٹھ گئی۔اس جارحیت کی وجہ سے بھارت کو جنگی اور سفارتی محاذ پر شدید شرمندگی اٹھانا پڑی۔ پاکستان کے بہتر اور پر امن برتا¶ نے نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی مودی اور اس کی حکمران جماعت کو شکست فاش دی۔ بھارتی عوام نے بھی اپنی سرکار کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا۔ یعنی اب تو انتخابات میں شکست یقینی ہوگئی۔ بھلا دہشت گرد اور انتہا پسند بی جے پی اور مودی کب اس شکست کو برداشت کرنے والے ہیں، انہوں نے فیصلہ کیا کہ الیکشن کا جو بنے گا سو دیکھا جائے گا لیکن پاکستان کو ضرور جواب دینا ہے۔ لہذا جنگی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو تیز کرنے کے لیے اپنے پرانے دوستوں اور ایجنٹوں سے رابطے کیے گئے۔ ایم کیو ایم لندن، براہمداغ بگٹی اور پی ٹی ایم سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کو اربوں روپے کی فنڈنگ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھارت نے پاکستان کے خلاف ہزاروں نہیں لاکھوں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنوائے ہیں جن کے ذریعے مذہبی نفرت پھیلانے، صوبائی عصبیت پیدا کرنے اور حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے اور جعلی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا کام کیا جائے گا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان آئی ڈیز کو افغانستان، ساؤتھ افریقہ، لندن اور بھارت سے آپریٹ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جعلی مدارس اور دہشت گردی کے کیمپس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جائیں گی۔ اس خوفناک منصوبے کے لیے انتہا پسند ہندوؤں کو باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے جنہوں نے مسلمانوں کی طرح داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں اوران کو مسلمان ظاہر کر کے پاکستان بھیجا جائے گا جہاں ان کی ایسی ویڈیوز بنائی جائیں گی کہ مسلمان دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کو چلا رہے ہیں۔ پھر انہی لوگوں کو بھارت گرفتار کرکے پاکستان کے خلاف میڈیا وار کے تحت پروپیگنڈا کرے گا جس کا بنیادی مقصد پاکستان پر عالمی اداروں کا دباو بڑھا کر ایران طرز کی پابندیاں لگوانا ہے۔ پاکستان میں دنیا کے بڑے تجارتی منصوبے سی پیک کی دن بدن کامیابی سے گھبرایا بھارت دنیا کے بڑے ملکوں سعودی عرب، روس، ملایشیا وغیرہ کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے روکنے کے جواز تلاش کر رہا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد یہ ممالک بھارت کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور گوادر پورٹ ایک عالمی تجارتی مقام بن جائے گا۔

دنیا میں دبئی کو سمندر رستے تجارت کے سلسلے میں اہم اہمیت حاصل ہے لیکن سی پیک کے شروع ہوتے ہی دبئی کی اہمیت میں واضح کمی آنے کا امکان ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت پاکستان بھی سیاحوں کو پاکستان لانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ کرکٹ کے نامور ٹورنامنٹ پاکستان سپر لیگ کے پاکستان میں میچز کے انعقاد اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سے بھارتی پروپیگنڈا بے اثر ہو چکا ہے۔ انہی حالات میں بھارت میڈیا مودی پارٹی بی جے پی سے پیسے لے کر پاکستان مخالف سرگرمیوں پر مشتمل خصوصی نشریات چلا رہا ہے۔ دوسری طرف بھارتی اپنی فوج بدترین حالات میں گھری ہوئی ہے۔ اس وقت فوج کو سات ہزار سے زائد افسران کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چند روز قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھارتی فوج سے متعلق ایک خبر شائع کی جس کی شہ سرخی ”بھارت کی فوج فارغ ہے“ تھی۔

امریکی اخبار نے لکھا کہ ”اپنی سے آدھی اور چوتھائی بجٹ والی پاکستانی فوج سے دہائیوں بعد پہلے مقابلے میں بھارتی فوج شکست فاش سے دوچار ہوئی“۔ پاکستانی فوج کے ہاتھوں اس ذلت نے بھارتی فوج کا عالمی تاثر بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایسی فوج کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے جس کو امریکہ کی مکمل مدد حاصل ہے، یہ مختصر معرکہ بھارتی فوج کے لیے ایک امتحان تھا لیکن شکست نے مبصرین کو حیران کردیا ہے۔اخبار نے بھارتی حکومت کے اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی تو بھارت اپنے فوجیوں کو صرف 10 دن تک اسلحہ وبارود فراہم کر سکتا ہے۔ بھارتی فوج کے 68 فیصد آلات اتنے پرانے ہیں کہ انہیں ونٹیج یعنی قدیم قرار دیا جاچکا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود بھارتی افواج کے پاس جدید اسلحہ نہیں ہے۔ اخبار کے مطابق دفاعی سودوں میں کرپشن بھارتی فوج کو جدید بنانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ چند سال کے دوران بھارت کے لیے امریکی اسلحے کی فروخت صفر سے پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے لیکن بھارتی افواج کی ناقص تربیت اور دفاعی کمزوریوں کی وجہ سے امریکی حکام تشویش کا شکار ہیں۔2018 میں بھارت نے اپنی فوج کے لیے 45 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا اور فروری 2019 میں بھی 45ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جنگی جنون اور خطہ میں حکمرانی کے خواب میں مبتلا بھارت دنیا میں اسلحہ کا دوسرا بڑا خریدار بن گیا۔ فروخت ہونے والے اسلحہ کا کل 9.5 فیصد بھارت خریدتا ہے۔

بھارت 58 فیصد اسلحہ روس اور 15 فیصداسرائیل اور 12 فیصد امریکہ سے خریدتا ہے۔ گلوبل تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیش ریسرچ انسٹیٹیو ٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نومبر میں 59 ارب کی لاگت سے رافیل طیارے بھی خریدے گا۔ جبکہ بھارت روس سے 40 ارب مالیت کا ایس 400، میزائل سسٹم خریدے گا۔ بھارت کی حکومت اور میڈیا جہاں پاکستان کو مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہیں بھارتی فوج مسلسل پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور جنگ سے پرہیز کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ ایسے حالات میں مودی حکومت کی پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں کشیدگی اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام کا باعث بنے گی۔ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنا گھر صاف کرے اور مسلسل جنگی سازو سامان خریدنے کے بجائے عوام کے پیسے عوام پر ہی خرچ کرے۔

Facebook Comments