گزشتہ روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مسجدوں پر جنونی عیسائی دہشت گردوں نے حملہ کیا ، جس سے جمعہ کی نماز میں مشغول 50بے گناہ و نہتے مسلمان شہید ہوگئے اور 47کے قریب زخمی ہوئیں ۔ یہ کوئی پہلا واقع نہیں کہ جس میں مسلمانوں کو اس طرح دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے قبل بھی دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمانوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کیا جاتا رہاہیں، صرف غیر اسلامی ممالک میں نہیں مسلمان ممالک میں بھی مسجدوں پر دھماکوں اور فائرنگ واقعات تسلسل کے ساتھ رونماہوتے رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیش آنے والے واقع نے جہاں پورے مسلم امہ کو جھنجوڑا وہی پر عالمی دنیا میں بھی چوں چراں شروع ہوگئی، ابتداءمیں تو مسجد میں قتل عام کرنے والے گرفتار برینٹن ٹارنٹ نامی دہشت گرد کو ذہنی مریض قرار دیا گیا تھا مگر جلد ہی اسے دہشت گرد مان لیا گیا۔ 11ستمبر 2001 کے بعد دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں اگر کوئی مسلمان شخص ملوث نکلتا ہے تو وہ دہشت گرد اور انتہا پسند کہلاتا ہے اور اگر کسی غیر مسلم نے کیا تو یہ یاتواس کا ذاتی فعل کہلایا جاتاتھا یا پھر اس کو نفسیاتی مریض قرار دیا جاتا ہے مگر یہ پہلا واقع میرے نظر میں آیا کہ جس میں غیر مسلم حکمرانوں نے ہلکی پھولکی مذمت کی اور مجرم کو دہشت گرد کہا ،” ورنہ ایسا ہوتا نہیں ہے“ ۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنے تعزیتی ٹوئٹ میں کہاکرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردی کے حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔خُدنیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گردانہ حملہ ہے۔اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بھی کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک نا قابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔آسڑیلیا کے وزیر اعظم نے بھی شدید مذمت کی اور دہشت گرد برینٹن ٹارنٹ کو دائیں بازوں کا ایک دہشت گرد قرادیا (واضح رہے دہشت گرد برینٹن ٹارنٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے)

گزشتہ کئی سالوں سے کچھ مسلمان حکمران اور مصنفین چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دہشت گر دوں کا کوئی مذہب نہیں مگرعالمی دنیا ماننے کو تیار ہی نہیں وہ مسلسل دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑ نے میں مصروف ہے ، گزشتہ روز ہونے والے المناک سانحے نے ان مسلم حکمران اور مصنفین کو سچا ثابت کردیا ۔ جنونی عیسائی حملہ آورجو ایک کار میں آیا اپنے ساتھ کئی اقسام کے بندوقیں اور بارودی مواد بھی لیکر آیا ،اس کی کار میں ایک نغمہ چل رہا تھا یہ وہ نغمہ ہے جسے بوسنیا جنگ میں سرب قوم پرست عیسائی ترانے کے طور پر بجاتے تھے۔اس نغمے میں سرب عیسائی لیڈر رادوان کرادوچ کی شان میں قصیدے گائے جاتے ہیں۔ رادون کرادوچ اب جنگی جرائم کی پاداش میں سزا پا چکے ہیں۔حملہ آور نے اپنی گن پر ایسے لوگوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے جو مسلمانوں یا تارکین وطن کو قتل کرنے کے جرم میں سزا پا چکے ہیں ، اس کے ساتھ ماضی کے عیسائی حکمرانوں نام ا ور صلیبی جنگوں کےتاریخیں بھی تحریر تھی بندوقوں پر۔

نیوزی لینڈ میں مسجدوں پر ہونے والے حملے اور 50سے زائد شہید ہونے والے مسلمانوں کی قتل عام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، مگر ایسے واقعات کی روک تھام کیسے ممکن ہے اور کس کی ذمہ داری ہے؟ اس پر غور کی اشد ضرورت ہے ۔ دنیا میں جتنے بھی بے گناہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے یا ہورہے ہیں اسلام سب کی مذمت کرتا تھا کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔

