ہر عورت عزت کے قابل ہے (ملک نذیر اعوان)

اسلام نے عورت کو ایک عزت اور مقام دیا ہے۔ اگر ایک عورت مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کو بھی وہی مقام اور عزت دینی چاہیے جو ہم اپنی ماں ،بہن اور بیٹی کو دیتے ہیں۔ دور جدید میں بھی عورت پرہونے والی نا انصافیوں پر اگر دیکھیں تو اسلام سے پہلے کا دور جہالت یاد آ جاتا ہے۔ دور جہالت میں عورت کی کوئی قیمت نہ تھی اور اسے اپنی زندگی گزارنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ جیسے کوئی بھیڑ یا بکری پالنے والا جب چاہے باند دھ دے۔ جب چاہے اسے فروخت کر دے۔ عورت دورِ جہالت میں عرب اور یونانی معاشرے کا مظلوم ترین طبقہ تھی ایک مرد جتنی عورتوں سے چاہے شادی کر لیتا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی عورتوں کے حقوق میں ہر قانون سازی کے باوجود عدم تحفظ اور جنسی زیادتی کا خوف مسلسل برقرار ہے۔

دنیا بھر میں نوجوان لڑکیوں کی اکثریت جنسی زیادتی کے خوف کی وجہ سے ڈری اور سہمی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور لڑکیا ں یہ محسوس کرتی ہیں کہ انھیں دنیا میں آزادی کے ساتھ اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں اور دیکھنے میں جو نتائج اور حقائق سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ غریب ترین عورتوں میں رہنے والی لڑکیاں دنیا کی کم ترین مخلوق خیال کی جاتی ہیں اور جن کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی اورترقی کے لئے سخت ترین رکاوٹو ں کا سامنا ہے اور عورت کو کئی مراحلوں سے گزرنا پڑتا ہے انھیں اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں اس قدر مشکلات در پیش ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اٹھ بیٹھ بھی نہیںپاتیں۔ یہاں تک کہ شادی کے بعد جس گھر میں جاتی ہیں شادی سے پہلے ان کے بارے میں ان کو کوئی علم نہیں ہوتا ان کی شادی کے بعد زندگی بدل جاتی ہے اور دبے سہمے ماحول میں پرورش پا کر جوان ہونے کے بعد ایک نیا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ہر اس عورت کی ایک الگ ہی کہانی ہے جو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہے۔جب کسی عور ت کے سر سے اس کے سربراہ کا سایہ اٹھ جائے اور گھر والوں کی ذمے داری اٹھانے کے لیے کوئی اور مرد بھی موجود نہ ہو تو پھر سب ضروریات پوری کرنے کے لئے عورت کو مجبور اٰٰ گھر سے نکلنا ہی پڑتا ہے جس کی اجازت ہمارے مذہب میں بھی ہے۔ مگر معاشرہ ملازمت پیشہ خواتین کو عزت کی نگاہ سے نہیں دکھتا ہے۔ طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اگرمعاشرے میں کسی مرد کو اکیلی عورت کا پتا چل جائے کہ یہ ملازمت پیشہ ہے اور ان کا کوئی ولی وارث نہیں بری نظروں سے گھورنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں ۔

پردہ اسلام نے عورت کے تحفظ کے لیے ہی فرض کیا ہے۔ پردے میں عورت ان تمام باتوں اور ایسی فضول گوئیوں سے بھی بچتی ہے۔ یہاں پر بھی ایک مسئلہ ہے کہ با پردہ خواتین ملازمت کے لیے باہر نکلتی ہیں تو قابلیت اور جاب کے معیار کے مطابق ہونے کے باوجود ان کو صرف اس لیے ملازمت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ حجاب لیتی ہیں۔ اسلام کی رُو سے بھی پردہ بہت اہم ہے۔ اسلام نے عورت کو ایک مقام اور عزت دی ہے اس لیے عورت کو وہی مقام دینا چاہیے جو اپنے گھر میں ہم اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو دیتے ہیں ۔ سوچیں کہ اگر ہم کسی کی عزت کو بری نگاہ سے دیکھیں گے تو کوئی ہماری عزت کو بھی ویسی نگاہ سے دیکھے گا۔

اسلام نے نہ صرف اپنے گھر کی عورت کی عزت کا حکم دیا ہے بلکہ یہ حکم دوسری عورتوں کے لیے بھی دیا ہے۔ بحیثیت انسان اور مسلمان ہمیں ایسی خواتین کی مجبوریوں کو سمجھنا چاہیے۔ عورتو ں کے مسائل حل کرنا چاہیے ان کومعاشرے میں آگے بڑھنے کی ہمت دینی چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ ان خواتین کو بھی معاشرے میں جینے کا حق حاصل ہے۔

Facebook Comments