وڈیو چل رہی تھی۔ اسٹیڈیم میں ماحول گرما گرم تھا۔ دو ٹیمیں مدمقابل ہوتی ہیں پر آج ٹیم نہیں فوجی میدان میں اتارے جارہے تھے۔ تھی تو ٹیم مگر پردھان منتری کی جانب سے خصوصی پیغام تھا کہ فوجی بن کر جھپٹنا ہے اور مدمقابل کو اپنا روایتی حریف سمجھ کر چاروں شانے چت کردینا ہے۔ ٹیم کے لیے خصوصی فوجی کیمپ سے تیار شدہ ایک ایک ٹوپی پہنا دی گئی تاکہ احساس فوجیاں بھی نمایاں رہے۔ ٹوپی بھی کیا چیز ہے جسے پہنا دی جائے وہ خود کو فوجی سمجھنے لگتا ہے اور اس وقت بھی وہی ہوا۔

بلے بازی شروع ہوگئی۔ فوجی کھلاڑیوں کا مرال اپ سے اپ تر تھا مگر پھر اچانک ڈاﺅن کی جانب بڑھنے لگا۔ کئی بار فوجی نما کھلاڑیوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر شکوا بھی کیا کہ یہ ٹوپی آج لے ڈوبے گی۔ ہر گیند کے ساتھ فوج نما کھلاڑیوں کی حالت خراب ہورہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک مدمقابل پڑوسی ملک کے چھورے نے چار سو رنز بنا ڈالے۔

میچ تھا سو میچ میں ہار جیت اور یہ چار پانچ سو رنز کا بننا تو روز کی بات ہے یہ کہہ کر ان فوجی ٹوپی پہلے کھلاڑیوں نے دل کو دھلاسا دیا اور پھر میدان سے نکلنے لگے۔ شائقین میں سے کسی نے آواز کسی ”پھوج کی ٹوپی پہن کر خود کو پھوجی سمجھ لیے تھے کا“۔ یہ ان کے اپنے ہی دیش کا ناگرک تھا۔ فوجی ٹوپی پہنے کپتان کو بہت غصہ آیا اس نے ٹوپی سر سے اتار کر پھینکنے کا موڈ بنا ہی لیا تھا مگر ”۔۔۔۔ ماتا کی جے“ یاد آگئی اور اس دیش دروہی حرکت سے باز آگیا۔

یہ تھی کہانی فوجی ٹوپی والے کھلاڑیوں کی۔ کچھ ہی دن قبل اسی فوجی ٹوپی والا ایک پائلٹ بھی پڑوسی ملک تشریف لایا تھا۔ وہاں بھی اسے اسی ملک کے کچھ چھورے مل گئے تھے۔ جب یہ واپس گیا سینہ چوڑا تھا۔ خیر سے یہ سپاہی بھی اپنے دیش پہنچ گیا۔ آج یہ دونوں فوجی ٹوپی والے اکیلے میں بیٹھ کر سوچتے ضرور ہوں گے کہ یہ پڑوسی ملک والوں کو نہ جانے اس فوجی ٹوپی سی ایسی کیا چڑ ہے کہ جہاں دیکھتے ہیں دھو ہی دیتے ہیں۔

ہاں بتانا بھول گئے۔ وہ جو کھلاڑی تھے ان کو ٹوپی پہنانے کا مطلب بعد میں ہمارے فواد چودھری نے بتایا کہ یہ دراصل ایک پیغام تھا پاکستان کے لیے مگر بدقسمتی سے وہاں ان کو اغیار کے گیارہ کھلاڑیوں میں سے ایک وہی ٹکرایا تھا جو پاکستانی تھا۔آسٹریلیا کی ٹیم میں شامل پاکستانی کھلاڑی خواجہ عثمان نے بھارتیوں کی فوج کو شکست سے دو چار کیا جو کھیل کے میدان کو بھی میدان جنگ سمجھ کر آئے تھے۔

بھارت کا جنگی جنون کچھ روز سے عروج پر پہنچا ہوا ہے۔ سرکار سے لے کر سیاست تک، کچھ عوام سے لے کر پورے میڈیا تک۔ فوج سے لے کر کھلاڑیوں تک اس جنگی جنون کو عروج دیا جارہا ہے۔ یہ ٹوپی والا سین بھی گزشتہ روز کے میچ میں دیکھنے میں آیا تو یہ بھی اسی جنگی جنون کے عروج کی جھلک تھی۔ پاکستان پر حملے کی سازش، ایبٹ آباد والی بے تکی کارروائی، واویلہ، پائلٹ کی دراندازی اور پھر مار کھانا اور پھر واپس بھی چلے جانا۔ یہ سب اسی جنگی جنون کا حصہ تھے۔ بھارتی جنگ جنون کب کیسے ختم ہوگا یہ تو بھارت جانے مگر پاکستان کی سیاست، میڈیا، افواج، حتی کہ کھلاڑی تک سب ہی جواب دینے کے لیے پر عزم ہیں۔ جواب بھی ایسا کہ جس میں نرمی ہے، کردار ہے اور امن ہی امن ہے مگر جواب بھی منہ توڑ ہے۔

یہاں ایک مختصر سا کردار آئی سی سی کا بھی سامنے آتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کلب نے غزا کے حق میں پٹی باندھنے پر ہاشم آملہ کے خلاف کارروائی کرلی جس کی ٹوپی پر لکھا تھا سیو غزا۔ (save Gaza) مگر اتنے سارے ٹوپی بازوں کی ٹوپیاں نظر انداز کیوں؟ جو آئی سی سی چھوٹی چھوٹی باریکیوں پر کئی کئی ماہ کے لیے کھلاڑیوں کو میدان سے ہی نکال باہر کرتا ہے اسے یہ سب کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آئی سی سی کی ایک بڑی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے، اس کے پس پردہ عزائم کو سمجھے اور پھر اس قانون کے تحت مکمل کارروائی کی جائے۔

فواد چودھری کی جانب سے پریس کانفرنس میں اس معاملے کا اٹھایا جانا احسن قدم ہے۔ پاکستان اس معاملے کے خلاف ریاستی ذمے داری ادا کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور یہ بھی بہت اچھا قدم ہوگا۔ اس طرح سے سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے اور اس پر بات ہونی چاہیے البتہ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی جانب سے رویہ نرم رکھنا چاہیے۔ یہ بات وہاں نہیں یہاں بھی سمجھنے کی ہے کہ کھیل کو کھیل کی حدتک دیکھنا چاہیے۔ کھیل میں جنگی جنونیت کا عنصر کسی صورت درست نہیں۔ یہ تاثر پیدا کرنا کہ اب جیسے میدان سج گیا اور دوطرفہ گولا باری ہوگی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری طرف اب بھارت کو یہ بات سمجھ آجانی چاہیے کہ جب تک ان کا جنگی جنون نہیں ختم ہوتا پاکستان کا ہر فرد وہ چاہیے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہے وہ جواب دے گا البتہ یہ جواب امن کے ذریعے ہی ہوگا اور منہ توڑ ہوگا۔ بھارت اپنا جنگی جنون جنگ کے میدان تک محدود رکھے۔ کھیل کو کھیل کی حد تک ہی رکھا جائے۔ یاد رکھیے گا! حد سے گزر تو جائیں گے آپ مگر ۔۔۔۔ اگر پاکستانی مل گیا تو پھر کدھر جائیں گے آپ۔۔۔۔

Facebook Comments