اسلام جو ہر بے گناہ انسان کی قتل کو پورے انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے آج اس کے ماننے والوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہاہے ، پہلے اگر دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی بھی اگر کسی مسلمان کو قتل کرتا اوراس کی خبر کسی مسلم حکمران کو لگتی تو وہ فوری طور پر اپنے مسلمان بھائی کو انصاف دھیلانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ، مگر اب حالات پلٹ گئے ہے ، آج کے حکمران انصاف تو دور کی بات مذمت کرنے سے بھی گھبراتے ہے ، حالیہ واقع کی مذمت پاکستان کے وزیر اعظم اور چند دیگر حکمرانوں کے سیوا پوری عالمی مسلم دنیا خاموش رہی ، پاکستان سمیت کسی نے بھی ملزم کو قرار واقع سزا کامطالبہ نہیں کیا نیوزی لینڈ حکومت سے ۔

اکستان میں ایک عیسائی عورت نبی پاک ﷺ کی شان میں توہین کرتی ہے اور پاکستان کی عدالتیں اس ملعون کو پانسی کی سزا سناتی ہے ، اس کی سزا کے خلاف پوری عیسائی دنیا ایک آواز بن کر اٹھتی ہے اور اس کو پاکستان سے چھڑانے میں کامیاب ہوجاتی ہے ، مگر مسلم حکمران اتنے بے بس ہوگئے ہے کے اپنے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام کو نہیں روک پارہے ہیں، آج مسلمان حکمران غفلت و عیاشی کی نیند سویا ہوا ہے ۔

گر آج مسلمان حکمران جاگ جائیں اور عیش وعشرت و غفلت کی زندگی کو طرز اسلامی میں بدل لیں تو یقینا ان کے سوئے ہوئے احساسات جاگ اٹھیں۔ انھیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی تکلیف و بے بسی اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کا احساس ہوگا۔ یقینا وہ حدیث پاک ﷺبھی یاد آجائے گی کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم میں جہاں بھی تکلیف ہوگی اس کا احساس ہر مسلمان کو ہوگا۔
آج سانحہ کرائسٹ چرچ پر ہر ذی شعور شخص افسردہ ہے ، مگر کوئی اسے سانحات کے روک تام پر بات نہیں کر رہا ہے ، ہمارے ماضی کے حکمران جنہوں نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا مگر ہمارے حال کے حکمرانوں نے ماضی پر پانی ڈال دیا۔ہمارے قریب ترین ماضی کے حکمرانوں کی مسلمانوں کے لیے کی جانی والی کوشش پر ہلکی سی روشنی ڈالتا چلوں آزادی پاکستان کے بعد ہندوستان کے حکمراں جوہر لال نہرو کے ساتھ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں واضح طور لکھا ہے کہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے ساتھ اگر کوئی ظلم ہوتا ہے تو پاکستان اس کی روک تام کے لیے ہندوستان پر دباﺅ ڈھال سکتا ہے اور نہ ماننے کی صورت میں وہ عالمی دنیا کے پاس جانے کا حق رکھتا ہے ، ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر پاکستان کی آواز اٹھانے کو ہندوستان اپنا اندرونی مسئلہ نہیں قراردے سکتاہے، اس معاہدے پر آج پاکستان کا حکمراں طبقہ کتناعمل پیرا ہے وہ سب کو پتا ہیں۔

جب تک موجودہ مسلمان حکمران اپنے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر عمل پیرا نہیں ہونگے، تب تک”مسلمانوں کو سانحہ کرائسٹ چرچ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا“۔ ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ یااللہ تو ہی ہم سب مسلمانوں کی حال پر رحم فرما اور ہمیں اچھے حکمراں عطا فرما(آمین)

Facebook Comments